نواز شریف کو واپس لانا شہباز شریف کی ذمہ داری ہے، وہ ان کے ضمانتی ہیں، شہزاد اکبر

نواز شریف کو واپس لانا شہباز شریف کی ذمہ داری ہے، وہ ان کے ضمانتی ہیں، شہزاد ...
نواز شریف کو واپس لانا شہباز شریف کی ذمہ داری ہے، وہ ان کے ضمانتی ہیں، شہزاد اکبر

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معاون خصوصی شہزاداکبر نے کہاہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کو واپس لانا شہباز شریف کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ ان کے ضمانتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے العزیزیہ کیس میں 8 ہفتے کی ضمانت ہوئی تھی، نوازشریف کو 4 ہفتے کیلئے علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی اور شہباز شریف نے ان کی ضمانت دی تھی۔

معاون خصوصی شہزاداکبرنے شہبازگل اور فیاض الحسن چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف کی صحت پر پوری قوم کو تحفظات تھے ،نوازشریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے 8ہفتوں کیلئے ضمانت ہوئی ،شہبازشریف نے گارنٹی دی کہ نوازشریف علاج کے بعدواپس آئیں گے ،نوازشریف کو 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک سے علاج کرانے کی اجازت دی گئی ،23دسمبر2019 کو دی گئی مہلت ختم ہو گئی تھی ۔

شہزاد اکبر نوازشریف اپنی میڈیکل رپورٹ حکومت اورعدالت کے پابند تھے، علاج تو دورکی بات تونوازشریف کوایک ٹیکہ بھی نہیں لگا،برطانوی حکومت کو خط2مارچ 2020کو لکھا گیا، نوازشریف نے پنجاب حکومت سے ضمانت میں توسیع مانگی ،میڈیکل بورڈ کو جو انہوں نے تفصیلات فراہم کیں وہ ناکافی تھیں، نوازشریف کی ضمانت عدالت اور پنجاب حکومت خارج کرچکی ہے، فیصلے کی کاپی بھی خط کے ساتھ لگا کر برطانوی حکومت کو بھیجی گئی۔

معاون خصوصی نے کہاکہ نوازشریف اس وقت لندن کی سڑکوں پر چہل قدمی کررہے ہیں ،نوازشریف سزایافتہ مجرم ہیں ،مجرم لندن کی سڑکوں پر گھوم رہا ہے ،نوازشریف کو واپس لانے کےلئے تمام طریقے کار اختیارکئے جائیں گے، نوازشریف کو واپس لانا شہبازشریف کی ذمہ داری ہے، نوازشریف کی صحت ٹھیک ہے وہ اپنی سزا ہنستے کھیلتے کاٹ سکتے ہیں،

پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے، اگر پاکستان بلیک لسٹ ہوگیا تو پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے گا، ہماری حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق اقدامات اٹھائے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق حکومت نے اقدامات کیے، ماضی کے حکمران خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث تھے، شہبازشریف ہی منی لانڈرنگ میں ملوث تھے تو پاکستان کیسے نہ گرے لسٹ میں جاتا،حدیبیہ پیپرملز، چودھری شوگر ملز یہ تمام منی لانڈرنگ کے کیسز ہیں،ہم نے جب اداروں کو آزاد کیا تو اداروں نے ہی کارکردگی دکھائی۔

شہزاد اکبر نے کہاکہ منی لانڈرنگ کے ایشو کی وجہ سے ہم گرے لسٹ میں ہیں، منی لانڈرنگ نظام کے اندر برداشت نہیں کی جاتی، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ منی لانڈرنگ کو ئی اہم چیز نہیں ہے،ایف اے ٹی ایف نے لسٹ دی ہے کہ ان چیزوں میں ترمیم کریں۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جو چاہتی ہے وہ این آر او پلس پلس ہے، لیکن حکومت یہ نہیں کرسکتی،جو قوانین ذاتی مفاد کے لیے بنائے جاتے ہیں وہ نہیں چلتے، اپوزیشن جماعتوں سے درخواست ہے کہ ملک کے لیے سوچیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -