تحریک پاکستان کے نڈر مجاہد

تحریک پاکستان کے نڈر مجاہد
تحریک پاکستان کے نڈر مجاہد

  

تحریک پاکستان یوں تو 1857 کی جنگ آزادی سے لے کر 1947 تک تقریباً 90سال کی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔جس میں کہیں سر سید احمد خان کی تعلیمی کاوشیں ہیں، تو کہیں کانگرس کا قیام، مسلم لیگ کا قیام شامل ہے تو کہیں تحریک خلافت،کہیں تحریک ریشمی رومال تو کہیں تحریکِ ترکِ موالات، کہیں دو قومی نظریہ کے تحفظ کی بات ہوئی تو کہیں مسلمانوں کی سیاسی و معاشی ترقی کی،اردو زبان کے تحفظ کی بات ہوئی تو کہیں  ہندوؤں کے تعصب سے نجات کی،کہیں علامہ اقبال  کی گول میز کانفرنس میں شرکت تو کہیں لاہو ر میں قرارداد پاکستان کا منظور ہونا۔اس دوران مختلف شخصیات نے مختلف ادوار میں اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کیا۔لیکن ایک شخصیت ایسی ہے جن کی خدمات  اس پورے عرصے پر محیط ہیں، وہ ہیں  امیر ملت سید جماعت علی شاہ ۔آپ علی پور سیداں ضلع نارووال میں 1834 میں پیدا ہوئے اور 1951 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔پاکستان اور عالم اسلام کے لئے ان کی گرانقدر خدمات ہیں۔

 حکیم الامت علامہ اقبالؒ کو امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ   سے گہری عقیدت تھی۔ ایک بار امیر ملت کی صدارت میں انجمن حمایت اسلام کا جلسہ ہو رہا تھا۔ جلسہ گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ علامہ اقبال ذرا دیر سے آئے اور امیر ملت کے قدموں میں بیٹھ کر کہا: ”اولیا ء اللہ کے قدموں میں جگہ پانا بڑے فخر کی بات ہے۔“ یہ سن کر امیر ملت نے فرمایا: ”جس کے قدموں میں ”اقبال“ آ جائے اس کے فخر کا کیا کہنا۔“

علامہ اقبال کے آخری ایام کا ذکر ہے۔ ایک محفل میں امیر ملت نے کہا: ”اقبال! آپ کا ایک شعر ہمیں بے حد پسند ہے۔“ پھر یہ شعر پڑھا: 

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا 

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں 

علامہ اقبال کی خوشی دیدنی تھی چنانچہ آپ نے کہا: ”ولی اللہ کی زبان سے ادا ہونے والا میرا یہ شعر میری نجات کیلئے کافی ہے۔“

1944ء میں حضرت قبلہ عالم پیر سید جماعت علی شاہ کا کشمیر کا آخری دورہ تھا۔ انہی دنوں رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس (جنہوں نے مسلم لیگ اور قائد عظم کے پیغام کو مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کشمیر کی ہر گلی اور بستی میں پہنچایا) کی دعوت پر قائد اعظم محمد علی جناح سری نگر تشریف لائے۔چوہدری صاحب حضرت قبلہ عالم  رحمتہ علیہ کے عقیدت مند اور مسلم لیگ کے بہت بڑے کارکن اور کشمیر کے عظیم رہنما تھے۔حضرت کو قائد اعظم کی آمد کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ڈاکٹر عبد الاحد کی معرفت قائد اعظم کی دعوت کی، انہوں نے جواباً کہلوایا کہ یہاں آپ بھی مسافر ہیں۔دعوت کی کیا ضرورت ہے؟ البتہ ملاقات کیلئے حاضر ہو جاؤں گا۔ آپ نے عذر قبول نہ کیا اور نہایت وسیع پیمانے پر دعوت کی تیاریوں کا حکم دے دیا اور آپ اس وقت خواجہ عبد الاحد کے مکان پر قیام پذیر تھے،وہیں سارے مہمان جمع ہوئے تھے،بہت بڑا ہال تھا سارے ہال میں قیمتی قالینوں کا فرش تھا اور انہی پر دسترخوان بچھا کر کھانا کھلایا گیا تھا۔ غلام محمد صاحب کو حکم ہوا کہ تم باورچی کا انتظام کرو، انہوں نے سارا انتظام کیا اور چوبیس گھنٹے کھانے پکتے رہے۔ پینتالیس قسم کے کھانے تیار کرائے گئے تھے۔

مقررہ وقت پر قائد اعظم چوہدری غلام عباس کے ہمراہ تشریف لائے دونوں قائدین کے دوسرے رفقاء  اور حضرت قبلہ عالم کے یارانِ طریقت جو کثیر تعداد میں مدعو تھے جمع ہو گئے۔ قائد اعظم سے حضرت قبلہ عالم رحمتہ علیہ نے کھڑے ہو کر معانقہ کیا اور اپنے بستر پر بیٹھنے کی فرمائش کی تو قائد اعظم نے انکار کر دیا۔ آپ نے پھر اصرار فرمایا تو انہوں نے کہا بے ادب اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا کرتا،میرا مقصد پاکستان بنانا ہے،مجھے اس مقصد سے محروم نہ کریں۔ اس پر حضرت قبلہ عالم رحمتہ علیہ فوراً بیٹھ گئے اور قائد اعظم سے کہا،آپ جہاں پسند کریں تشریف رکھیں۔ بابائے قوم آپ کے پاس ہی قالین پر بیٹھ گئے ذرا سے وقفے کے بعد ہاتھ دھلائے گئے اور دستر خوان بچھادئیے گئے۔ حضرت نے قائد اعظم کے سامنے ایک خالی پلیٹ رکھواد ی اور اس میں تھوڑا تھوڑا کھانانکال کر دیتے رہے۔ قائد اعظم ماکولات کی کثرت سے حیران تھے اور کہتے تھے:بس اور نہ لاؤ، میں سیر ہو گیا۔حضور نے فرمایا:”آپ صرف تھوڑا تھوڑا چکھتے جائیے تاکہ آپ کو کشمیری کھانوں کا علم ہو جائے۔“ہر چیز خوب لذیزتھی مگر قائد اعظم بہت کم خوراک شخص تھے۔ پھر بھی آپ نے ہر چیز تھوڑی تھوڑی ضرور چکھی۔ آخر میں گوشتابہ آیا۔ حضرت نے فرمایا:یہ بہت لذیذ ہوتا ہے اور یہاں کی رسم کے مطابق اسے سب سے آخر میں پیش کیا جاتا ہے۔قائد اعظم نے سب کھانوں کو پسند کیا اور کہا کہ میں نے ایسی پر تکلف دعوت عمر بھر نہیں کھائی۔ اگر میرا بس چلے تو میں باورچی کو اڑالے جاؤں۔

آخر میں پاکستان کے متعلق دیر تک باتیں ہو تی رہیں۔ حضور نے قائد اعظم کو دو جھنڈے عطاء  کئے، سبز اور دوسرا سیاہ، اور نقد روپیہ عطا کیا۔ پاکستان کی کامیابی کے لئے دعا فرمائی۔رخصت کے وقت دوبارہ قائد اعظم سے اٹھ کر معانقہ کیا اور اس طرح یہ تاریخی ملاقات اور دعوت اختتام پذیر ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے کئی سال قبل لاہور کے ایک جلسہ عام میں کئی لاکھ کے مجمع سے کہا تھا۔”میرا ایمان ہے کہ پاکستان ضرور بنے گا، کیونکہ امیر ملت مجھ سے فرما چکے ہیں کہ پاکستان ضرور بنے گا اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زبان مبارک کو ضرور سچا کریں گے۔آزاد پاکستان کی بنیادوں میں بے شمار شہدائکاخون،سیاستدانوں کی تحاریک، صحافیوں کی تحاریر،مبلغوں کی تقاریر،عوامی نمائندوں کے اقدام اور رضا کاروں کی خدمات  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام اولیائے کرام کی صدیوں پر محیط ریاضتوں کا ثمر شیریں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -