طیب اردگان نے آیا صوفیہ کے بعد ایک اور انتہائی قدیم چرچ کو مسجد میں تبدیل کردیا

طیب اردگان نے آیا صوفیہ کے بعد ایک اور انتہائی قدیم چرچ کو مسجد میں تبدیل ...
طیب اردگان نے آیا صوفیہ کے بعد ایک اور انتہائی قدیم چرچ کو مسجد میں تبدیل کردیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان نے آیا صوفیہ کے بعد ایک اور قدیم گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ قدیم آرتھوڈوکس چرچ استنبول میں واقع ہے۔ آیا صوفیہ کی طرح اسے بھی سلطنت عثمانیہ کے دور میں 1453ءمیں چرچ سے مسجد میں تبدیل کیا گیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ترکی ایک سیکولر ریاست بن کر ابھرا تو اس مسجد کو آیا صوفیہ کی طرح میوزیم میں بدل دیاگیا۔ اب اس میوزیم کو ایک بار پھر مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔اس 1ہزار سال قدیم چرچ کی تاریخ بھی آیا صوفیہ سے ملتی جلتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق یہ حکم گزشتہ سال نومبر میں ترکی کی ایک عدالت نے دیا تھا جس پر اب صدارتی حکم نامے کے بعد عملدرآمد ہونے جا رہا ہے۔ آیا صوفیہ کی طرح یہ چرچ بھی یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل تھا۔ اس چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کرنے پر ترکی اور یونان کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر بھی یونان نے شدید احتجاج کیا تھا۔ یونان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ترکی کی طرف سے یہ ایک اور اشتعال انگیز قدم اٹھا لیا گیا ہے جس سے دنیا بھر میں موجود مسیحیوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے۔“

مزید :

بین الاقوامی -