خواتین پر تشدد اور بداخلاقی جیسے جرائم کو قانون پر عملدرآمد کرکے ہی روکا جا سکتا ہے: قانونی ماہرین 

خواتین پر تشدد اور بداخلاقی جیسے جرائم کو قانون پر عملدرآمد کرکے ہی روکا جا ...

  

لاہور(کامران مغل)ممتاز قانون دانوں نے گریٹراقبال پارک میں خاتون کے ساتھ شرمناک واقعہ کے حوالے سے کہاہے کہ قانون کے تحت کسی خاتون کو سرعام عریاں کرنے پر موت تک کی سزا ہوسکتی ہے،اس حوالے سے لاہوربار ایسوسی ایشن کے صدر ملک سرودنے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ گریٹر اقبال پارک (مینارپاکستان)میں خاتون کے ساتھ شرمناک واقعہ میں ملوث افرادکو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دے کر آنے والی نسلوں کے لئے اسے مثال بنانا ہوگا،حکومت کو بھی خواتین کوتحفظ دینے کے لئے قوانین میں مزید تبدیلی کرنی چاہیے،انہوں نے مزید کہا کہ لاہور بار ایسوسی ایشن متاثرہ خاتون کی قانونی مدد کے لئے بھی لائحہ عمل تیارکررہی ہے،سینئرایڈووکیٹ فیصل باجوہ نے کہا ہے کہ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 (اے)کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس کی سزا عمر قید اور سزائے موت ہے،اس لئے مدعی اور ملزم دونوں فریقین کو فیئر ٹرائل کا حق دینا چاہیے تاکہ ایسے واقعات کے ایسے جامع اور مؤثر فیصلے سامنے آئیں جن سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اوربداخلاقی کے واقعات عملی طور پر روکنے میں مدد مل سکے۔میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ گریٹر اقبال پارک واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ ابھی تک کے واقعات سے لگ رہا ہے کہ پولیس اور حکومت میڈیا اور سوشل میڈیا کے دباؤ میں آکر اقدامات اٹھا رہے ہیں، پولیس کے حکام آف دی ریکارڈ تسلیم کر رہے ہیں کہ جیسا وقوعہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر بتایا گیا یا بتایا جا رہا ہے، ویسا وقوعہ نہیں ہوا مگر سوشل میڈیا اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے پولیس حکام اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں لا پا رہے، متاثرہ خاتون عائشہ اکرم اپنے  ٹی وی بیانات پر کہتی ہیں کہ وہ دو سے تین بندوں کے علاوہ کسی کو نہیں شناخت کر سکتیں مگر پھر بھی پولیس ایسے لوگوں کو گرفتار کرتی جا رہی ہے جو اصل وقوعہ میں شامل ہی نہیں تھے، پولیس اور پراسیکیوشن کا یہی انداز ایسے مقدمات کو خراب کرتا ہے، پولیس کو چاہیے کہ صرف ان کی گرفتاری عمل میں لائے جو حقیقت میں جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،ممبر پنجاب بارکونسل کامران بشیرمغل نے کہاہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد معاشرہ کاناسورہیں انہیں قانون کے مطابق ضرور سزا ملنی چاہیے لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ ایسے ٹک ٹاکر ز پر فوری پابندی لگادی جائے جو عوام کو اپنے پیچھے لگاکر بعد میں اس طرح کے مسائل سے دوچارہوتے ہیں اورپاکستان کیلئے بھی دنیا میں بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔

قانونی ماہرین

مزید :

صفحہ آخر -