دُعا کام آگئی 

دُعا کام آگئی 

  

    رات کے 9 بجے تھے۔ روبی گھر کے سارے کام کرکے فارغ ہوچکی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کچھ دیر کے لئے پڑھ بھی لیا جائے کیونکہ کچھ دنوں کے بعد اُس کے امتحانات شروع ہورہے تھے۔ سب بچے پڑھائی میں مشغول تھے اور وہ تمام مصروفیات کی وجہ سے پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دے رہی تھی۔

    وہ جانتی تھی کہ پڑھائی کاکام بہت بہتر ہے۔ اگر آج اُسے کام کرنا پڑتا ہے تو اگلے گھر میں تو ایسا نہ ہو اوراُس کی اولاد کو بھی انہی مشکلات کا سامنا ہو۔ وہ اپنی طرف سے پوری محنت کرتی اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی۔

   اُس کے والد کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔اُس کی ماں گھر کے گزر بسر کے لئے سلائی کاکام کرتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُس کی بیٹی کو پڑھائی کا شوق ہے۔

    روبی کو ایک ایسی بیماری تھی جواُسے روز بروز موت کے منہ میں لے جارہی تھی مگر وہ اپنی ماں کو بتانے سے ڈرتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ اگراُس کی ماں کو پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوگی۔اُس کی ایک دوست ننھی تھی۔ وہ اُس سے ہر بات شیئر کرتی تھی۔اُس نے ننھی کو بتارکھا تھا، روبیاُس کی بہترین دوست تھی۔ روبی نے اُس سے پوچھنے کی کوشش کی تھی تو ننھی بولی کہ میری مددکرو، میری امی کی طبیعت بہت خراب ہے۔

    روبی جلدی سے گھر گئی اور ماں کو بتا کر ننھی کے گھر چلی گئی۔اُس نے دیکھا کہ اُس کی والدہ چارپائی پر لیٹی تڑپ رہی ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی اْن کی روح پرواز کرگئی، ننھی رونے لگی، روبی اُس کو دلاسہ دینے لگی۔ ابھی چند دن گزرے تھے کہ ننھی روبی کے گھر آئی اور بولی کہ تم اپنا علاج کراؤ گی کہ نہیں، ورنہ مجھے تم سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں۔

    روبی بولی نہیں، میں اتنی امیر کہاں کہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں علاج کروا سکوں۔ تو کیا ہوا۔ میں ہوں نا،اُس نے بتایا کہ وہ سکول نہ آرہی تھی تو ماں سے ضد کررہی تھی کہ روبی کے علاج کے لئے کچھ کریں۔ جب ماں فوت ہوئی تو روبی کے علاج کے لئے پیسے اور خط چھوڑگئی تھی اور یوں اُس کا علاج شروع ہوگیا۔

    اُس کی والدہ اْسکے لئے دعا کرنے کے لئے مصلے پر بیٹھ گئی اور اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی اے اللہ میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی سلامتی تجھ سے مانگی ہے۔ اِس کی حفاظت فرما اور پھر آہستہ آہستہ روبی صحت یاب ہوگئی۔ ننھی کے لئے یہ ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ وہ دونوں پکی سہیلیاں بن گئیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے کام آتی رہیں ہمیشہ۔ سچ ہے ہمیں دوسروں کے کام آنے سے سچی خوشی ملتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -