رواں سال اکتوبر میں زمبابوین ٹیم کی میزبانی کس طرح یقینی بنائی جائے گی؟ وسیم خان نے بالآخر شائقین کے سوالات کا جواب دیدیا

رواں سال اکتوبر میں زمبابوین ٹیم کی میزبانی کس طرح یقینی بنائی جائے گی؟ وسیم ...
رواں سال اکتوبر میں زمبابوین ٹیم کی میزبانی کس طرح یقینی بنائی جائے گی؟ وسیم خان نے بالآخر شائقین کے سوالات کا جواب دیدیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے کہا ہے کہ زمبابوے کیخلاف سیریز میں پاکستان انگلش تجربے سے فائدہ اٹھائے گا جبکہ بائیو سیکیور ماحول یقینی بناتے ہوئے اکتوبر میں میزبانی کیلئے بہت زیادہ پرامید ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق برٹش ایشین ٹرسٹ کے ویبی نار میں وسیم خان نے بتایا کہ مجوزہ شیڈول کے مطابق تین ٹی 20اور اتنے ہی ایک روزہ میچز کیلئے زمبابوے کی ٹیم اکتوبر کے وسط میں پاکستان پہنچے گی، ٹور نومبر میں شیڈول تھا مگر 14 روزہ قرنطینہ کے پیش نظر مہمان کرکٹرز کو قبل از وقت بلایا جائے گا، سیریز کا آغاز نومبر کے پہلے ہفتے میں کریں گے، ہم پرامید ہیں کہ زمبابوین ٹیم پاکستان کے میدانوں کی رونقیں بڑھائے گی۔

چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ زمبابوین ٹیم کے دورے کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ شروع کرانے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے، زمبابوے سے سیریز اور ملکی سطح کے مقابلوں میں بائیو سیکیور ماحول یقینی بنانے کیلئے انگلینڈ کے کامیاب تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

یاد رہے کہ زمبابوین بورڈ دورہ پاکستان کیلئے اپنی حکومت کی جانب سے اجازت کا منتظر ہے اور وسیم خان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 5کے باقی میچز رواں سال ہی کرانے کیلئے پرعزم ہیں اور3 روزہ ونڈو تلاش کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے مفروضوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات بہت بہتر ہو چکے، رواں سال پی ایس ایل کے دوران 37 غیر ملکی کرکٹرز مختلف ٹیموں میں شامل تھے،میں دنیا سے کہوں گا کہ کھلاڑیوں سے پوچھیں کہ ان کا پاکستان میں قیام کا تجربہ کیسا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سب کچھ رکا ہوا تھا، ایسے میں کرکٹ کی واپسی بھی اہم تھی، ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، جب 10 پلیئرز کے ٹیسٹ مثبت آئے تو کافی دباﺅ بھی پیدا ہو گیا، بہرحال فیصلہ درست ثابت ہوا اور ہم خوش ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔

مزید :

کھیل -