پاکستانی وزیراعظم کے دہری شہریت والے خصوصی معاونین کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں؟ سروے کا حیران کن نتیجہ آگیا

پاکستانی وزیراعظم کے دہری شہریت والے خصوصی معاونین کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ...
پاکستانی وزیراعظم کے دہری شہریت والے خصوصی معاونین کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں؟ سروے کا حیران کن نتیجہ آگیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے کئی معاونین خصوصی دہری شہریت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے گیلپ پاکستان نے ایک سروے کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے لوگوں سے سوال پوچھا کہ آیا ان کے خیال میں دہری شہریت رکھنے والے معاونین خصوصی پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں؟ اب اس سروے کے حیران کن نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق یہ سروے 9جولائی سے 10اگست کے دوران کیا گیا جس میں 1300پاکستانیوں نے اس سوال کا جواب دیا۔ حیران کن طور پر ان میں سے 50فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ”ہاں دہری شہریت والے معاونین خصوصی پاکستان کے مفادات کا کماحقہ تحفظ کر سکتے ہیں۔“ صرف 39فیصد پاکستانیوں نے دہری شہریت رکھنے والے معاونین خصوصی کے خلاف ووٹ دیا۔ 

جب ان لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا ان معاونین خصوصی اور مشیروں کو اپنی غیرملک کی شہریت چھوڑ دینی چاہیے؟ تو اس کے جواب میں 69فیصد پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو صرف پاکستان کی شہریت رکھنی چاہیے، جبکہ 38فیصد نے اس سوال سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ دہری شہریت والے معاونین خصوصی اور مشیروں کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنا چاہیے اور دہری شہریت کے ساتھ ہی کام جاری رکھنا چاہیے۔ سروے میں 55فیصد پاکستانیوں نے ان دہری شہریت والے معاونین خصوصی اور مشیروں کو ایماندار قرار دیا اور کہا کہ ان کے مقابلے میں جو مشیر اور معاونین خصوصی صرف پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں وہ ایماندار نہیں ہیں۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -