عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا جلد واپس بلانا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ 

    عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا جلد واپس بلانا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ 

  

 واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ عراق سے تمام امریکی فوجیوں کو جلد از جلد واپس بلانا چاہتے ہیں انہوں نے یہ یقین دہانی عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الخادمی سے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک ملاقات میں کرائی انہوں نے اس موقع پر عراق کی تازہ صورت حال اور وہاں موجود ایران کے حامی ملیشیا اور داعش کے سلیپر سیلز پر قابو پانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ہمیں اس وقت کا انتظار ہے جب ہماری عراق میں موجودگی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اوراس کے ساتھ ساتھ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے عراق سے تعلقات بدستور بہت اچھے ہیں انہوں نے عراق کے ساتھ تیل کے حوالے سے ہونے والے امریکہ کے بڑے بڑے معاہدوں کا ذکر کیا جن میں امریکی کمپنیاں شامل ہیں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ہم عراق سے نکل رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اب اپنا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے صدر ٹرمپ سے نیوز کانفرنس کے دوران انخلاء کے ٹائم ٹیبل کا سوال پوچھا گیا تو انہوں نے وہاں موجود امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے رجوع کیا مسٹر پو مپیو نے بتایا کہ ”جلد ہمارا مشن مکمل ہو گا ہم انخلاء کو اختتام تک لے جائیں گے صدر ٹرمپ پہلے ہی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ہم جلد از جلد انخلاء کرنا چاہ رہے ہیں اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ہم عراقیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں“ اس وقت عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں گذشتہ ماہ مشرق وسطی کیلئے  امریکہ کے اعلیٰ جرنیل نے بتایا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اب صرف بہت تھوڑے فوجی اس ملک میں رکھے گا میرین جنرل فرینک میکنزی نے کہا تھا کہ عراقی حکومت امریکہ اور اتحادیوں کی فوج کیلئے خوش سگالی کے جذبات رکھتی ہے اور داعش کو دوبارہ عراق میں قدم جمانے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -