خواتین سے دست درازی،تشدد کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری

خواتین سے دست درازی،تشدد کے دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری

  

 لاہور (کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ گریٹر اقبال پارک میں خاتون پر تشدد اور دست درازی میں ملوث ملزمان کی شناخت اور گرفتاریوں کیلئے لاہور پولیس کی متعدد ٹیمیں شب و روز مصروف عمل ہیں اور گذشتہ روز کے دوران پولیس نے27 مختلف مقامات پر چھاپے مارے جس دوران مزید36ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور اب تک مجموعی طور پر گرفتار افراد کی تعداد66ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بزرگ شہری کو تفتیش کیلئے حراست میں لینے والے پولیس اہلکاراے ایس آئی خالد محمود کو معطل کردیا گیا ہے اور انچارج انویسٹی گیشن کو بھی شوکاز نوٹس دیا گیا ہے جبکہ بزرگ شہری کو اسی وقت رہا کر دیا گیا تھا اور انکوائری کے بعد اس ضمن میں مزید محکمانہ و قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔واضح رہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی 71سالہ معمر شخص کی گرفتاری کا نوٹس لیاہے۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام شواہد، تصاویر، ویڈیوز کے ساتھ ساتھ جیو فینسنگ سمیت دیگر جدید ذرائع سے بھرپور استفادہ کیا جارہا ہے تاکہ افسوس ناک واقعہ میں ملوث کوئی ملزم قانون کی گرفت اور قرار واقعی سزا سے بچ نہ سکے۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ خاتون کے ساتھ ناروا سلوک کرنے والے ملزمان کسی رعائیت کے مستحق نہیں اور پولیس ٹیمیں انہیں جلد از جلد گرفتار کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں اور تمام ملزمان کو مثالی سزائیں دلوا کر دوسروں کیلئے مثال بنایا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ خواتین اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کی روک تھام پنجاب پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے جرائم میں ملوث جنسی درندوں کو قرار واقعی سزائیں دلوانے کیلئے پولیس ٹیموں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ میرٹ اور قانون کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے مینار پاکستان واقعہ کی تفتیش کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اورمظلوم خاتون کو انصاف کی فراہمی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔مزید برآں پارک میں لڑ کی پر تشدد کی وائر ل ہونے والی ایک دوسری ویڈیو کا سراغ بھی پنجاب پولیس نے لگالیا اور مذکورہ ویڈیو آزاد کشمیر کے ضلع میر پور کی نکلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب کا ویڈیوکے حوالے سے آئی جی آزاد کشمیر پولیس سے ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق مذکورہ ویڈیومیر پور آزاد کشمیر کے شہری حسنین نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی تھی۔ایس پی، سی آر او نے حسنین کا نمبر ٹریس کرکے اس کے ساتھ رابطہ کرکے ویڈیو بارے دریافت کیا۔ حسنین نے دوران گفتگو تصدیق کی کہ مذکورہ ویڈیو جھری کس فیملی پارک میر پور،آزاد کشمیر کی ہے جہاں 14اگست کی شام 6بجے پارک میں آنے والی دو فیملیز کے درمیان جگھڑا ہوا تھا۔ حسنین کے مطابق اس نے ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کی لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے ڈیلیٹ کردیا تھا تاہم مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پیجز پر چلتی رہی اور کچھ ہی دنوں میں وائرل ہوگئی اور بغیر تصدیق لوگ اسے آگے سے آگے پھیلا تے رہے اور مینار پاکستان میں خاتون پر دست درازی کے واقعہ کے بعد اکثر سوشل میڈیا یوزرز نے اسے اقبال پارک سے منسوب کرنا شروع کردیا جو بالکل غلط اور حقائق کے برعکس ہے۔ آزادکشمیر پولیس مذکورہ ویڈیو کے حوالے سے قانونی کاروائی عمل میں لا رہی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہاکہ رکشہ میں خاتون سے دست درازی کرنے والے ملزمان کی پولیس نے شناخت کر لی ہے، دونوں ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کوشاں ہے۔ دوسری جانب لاہور میں خواتین سے بدتمیزی اور دست اندازی کے واقعات میں پولیس ملزموں کو پکڑنے میں ابھی تک ناکام نظرآرہی ہے،ملزمان پکڑنے میں ناکام ہونے پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے نیا حکم نامہ جاری کیا،آئی جی پنجاب انعام غنی نے میڈیا کے افسران سے رابطوں پر پابندی لگا دی۔

آئی جی پنجاب

مزید :

صفحہ اول -