نواز شریف کی واپسی؟

 نواز شریف کی واپسی؟
  نواز شریف کی واپسی؟

  

 نواز شریف کی واپسی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں، حالانکہ ان کا ابھی تک لندن میں علاج نہیں ہو سکا ہے۔ اس سے کہیں بہتر تھا وہ پاکستان میں ہی اپنا علاج کرواتے رہتے، حکومت کو ان کی تصویروں سے دل تو نہ بہلانا پڑتا اور مریم کو بھی ملک سے باہر جانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔ 

ممکن ہے کہ نواز شریف کو پاکستان میں اپنے علاج کرواتے رہتے لیکن یہاں تو ان کے پلیٹ لیٹس یوں گر گئے تھے جس طرح ملک میں غریب آدمی کا معیار گرا ہواہے، اوپر سے ان پر ملک بدری کا پریشر بھی تھا۔ تاہم اب جس طرح ان کی وطن واپسی کا مطالبہ حکومتی اراکین کی طرف سے کیا جاتا ہے وہ بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ان کے جانے میں حکومت کی مرضی شامل نہ تھی اور اسے چاروناچار اجازت دینا پڑی تھی۔ پی ٹی آئی کا موقف سنا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ملک کے دیگر پروفیشنلز کی طرح ڈاکٹروں کی قابلیت کا معیار گرچکا ہے وگرنہ اگر وہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کے پیچھے کارفرما عوامل تک پہنچ جاتے تو وزیر اعظم عمران خان کبھی بھی نواز شریف کو این آراو دینے پر راضی نہ ہوتے۔

بھٹو کے بعد نواز شریف وہ سیاستدان ہیں جن کے پاس پنجاب کے عوام کی سپورٹ ہے، بھٹو کی طرح وہ بھی اس سپورٹ کے تن تنہا مالک ہیں اور بے نظیر بھٹو کی طرح مریم نواز کے علاوہ کوئی اور اس سپورٹ بیس سے استفادے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے۔ پنجاب کے ووٹ بینک نے بھٹو سے قطع تعلقی میں چالیس برس لئے تھے، نواز شریف کو تو ابھی اقتدار سے علیحدہ ہوئے چار برس بھی نہیں ہوئے کہ ان کی ضرورت دوبارہ سے محسوس ہونے لگی ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یہ پاکستانی عوام کا وطیرہ ہے کہ ہر آنے والے حکمران کے مقابلے میں جانے والا حکمران زیادہ اچھا لگتا ہے۔ ان حلقوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی قدر بھی ان کے جانے کے بعد ہی ہوگی۔ ایسا ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی سیاسی طور پر تاریخ میں رہنا پسند کرتے ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی زیادہ سیاسی آپشن نہیں ہیں اور وہ الف کے چنگل سے نکل کر ب کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو الف کو یاد کرنے لگتے ہیں اور ب سے نکل کر الف کے چنگل میں پھنستے ہیں تو ب کو یاد کرنے لگتے ہیں، آپ نے وہ بات سنی ہوئی ہے کہ بادشاہ نے حکم دے دیا تھا کہ لاہور میں داخل ہونے والے ہر شخص کو راوی کے پل پر جوتیاں لگائی جائیں گی تاکہ یہ کوئی شکائت کریں، مگر جب شکائت آئی تو یہ تھی کہ لمبی لائن لگنے کی وجہ سے جوتیاں مارنے والے کو دیر لگتی ہے جس سے بہت وقت ضائع ہوتا ہے، براہ مہربانی جوتیاں مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کردیا جائے!

نواز شریف کی واپسی کی بات تو ہو رہی ہے لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ ان کی واپسی سیاست میں ہوگی یا جیل میں، کیونکہ دیکھا جائے تووہ ابھی تک ضمانت پر ہیں اور اب توشہ خانہ مقدمے میں تو اشتہاری تک ڈکلیئر ہونے والے ہیں، چنانچہ اگر وہ واپس آبھی جاتے ہیں اور آتے ہی گرفتار کرلئے جاتے ہیں تو کیا نون لیگ کو حشر بپا کرسکے گی؟....اگر ایسا ہوا تو باقی کی سیاسی س جماعتوں کا کیا ردعمل ہوگا؟

جب شہباز شریف کرونا وائرس کے سبب فلائٹیں بند ہونے کے خطرے کے پیش نظر بھاگم بھاگ پاکستان واپس پہنچے تھے، تب بھی نو ن لیگی حلقوں میں بالخصوص اور عام سیاسی حلقوں میں بالخصوص بہت سی قصے کہانیاں بنائی اور سنائی جانے لگی تھیں، مگر آج لگتا ہے کہ شہباز شریف کا پہلا بھرم بھی جاتا رہا ہے۔ اب بھی نوازشریف کی جانب سے بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن کو ٹیلی فونوں سے بہت سے مطلب نکالے جا رہے ہیں لیکن اگر نواز شریف نے بھی اس کے باوجود حکومت کے پانچ سال پورے کروادیئے تو ان میں اور شہباز شریف میں صرف بیانئے کا فرق رہ جا ئے گا، عملی طور پر دونوں ایک ہی لکیر پیٹ رہے ہوں گے!

کوئی کچھ بھی کہے لیکن حالات وواقعات یہی بتاتے ہیں کہ مستقل قریب میں نواز شریف کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ مریم نواز کچھ متحرک ہو جائیں گی، اس لئے ہمارے جن دوستوں کا خیال ہے کہ نواز شریف بے نظیر بھٹو کی طرح واپس آئیں گے اور خمینی جیسا انتقام لیں گے انہیں چاہئے کہ وہ اپنی خاطر جمع رکھیں۔ نوا ز شریف ہو ا میں مکے چلانے کے عادی نہیں ہیں، اس کے برعکس وہ حقیقت پسند شخص ہیں اور حقیقت کا ادراک کرکے ہی اپنے پتے ترتیب دیتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ابھی تو پتے پھینٹے بھی نہیں گئے ہیں، پتے پھینکنے کی نوبت بہت بعد میں آئے گی!

مزید :

رائے -کالم -