آئیے مسکرائیں 

آئیے مسکرائیں 

  

 ٭ ایک کنجوس سیٹھ اپنے ڈرائیور کے ساتھ کہیں جا رہا تھا۔اچانک اس نے گاڑی رکوائی اور ڈرائیور سے کہا:”پیچھے ایک مونگ پھلی پڑی ہے جا کر اٹھا لاؤ“۔ ڈرائیور فوراً گیا اور مونگ پھلی اُٹھا لایا۔سیٹھ نے مونگ پھلی توڑی تو اُس میں سے دو دانے نکلے تو مالک نے ایک خود کھایا اور دوسرا ڈرائیور کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا:”میاں! ہمارے ساتھ رہو گے تو یونہی مزے کرو گے“۔

٭ ”کیا واقعی تمہارے پروفیسر کا دماغ ہر وقت غیر حاضر رہتاہے؟“ ”ہر وقت تو نہیں، البتہ صبح وہ اخبار پڑھ رہے تھے تو ان کی نظر اس غلط خبر پر پڑی، جس میں ان کی بے وقت موت کا ذکر تھا۔ انہوں نے فوراً کلاس کی چھٹی کر دی اور نوٹس بورڈ پر یہ پرچہ لگوا دیا کہ سارے طلبہ ایصال ثواب کے لئے مسجد میں اکٹھے ہو جائیں۔“

٭ ایک بچہ سکول سے رزلٹ کارڈ لے آیا اور سیدھا باپ کے پاس پہنچا اور خوشی سے بولا:”ابو ابو! آپ بہت خوش قسمت ہیں“۔ باپ نے حیران ہو کر پوچھا:”وہ کیسے؟“۔ بچہ: ”آپ کو میرے لئے نئی کتابیں نہیں خریدنا پڑیں گی میں اسی کلاس میں رہ گیا ہوں“۔

 ٭دیہاتی لڑکے نے شہر آ کر کچھ پیسے کما لئے تو باپ کو گھمانے پھرانے کے لئے شہر بلا لیا۔ دن بھر خوب سیر کرنے کے بعد لڑکے نے باپ کو مزید مرعوب کرنے کے لئے کرائے کے اپنے چھوٹے سے معمولی کمرے میں ٹھہرانے کی بجائے ایک شاندار ہوٹل کے کمرے میں ٹھہرایا۔ ہوٹل کے کمرے کے ساتھ اٹیچڈ باتھ تھا۔ صبح بیٹا باپ سے ملنے پہنچا تو داد طلب لہجے میں پوچھنے لگا۔ ”کمرہ کیسا ہے ابا جی! رات آرام سے گزری نا؟“ کمر ہ تو بہت اچھا ہے برخودار! بستر بھی بہت اچھا ہے باپ نے جمائیاں لیتے ہوئے جواب دیا۔ ”لیکن ایک بڑی مشکل تھی۔غسل خانے کا راستہ میرے کمرے سے ہی ہو کر گزرتا تھا۔ میں بس اس خیال سے ساری رات جاگتا رہا کہ اگر ہوٹل میں ٹھہرے کسی بھی مسافر کو حاجت محسوس ہوئی یا کسی کا نہانے کا ارادہ ہوا تو وہ آ کر دروازہ کھٹکھٹا دے گا۔“

٭استاد (شاگرد سے) جملہ بناؤ ”میرے منہ میں پانی بھر آیا۔“ شاگرد: جب میں نے نلکے کو منہ لگایا تو میرے منہ میں پانی بھر آیا۔“

٭مسز کیا نیلی اپنے بیٹے کو جھنجھوڑ رہی تھی ”سکول کا وقت ہو گیا۔ جلدی اٹھو۔ تمہیں سکول جانا ہے۔ ”ممی میں سکول نہیں جاؤں گا۔ مجھے سکول سے نفرت ہے۔ بچے مجھے پسند نہیں کرتے۔استانیاں مجھے نفرت سے دیکھتی ہیں۔ سکول کا سارا سٹاف مجھے نا پسند کرتا ہے۔“ ”مگر تمہیں سکول جانا ہے۔“اس کی ممی نے کہا۔”تم اب بچے نہیں۔ چالیس برس کے ہو اور سکول کے ہیڈ ماسٹر ہو۔“

٭  طلاق کے مقدمے میں ایک خوبصورت عورت نے جج کو بتایا۔ ”ہم دونوں شادی کے بعد ایک سال تک بے حد خوش و خرم زندگی بسر کرتے رہے مگر پھر بے بی کے آنے کے بعد ہماری ازدواجی زندگی تلخ سے تلخ تر ہوتی گئی۔“ جج نے پوچھا۔”بے بی لڑکا ہے یا لڑکی؟“ عورت نے جواب دیا۔ ”لڑکی وہ بھی اٹھارہ سال کی نوجوان کی لڑکی … کچھ ہفتے پہلے ہمارے پڑوس کے ایک مکان میں آ کر رہنے لگی ہے۔“

مزید :

ایڈیشن 1 -