محکمہ صحت کی نجکاری، ریجنل   ڈویژنل سطح پر اتھارٹیز متعارف

  محکمہ صحت کی نجکاری، ریجنل   ڈویژنل سطح پر اتھارٹیز متعارف

  

ملتان (وقا ئع نگار) حکومت پنجاب کی جانب سے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کی سطح پر نجکاری کی جانب اہم (بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

قدم،ریجنل/ڈویڑنل ہیلتھ اتھارٹیز متعارف کروا کر پرائیویٹ افراد کے ذریعے چلانے کا منصوبہ طے پا گیا،عملی شکل دینا باقی،متنازعہ ایم ٹی آئی ایکٹ بھی پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں پر مرحلہ وار نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز کی جانب سے شدید احتجاج کا اعلان تفصیل کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز ایسوسی ایشن پنجاب کا اجلاس گزشتہ روز نشتر ہسپتال  میں پیٹرن انچیف ڈاکٹر میاں عدنان کی زیر صدارت ہوا جس میں حکومت پنجاب کی جانب سے پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ کئیر کی نجکاری کی جانب پہلا قدم بڑھاتے ہوئے ریجنل/ڈویڑنل ہیلتھ اتھارٹیز متعارف کروا کر ان کو پرائیویٹ افراد/تھرڈ پارٹی کے ذریعے چلانے کے فیصلے کو مسترد کر دیا گیا،ڈاکٹر میاں عدنان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد محکمہ صحت کی نجکاری چاہتی ہیں جو قبول نہیں کریں گے ساتھ ہی متنازعہ ایم ٹی آئی ایکٹ کو پنجاب میں سب سے پہلے میو ہسپتال لاہور اور ٹیچنگ ہسپتال سیالکوٹ میں نافذ کرنے کے حوالے سے بازگشت سنائی دے رہی ہے،حکومت پنجاب  مرحلہ وار نجکاری کی جانب جانے کا فیصلہ کر چکی ہے ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے،اجلاس میں شریک ڈاکٹر سعید چودھری،ڈاکٹر آصف حسین،ڈاکٹر سلمان لاشاری،ڈاکٹر شکیل چاچڑ،اور ڈاکٹر زبیر صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب خیبر پختونخوا میں ناکام ہونے والے نظام کو پنجاب میں متعارف کروانا چاہتی ہے،بجائے اسکے کہ نئے سرکاری ہسپتال بنائے جائیں،طبی عملے کی کمی پوری کر کے سرکاری ہسپتالوں کا بجٹ بڑھایا جائے الٹا حکومت نجکاری کی جانب جا رہی ہے،اگر ایسے کسی بھی فیصلے پر حکومت نے عمل کیا تو پنجاب کے تمام ڈاکٹر سڑکوں پر ہوں گے اور اپنا حق لے کر ہی واپس ہسپتالوں میں جائیں گے۔

متعارف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -