نواز شریف مولانا کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں 

نواز شریف مولانا کو احتجاج پر اکسا رہے ہیں 

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ اجلاس میں فواد چوہدری، شبلی فراز، مرادسعید، زلفی بخاری سمیت دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے اورکورونا کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ اجلاس میں اپوز یشن کی سرگرمیوں، نیب کیسز، حکومت پربڑھتے ہوئے دباؤ پر مشاورت کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف کو واپس لانے کے فیصلے سے قبل ترجمانوں کے اجلاس میں مشاورت ہوئی اور وزیراعظم نے دوٹوک مؤقف اختیارکیا کہ حکومت سارے قانونی راستے اختیار کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نوازشریف کی لندن سے سیاسی سرگرمیوں اور مولا نا فضل الرحمان کے سیاسی پلان پر بھی غور کیا، شرکاء کو وفاقی وزیر فواد چوہدری نے نوازشریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے کیسز پر بریفنگ دی اوربتایا کہ شہباز شریف کیخلاف تحقیقات کے 42 والیم بنتے ہیں اور آصف زرداری کیخلاف تفتیش کے 61 والیم ہیں۔معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل نے نوازشریف کی لیبارٹری رپورٹ میں ممکنہ ہیرپھیر پر بریفنگ دی جبکہ زلفی بخاری نے نوازشریف کی لندن سے واپسی کیلئے رابطوں کے پلان سے آگاہ کیا۔ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی کہ نوازشریف علاج کرانے لندن گئے، اب وہاں بیٹھ کر سیاست شروع کردی، مولانا فضل الرحمان رینٹ اے دھرنا ٹو کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن نے اپنے مفاد کیلئے مولانا فضل الرحمان کو پہلے بھی آگے کیا اور اب نوازشریف لندن سے مولانا کو فون کرکے پھر آگے آنے پر اکسا رہے ہیں۔حکومت نے ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہ کرنے اور اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہ آنے کا عزم کیا اور اجلاس میں نوازشریف کی لیبارٹری رپورٹس کے معاملے کی تحقیقات پر اتفاق کیا گیا۔

اندرونی کہا نی

مزید :

صفحہ اول -