2لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے، حکومتی حصص، گڈ پاور پلانٹ بیچنے کی منظوری 

  2لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے، حکومتی حصص، گڈ پاور پلانٹ بیچنے کی منظوری 

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن کو 2لاکھ ٹن گندم درآمد کی اجازت دیدی۔  مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس ہوا، اجلاس میں ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے بجلی کے اسپیشل پیکج پرغور کیا گیا اور گندم کی درآمد سمیت اسٹاک کی صورتحال پربریفنگ دی گئی۔ای سی سی نے پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن کو2لاکھ ٹن گندم درآمدکی اجازت دے دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ نجی شعبے نے5لاکھ ٹن گندم درآمد شروع کردی، پہلا جہاز 26اگست کوپاکستان پہنچ جائے گا، جہاز آنے سے ملک میں گندم کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ اجلاس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈکے کنٹینرزکے پورٹ چارجزمعاف کرنیکی سمری پیش کی گئی۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل میں 7 فیصد حصص،پی پی ایل میں موجودہ دس فیصد حصص کی نجکاری کا فیصلہ کرتے ہوئے گڈو پاور پلانٹ کی نجکاری کی منظوری دید ی جبکہ سروسز ہسپتال لاہور اور جناح کنونشن اسلام آباد کی نجکاری روکنے کا فیصلہ کیاہے۔جمعہ کو وزارت خزانہ کی طرف جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں او جی ڈی سی ایل میں حکومت کے 7 فیصد حصص کی نجکاری کی منظوری دیدی گئی،حصص کی نجکاری کیلئے مالی مشیر کی تعیناتی کا عمل شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جبکہ گڈو پاور پلانٹ کی نجکاری بھی منظوری دی گئی۔ حکومت نے پی پی ایل میں موجودہ دس فیصد حصص کی نجکاری کابھی فیصلہ کیا جبکہ پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری و بحالی کا عمل معاشی بحالی تک روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ سول ایوی ایشن ڈویژن کی درخواست پر کیا گیا۔دریں اثناء مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی فلاح بہبود اور ترقی حکومتی اصلاحات کے پروگرام کا اہم مقصد اور ہدف ہے۔گزشتہ روزیہاں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت آئی تو اندرونی بیرونی خسارہ زیادہ تھا، برآمدات میں اضافہ پچھلے پانچ سال منفی میں تھا، ڈالر کی مصنوعی قدر کیلئے ڈالراستعمال کئے گئے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جبکہ مالی خسارہ بھی زیادہ تھا۔ موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کئے جن میں مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کی بنیاد پر ڈالر کی قدر کے تعین کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ کابینہ کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس وآفس کے اخراجات میں کمی کی گئی، اسی طرح دفاعی اخراجات کو منجمد کیا گیا جبکہ پوری سول حکومت کے بجٹ میں کمی گئی۔ اخراجات کے بہتر انتظام وانصرام کے بہت اچھے نتائج دیکھنے میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں یہ منفرد موقع ہے کہ ایک ایسا لیڈر موجود ہے جو میرٹ پرکام کررہاہے۔ 

نجکاری منظوری

مزید :

صفحہ اول -