تحریک انصاف حکومت کے دو سال

تحریک انصاف حکومت کے دو سال
تحریک انصاف حکومت کے دو سال

  

18 اگست2018کو جب عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے تھے تو ان کے حامیوں کے ساتھ ساتھ عام پا کستا نی بھی یہ سوچ رہا تھا  کہ عمران خان نے اپنی22سالہ سیاسی جدو جہد کے دوران پا کستان کے حالات کو بدلنے کے لئے جو بڑے بڑے وعدے کیے ہیں وہ ان وعدوں پر کس حد تک اور کیسے عمل کر پا ئیں گے؟۔اب تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال کا عرصہ پورا ہوچکا ہے۔ دو سال کا عرصہ کسی حکومت کی کارکردگی کو پرکھنے کے لئے اگر کافی نہیں تو کم بھی نہیں ہو تا۔ ان دو سالوں میں گز شتہ چھ ماہ کا عرصہ کرونا وائرس کی نظر ہو گیا۔ظاہر ہے کرونا ایک عالمی مسئلہ ہے جس نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔اب پی ٹی آئی کی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ معاشی حالات میں بہتری آرہی ہے یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے اس کا فیصلہ تو اب آنے والا وقت ہی کرے گا۔ ویسے بھی معیشت کا تعلق کافی حد تک معروضی حالات سے بھی ہوتا ہے اس لئے ابھی ہم معیشت کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایسے ایشوز پر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن ایشوز کو حل کرنے کا تعلق معروضی حالات سے نہیں بلکہ اہلیت سے ہوتا ہے جیسے احتساب، کرپشن کا خاتمہ، پولیس اصلاحات، سماجی انصاف وغیرہ۔ عمران خان اور تحریک انصاف ان تمام ایشوز کو لیکر جو بڑے بڑے وعدے کرتی آئی ہے ان وعدوں کا ان دو سالوں میں کیا بنا؟۔ ظاہر ہے کو ئی بھی غیر جانبدار پاکستانی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ تحریک انصاف کے ان دو سالوں میں واقعی ہی ان ایشوز کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔

کوئی بھی شخص جوپا کستان کی تا ریخ، نظام، طبقاتی کردار، سیاسی حرکیات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے اس کے لئے یہ بات جاننا مشکل نہیں کہ ان تمام ایشوز کو حقیقی معنوں میں حل کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے۔ تو پھر یہاں پر بنیادی سوال پیدا ہو تا ہے کہ عمران خان اور ان کے کئی وزرا ان تمام ایشوز کو ختم کرنے کے دعوے کیوں کرتے رہے؟عمران خان، پا کستان کے تما م معاشی، سماجی، اور سیاسی مسائل کا ذمہ دار دو سیاسی خاندانوں کو قرار دیتے آئے ہیں۔ ان کے موقف کے مطابق پا کستان میں تیس سال تک مسلم لیگ اور پیپلز پا رٹی کی حکومت رہی(حقائق کے اعتبار سے یہ درست نہیں کیونکہ1999سے2008تک پر ویز مشرف ملک کے حکمران رہے)۔اور ان دونوں جماعتوں نے ہی ملک کی تبا ہی کی۔پی ٹی آئی کے اس موقف کونئے ابھرتے ہوئے ایسے متوسط طبقات کی بھی بھر پور حمایت ملی جن کو پاکستان کے طبقاتی کردار، سیاسی و انتخابی حرکیات، اورسیاسی نظام سے اتنی زیادہ آگا ہی نہیں تھی۔ ایسے طبقے کو پاکستان کے تما م مسائل کے حل کے لئے عمران خان کی صورت میں ایک مسیحا نظر آنے لگا۔عمران خان انتخابات سے پہلے پا کستان کے تمام مسائل کے حل کے لئے آسان نسخے تجویز کرتے رہے۔مگر وہ کھل کر اس با ت کا اعتراف نہ کرپائے پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وہ جس اقتدار کے آرزو مند رہے اس تک پہنچنے کا راستہ مصالحتوں اور سمجھوتوں سے بھر ا ہو ا ہے۔

وہ اپنے حامیوں کو یہ بھی بتانے میں ناکام رہے کہ پا کستان کے تمام مسائل کی ذمہ دار صر ف دو جماعتیں ہی نہیں بلکہ اس ملک کا سیاسی اور طبقاتی نظام ہے۔ اس نظام کے تحت کسی بھی سیاسی جما عت کو اکثریت حاصل کرنے کے لئے ذات پات، برادریوں، فرقوں، سرمایہ داروں، پیروں، سرداروں اور جا گیر داروں کو اپنے ساتھ ملا نا پڑتا ہے اگر ان طبقات کو اپنے ساتھ نہیں ملا یا جا ئے گا تو قومی اسمبلی کی کل272 منتخب نشستوں میں اکثریت حاصل کرنا تو بہت دور کی با ت کو ئی سیاسی جماعت زور لگا کر 10نشستیں بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔اس کی سب سے بڑی مثال خود ”پی ٹی آئی“ ہے۔ پی ٹی آئی کو 1997،2002،اور2013کے ا نتخابات میں کامیابی نہیں مل پا ئی مگر2018کے انتخابات میں ان طبقات کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ہی پی ٹی آئی اس پوزیشن میں آئی کہ حکومت بنا سکے۔اب اگر کوئی بھی راہنما ایسے طبقات کوکہ جن کے سیاست میں آنے کا مقصد ہی کرپشن، اقربا پروری، تھانے کچہری کی سیاست اور اپنے معاشی مفا دات کا تحفظ ہو تا ہے وہ  اپنے ساتھ ملا کر کیسے حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے؟قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے پاس قومی اسمبلی کی کل 342نشستوں میں سے 156نشستیں ہیں۔سیاست کے کسی بھی طالب علم کے لئے اس با ت کی تحقیق کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ ان 156ارکان میں سے اکثرارکان ایسی سیاسی جماعتوں سے پی ٹی آئی میں آئے کہ جو سیاسی جما عتیں آج پا کستان کو اس حالت میں لانے کی ذمہ دار ہیں۔

مرکز میں حکومت بنانے کے لئے 172ارکان کی حمایت درکا ر ہو تی ہے پی ٹی آئی نے یہ حمایت حاصل کرنے کے لئے ایسی سیاسی جما عتوں سے اتحاد کیے جن کا اقتدار اور طاقت کے علاوہ کو ئی نظر یہ ہی نہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحاد میں شامل ق لیگ، جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور ”بلو چستان عوامی پا رٹی“کوئی نظریاتی، انقلابی یا اصولی جما عتیں نہیں بلکہ مخصوص طبقات کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے بنائے گئے سیاسی پلٹ فارمز ہیں۔”نئے پا کستان“ کی کابینہ کو ہی دیکھ لیں اکثر وفا قی وزرا ایسے ہیں کہ جن کا تعلق ما ضی میں کسی ایسی سیاسی جما عت سے ہی رہا ہے کہ جو پا کستان کو اس مقام تک لانے کی ذمہ دار ہے۔اب اس نظام کے ہوتے ہوئے اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ25جولائی 2018کے انتخابات کے نتیجے میں ”نئے پا کستان“ نے جنم لیا تو اس کو تو سادہ لوحی بھی نہیں بلکہ بے وقوفی سے ہی تعبیر کیا جا ئے گا۔عمران خان اور پی ٹی آئی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ ایک کرپٹ نظام کی بنیاد پر کھڑے ہو کر تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔

1996سے2018تک عمران خان اپوزیشن کی سیاست کرتے رہے۔ اپوزشن کی سیاست میں آئیڈل ازم یا آدرشوں کے لئے بہت زیادہ گنجائش ہوتی ہے مگر اقتدار آئیڈل ازم سے زیا دہ عملیت پسندی پر مبنی ہوتا ہے۔عمران خان کو وزیراعظم بنے دو سال کا عرصہ ہو چکاہے۔اس عرصے کے دوران عمران خان کے اکثر دعو ے غلط ثابت ہوئے۔ معیشت کی بحالی، پویس اصلاحات، لوٹی ہو ئی دولت کی واپسی،نوکریاں، غریبوں کے لئے گھران میں سے کو ئی بھی وعدہ نہ ابھی پورا ہو اہے اور نہ ہی آگے پورا ہو تا دکھائی دے رہاہے۔ عمران خان پر اور ان کے حامیوں پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جانی چا ہیے کہ سیاست، سماجی رویوں کے تابع ہوتی ہے۔حقیقی تبدیلی لانے کے لئے سماجی رویوں کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔نظام کو چیلنج کرنا پڑتا ہے نہ کہ اسی نظام سے مصالحت کرکے اقتدار حاصل کیا جا تا ہے۔ 

عمران خان اور پی ٹی آئی کے پرو گرام اور منشور سے اصولی طور پر پر کوئی بھی حساس ذہن رکھنے والا پا کستانی انکار نہیں کر سکتا۔ کونسا ایماندار پا کستانی ایسا ہو گا کہ جو کرپشن کی لعنت سے نجات نہیں چاہے گا، کیا پا کستان کا قابل اور پڑھا لکھا نوجوان نہیں چا ہے گا کہ پا کستان سے لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے اورنوجوانوں کو ان کی جائز صلا حیتوں کے مطابق  پاکستان میں ہی رہ کر ترقی کرنے کا موقع ملے،عام لوگوں کو انصاف ملے اور غر یبوں کے گھر بنیں مگر ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس نظام کو تبدیل کرنا ضروری ہے کہ جس نظام کے باعث یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔اور اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے سماجی رویے کو بدلنا ہو گا۔عوام کو تھانے کچہری، ذات اور بر ادری کی محدود سوچ سے اوپر اٹھ کر سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے۔مگر صدیوں پر محیط ایسے سماجی رویوں کو بدلنے کے لئے تاحال ہمیں امید کی کوئی روشنی نظر نہیں آرہی۔

مزید :

رائے -کالم -