قارون کا خزانہ 

قارون کا خزانہ 

  

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک بہت دولت مند شخص تھا، اس کا نام قارون تھا۔ اس کے پاس اتنی دولت تھی کہ اس کے خزانوں کی چابیاں ایک بڑی جماعت اُٹھاتی تھی۔ وہ شخص یعنی قارون دولت ناخود پر خرچ کرتا تھا نہ ہی کسی غریب شخص پر۔بس مال جمع کرتا رہتا تھا۔اسے اپنی دولت پر بڑا فخر تھا۔اس کا کہنا تھا کہ میں نے یہ دولت اپنی محنت سے حاصل کی ہے۔لوگوں نے اسے بہت سمجھایا کہ تمام دنیا کے لوگوں کو دولت صرف اللہ تبارک وتعالیٰ ہی عطا کرتاہے اس لئے تم اپنی دولت کو اللہ ہی راہ میں خرچ کرو،لیکن قارون نے کسی کی بات نا مانی اور مسلسل اللہ کی نافرمانی کرتا رہا۔

    پھر ایک دن وہ بڑے فخر کے ساتھ قوم کے لوگوں کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کے طالب تھے وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی قارون کے جتنی دولت ملتی، یہ کتنا خوش نصیب ہے، لیکن جولوگ اللہ سے ڈرتے تھے وہ کہنے لگے نیک لوگوں کے لئے آخرت میں اس سے بھی کہیں بہتر انعام موجود ہے۔

    جب قارون اپنی سرکشی سے باز نہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی دولت کے ساتھ ہی زمین میں گاڑھ دیا۔ کوئی بھی اس کو عذابِ الٰہی سے بچا نہ سکا۔ جو لوگ اس کے جیسے بننے کی تمناکر رہے تھے قارون کا انجام دیکھ کر کہنے لگے:”شکر ہے اللہ نے ہمیں بچا لیا“اگر ہمیں بھی قارون کے جتنی دولت ملتی اور ہم بھی سرکش اور گمراہ ہو جاتے تو اللہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔

    پیارے بچو! ہمیں کبھی بھی کسی سے حرص نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے اس پر اترانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کسی کو حقیر اور کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -