حوصلہ مند حامد 

حوصلہ مند حامد 

  

  احمد اور حامد دونوں سگے بھائی تھے۔احمد چھوٹا بھائی اور حامد بڑا بھائی۔احمد کی عمر 8سال اور حامد کی عمر10سال تھی۔وہ دونوں ایک ہی سکول میں تیسری اور پانچویں کلاس کے طالب علم تھے۔احمد چھوٹی عمر کے ہونے کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر زیادہ توجہ نہیں دے سکتا تھا۔

اگر چہ حامد بھی ابھی چھوٹی کلاس میں پڑھتا تھا تاہم احمد کے مقابلے میں کسی حد تک ہوشیار تھا ور اپنی پڑھائی پر نسبتاً زیادہ زور دیتا تھا مگر ان کے والدین کو دونوں سے یہ شکایت ہوتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو کس طرح سے اس طرف متوجہ کریں کہ وہ ہر سال اپنی کلاس میں بہتر پوزیشن حاصل کریں۔

    ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ احمد سکول سے چھٹی کر کے گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں کسی موٹر سائیکل والے نے اْسے ٹکر مار دی۔احمد کو بہت زیادہ چوٹ تو نہیں آئی،وہ بڑی مشکل سے آہستہ آہستہ گھر پہنچا اْس کے امی ابو نے جب احمد کی یہ حالت دیکھی تو بہت پریشان ہوئے۔اتنے میں حامد بھی سکول سے گھر پہنچ گیا۔امی ابو اور حامد تینوں احمد کو قریبی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹر نے اْس کی مرہم پٹی کی اور اْسے تلقین کی کہ وہ کم ازکم ایک ہفتہ تک چلے پھرے نہیں۔یہ سْن کر احمد کے امی ابو رونے لگے۔حامد نے اپنے بھائی اور اپنے امی ابو کو تسلی دی کہ وہ فکر نہ کریں جلد ہی احمد ٹھیک ہو جائے گا۔

    احمد کو جیسے چپ سی لگ گئی البتہ حامد نے احمد کے اْستاد کو سارا واقعہ سنا یا تو اْنہوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے کہ احمد چند دن آرام کرے اور پھر سکول آجائے۔حامد پابندی سے سکول جاتا رہا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ احمد کی طرح حامد کو بھی حادثہ پیش آگیا وہ یہ کہ حامد گھر سے سکول جارہا تھا کہ راستے میں ایک سائیکل والے نے اْسے ٹکر مار دی۔حامد بے سدھ ہو گیا۔جب حامد کے محلے والے وہاں سے گزرے تو اْنہوں نے فوراً اْس کے امی ابو کو اطلاع دی۔امی ابو جو پہلے ہی احمد کی وجہ سے پریشان تھے یہ سن کر مزید مشکلات کا شکار ہوگئے اور بھاگ کر حامد کے پاس پہنچے مگر حامد زخمی ہونے کے باوجود اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھتے ہوئے بولا کہ امی جان فکر نہ کریں میں اتنا زیادہ زخمی نہیں ہوا ہوں،چند مہینوں کی بات ہے میں اپنے پاؤں پر چل کر سکول جاؤں گا اور پھر خود ہی گھر واپس آؤں گا۔

    حامد کے امی ابو اپنے بڑے بیٹے کی اس بات کو سْن کر بہت خوش ہوئے اور اْس کے حوصلے کی داد دینے لگے۔دوسری طرف احمد بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہورہا تھا۔جب احمد کے استاد نے حامد سے پوچھا کہ تم کیسے زخمی ہو گئے تو حامد نے ساری بپتا استاد کو سنادی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ احمد بھی ایک دو دنوں تک سکول آنے لگے گا۔استاد حامد کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے اور اْسے ڈھیر ساری شابا ش دی۔

    چند دنوں کے بعد احمد اور حامد دونوں ٹھیک ہوگئے اور پھر سے اکٹھے ہو کر سکول جانے لگے تھے۔احمد اور حامد کے امی ابو بھی بہت خوش ہوئے اور اپنے بیٹوں کے حوصلے اور ہمت کی داددینے لگے۔ یوں ان تینوں چاروں افراد پر مشتمل گھرانے کے افراد ایک مرتبہ پھر سکون سے رہنے لگے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -