مقدمہ قتل، عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل منظور، بری کرنے کاحکم 

مقدمہ قتل، عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کی اپیل منظور، بری کرنے کاحکم 

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سہیل ناصر نے قتل کے مقدمہ میں ٹرائل کورٹ سے عمر قید کی سز پانے والے ملزم محمد عمر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کردیا ماتحت عدالت سے ملنے والی سزا کالعدم قراردیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی،یہ طے شدہ قانون ہے کہ کوئی بھی ملزم اس وقت تک مجرم نہیں ہوسکتا،جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے، 15صفحات پرمشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزمان سے اسلحہ کی ریکوری پر یقین نہیں کیا لیکن میڈیکل رپورٹ کے بنیاد پر سزا سنادی،ملزمان سے فرار ہوتے ہوئے دوبارہ فائرنگ کی لیکن انسپکشن کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا،یہ بھی طے شدہ قانون ہے کہ جرم ثابت کرنا پراسکیوشن کی ذمہ داری ہے، پراسکیوشن اس سے بھاگ نہیں سکتی،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ گواہ کے مطابق ملزمان موٹر سائیکل پر آئے لیکن جاتے وقت اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کے بھاگے پراسکیوشن کی اس کہانی کا کوئی سر پاؤں نہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلحہ موجود ہونے کے باوجود موٹر سائیکل چھوڑ کر بھاگیں؟پراسکیوشن پر اپنا کیس ثا بت کرنے میں ناکام رہی ہے،عدالت ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیتی ہے،ملزم محمد عمر کو 2012ء میں اپنے سسر کو قتل کرنے کے جرم میں ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بری کا حکم 

مزید :

علاقائی -