نوشہرہ،خویشگی کے باشندے معصوم بچی کے قاتل کو پھانسی دینے کے حق میں نکل آئے 

نوشہرہ،خویشگی کے باشندے معصوم بچی کے قاتل کو پھانسی دینے کے حق میں نکل آئے 

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) نوشہرہ میں خویشگی کے عوام 6سالہ سیما کے قاتل کو پھانسی دینے کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے خویشگی سے نوشہرہ شوبرا چوک تک احتجاجی مارچ احتجاجی مارچ میں بچی کے والد کی شرکت شوبرا چوک میں جی ٹی روڈ بلاک کر دی مارچ میں جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت6سالہ بچی سیما کا پر تشدد قتل آگ کا وہ شعلہ ہے جو حکمرانوں کے محلات کو بھی اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے انصاف کا تقاضہ ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ملزمان کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے، فوری انصاف کی عدم فراہمی کی وجہ سے عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوتے ہیں گذشتہ روز خویشگی حمزہ رشکہ اور محلقہ علاقوں کے مشتعل عوام نے جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام ضلع نوشہرہ کے زیر اہتمام مشترکہ احتجاجی مارچ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی احتجاجی مارچ خویشگی چوک سے شروع ہوا اور شوبرا چوک میں ایک بڑے جلسے کی شکل کی صورت اختیار کر گیا مشتعل عوام نے شوبرا چوک میں ٹریفک بلاک کر دی اس موقع پر احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ کے نائب امیر حاجی عنایت الرحمان، جمعیت علما اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی حاکم علی حقانی جے اسلامی یوتھ کے سینئر نائب صدر سفیان امیرکہا کہ 6سالہ بچی سیما کا پر تشدد قتل پہلا واقعی نہیں ہے یہ پچھلے واقعات کا تسلسل ہے اور سزا نہ ہونے کہ وجہ سے یہ چنگاریاں شعلوں میں بدل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 6سالہ بچی سیما کا پر تشدد قتل ہمارے بے حس حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران سابقہ واقعات میں ملوث درندوں کو سرعام چوکوں پر لٹکاتے تو آج یہ واقعہ پیش نہ آتا  واضح رہے کہ اس موقع پر جمعیت علما اسلام ضلع نوشہرہ کے سابق سیکرٹری اطلاعات محمد ولید اختر، جمعیت طلبا اسلام کے صدر عاصم علیزئی اور دیگر بھی موجو دتھے مقررین نے مزید کہا کہ ہمارے حکمران اپنے مفادات کے لئے راتوں رات بل پاس کرکے قوانین بناکر اس پر عمل درآمد بھی کرالیتے ہیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت عدالتیں قائم ہو سکتیں ہیں تو اس بدترین دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ایسے اقدامات کیوں نہیں اٹھا ئے جاتے اس سے بڑی دہشتگردی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بچی کے ساتھ زیادتی اور پھر تشدد کرکے قتل کیا جائے انہوں نے کہا کہ 6سالہ بچی سیما کا پرتشدد قتل اب چنگاری کا وہ شعلہ ہے جو حکمرانوں کے محلات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -