معاشرتی تنہائی

معاشرتی تنہائی
معاشرتی تنہائی

  

چند سال قبل ایک برطانوی اخبار کے کارباری صفحہ پر ایک اشتہار شائع ہوا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔ "میرے والد محترم"تھامس ہڈ" فوج سے ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ان کی عمر 80سال ہے۔ انہوں نے جنگ ِ عظیم دوئم میں مختلف محاذوں پر اپنی پیشہ وارانہ قابلیت کے جو ہر دکھائے تھے۔ وہ اپنے زمانہ سپاہ گری اور دیگر ایّام جوانی کے حالات و واقعات، مہم جوئی اور کامیابیوں کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کارگزاریوں کو سننے کے لئے میرے اور فیملی کے دیگر افراد کے پاس وقت نہیں ہے، اس لئے ایک ایسے شخص کی خدمات درکار ہیں جسے انگریزی زبان سننے، سمجھنے اور بولنے پر دسترس ہو اور جو روزانہ دو گھنٹے میرے والد صاحب کی گفتگو ٹیلی فون پر سن سکے۔ اسے ماہانہ سوپاؤنڈ بطور معاوضہ دیا جائے گا۔"

 اشتہار پڑھنے کے بعدکچھ دیر کے لئے میں سوچ میں گم ہو گیا۔ میں نے اپنے سماج کے ماضی اور حال پہ نظر دوڑائی۔ مجھے انگریزی اخبار میں چھپنے والے اشتہار کے معانی اپنے آج کے معاشرے کی رگوں میں دوڑتے محسوس ہوئے۔ میں نے ماضی میں جھانکا تو دیکھا کہ مختلف رشتوں اور تعلقات میں بندھے لوگ کس طرح اپنی رشتہ داریوں اور تعلقات کو سماجی لگن اور ولولے سے نبھاتے تھے،دور دراز بسنے والے کوسوں کی مسافت ننگے پاؤں طے کر کے اپنے عزیزواقارب سے صرف ان کی خیرو عافیت معلوم کرنے، بغیر کسی ضرورت،طمع یا لالچ کے آتے تھے۔ اگر کسی تعلقدار کی بھینس یا گائے مر جاتی توکوئی عزیز یا دوست اپنے کِلّے سے اپنی بھینس یا گائے اس کے کِلّے پر اپنے ہاتھوں سے جا کر باند ھ دیتاتا کہ اسے دودھ  دستیاب رہے۔ گاؤں کا کوئی شخص بیمار ہوتا تو گاؤں کی آدھی آبادی بشمول خواتین اس کو ہسپتال تک پہنچانے  ساتھ جاتی۔ شادی اور مرگ کے مواقع پر دامے،درمے سخنے تعاون میسّرر ہتا۔

 صنعتی انقلاب  سے وجود میں آنے والی مشینوں نے رفتہ رفتہ انسان کو انسان سے دور کرنے میں اپنا وسیع کردار ادا کیا۔ جملہ ایجادات کا مقصد ترقی اور زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول تھا۔ ٹریکٹر،ہارویسٹر اور دیگر آلات کے آنے سے قبل اگرچہ کھیت کی آمدن وافر نہ تھی، تاہم فصلوں کی کاشت اور برداشت کے وقت جب بہت سارے خواتین و حضرات اکھٹے کام کرتے تو ایک دوسرے کی عزّت، تکریم، احساس اور لحاظ کے انمول رشتوں میں جڑ ے رہتے۔ ایک دوسرے کے مسائل و پریشانیوں کو سنتے،سمجھتے اورانہیں حل کرنے میں مدد گار و معاون ہوتے۔

 اگرچہ مشینی ایجادات کی بدولت انسان نے حیرت انگیزمادی ترقی توکر لی لیکن انسان کے اندر خلوص،روحانی اور ذہنی آسودگی کو بہت بڑا دھچکا لگا اور وہ آہستہ آہستہ معاشرتی تنہائی کا شکار ہوتا گیا۔ دوسرے انسان سے خلوص پر مبنی تعلق داری کی جگہ منفعت بخش وابستگی نے لے لی۔ لالچ اورطمع سوچ اور نظر میں رچ بس گئے۔ رات کو چوپال اور دن میں ٹاہلی کے سائے کی جگہ ٹیلی ویژن، فلم اور ریڈیونے لے لی۔ موبائل فون نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور ایک چھت کے نیچے رہنے والے ایک خاندان کے افراد کو میلوں دورلے جا کھڑا کیا۔ ایک وقت میں ایک کمرے میں ایک ہی خاندان کے آمنے سامنے بیٹھے افراد شاید ہی اس گفتگو کا دسواں حصہ باہمی طور پر Shareکرتے ہوں۔جو وہ نا معلوم دنیا کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً گھر میں رہنے والے بچے اپنے ماں باپ کے ہاتھوں، ماں باپ اپنی اولاد اور بڑی عمر کے افراد سب کے ہاتھوں دوری اور بے توجہی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

 اس صورتحال نے ہمارے معاشرے میں ایسے احباب کو 50، 60سال کی عمر میں ہی تھامسن ہُڈکی جگہ لا کھڑا کیا ہے۔ جو اپنی بات اپنوں کو سنانا چاہتا ہے۔ مگر ان اپنوں کے پاس سننے کا وقت نہیں ہے۔تھامسن ہُڈخوش قسمت ہے کہ اس کا بیٹا یہ احساس رکھتا ہے کہ اس کے باپ کی بات کو سنا جانا چاہیے خواہ اس کیلئے اسے اپنی کمائی میں سے سو پاؤنڈ ماہوار خرچ ہی کیوں نہ کرنا پڑیں۔

 ہمارے معاشرے میں زیادہ تر وہ لوگ معاشرتی تنہائی کا شکاربنتے ہیں جو دیہاتوں سے آکر شہروں میں ملازمت مکمل کرنے کے بعد وہیں قیام پذیر ہوجاتے ہیں۔ اپنی زندگی بھر کی کمائی اور پینشن کی مد میں ملنے والی رقم سے گھر بناتے ہیں یہ سوچ کر کہ اپنی جوان اولاد یا اپنی شیریکِ حیات کے ساتھ پر سکون زندگی گزاریں گے۔ مگر ان کا یہ خواب اس وقت ڈراؤنی حقیقت بن کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ جب اولاد یا تو شہر سے باہر کسی اور مقام پر تعلیم یا ملازمت کے حصول کے لئے منتقل ہو جاتی ہے یا اسی شہرمیں قیام کے باوجود کسی نہ کسی وجہ سے بوڑھے والدین کووقت نہیں دے پاتی تو والدین جنہوں نے بھر پور دفتری زندگی گزاری ہوتی ہے وہ اپنا وقت کاٹنے کے لئے کبھی سڑک پہ پڑ ے بنچ پر بیٹھ کر راہگیروں کو تکتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی پارک میں گھاس پہ بیٹھے تنہا اپنے ماضی سے محو گفتگو ہوتے ہیں اور چند ایک وقت گزاری کے لئے اپنے سابقہ دفاتر میں اپنی تضحیک کی قیمت پر آتے جاتے رہتے ہیں۔اس معاشرتی تنہائی کو ایک پنجابی شاعر نے اپنے لفظوں میں یوں سمیٹا ہے۔ 

اَگّے بندا،پچھّے بندا

سجّے بندا،کھبّے بندا

بندیاں دے ایس میلے وچ 

بندا فیروی کلّا

 خیر ی سلّا

اب دیکھنا یہ ہے کہ معاشرتی تنہائی سے کسی طوربچابھی جا سکتا ہے؟ جی ہاں۔ ایسے تمام احبا ب جو کسی نہ کسی ملازمت سے وابستہ ہیں انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کی منصوبہ بندی اولاد کو دیکھ کر نہیں بلکہ خود کو دیکھ کر کرنی چاہئے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ والدین کی خواہش  پر اولاد ان کے ساتھ نہ رہ پائے اورنتیجتاً وہ معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جائیں۔ اس لئے وہ اپنی بعد از ریٹائرمنٹ زندگی گزارنے کے لئے اس جگہ کو ترجیح دیں جہاں وہ لوگ بستے ہوں جو ان کے بچپن کے ساتھی ہوں، جن کے ساتھ وہ سکول میں پڑھتے رہے، کھیل کھیلتے رہے، کہانیاں سنتے سناتے رہے،لڑتے جھگڑتے رہے پھر دوست بن جاتے رہے۔ جہاں وہ گھر سے نکلیں تو سامنے کوئی جاننے والا نظر آئے، جسے وہ روک کے پوچھ سکیں تیرا کیا حال ہے؟ تو کہاں جا رہا ہے؟ لمحہ بھر کیلئے کھڑے ہو سکیں۔ ہاتھ پہ ہاتھ مار کر قہقہہ لگا سکیں۔ ایک دوسرے کے دکھ اور خوشی میں شامل ہو سکیں، کیونکہ تھامسن ہُڈپھر بھی ان سے بہتر حالت میں ہے۔اس کا بیٹا سو پاؤنڈ ماہانہ اس کی بات سننے کی فیس ادا کرنے پر تیارہے۔جب کہ انہیں اپنی زندگی کی ناؤ کو بذات ِ خود’ساحل مراد‘تک لے جانا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -