سیف سٹی پروگرام اور دیگر کیمرے خراب کیوں؟

سیف سٹی پروگرام اور دیگر کیمرے خراب کیوں؟

  

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہدایت کی ہے کہ سیف سٹی نظام کے تحت لگائے گئے خراب کیمروں  کو فوری طور پر درست کرایا جائے۔ یوم آزادی کے موقع پر خواتین کے ساتھ ناشائستہ حرکات اور بے حرمتی کے مختلف واقعات کا جائزہ لینے کے لئے ہونے والے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ نہ صرف گریٹر اقبال پارک اور مینار پاکستان کے سی سی فوٹیج کیمرے خراب تھے بلکہ سیف سٹی پروگرام کے بھی 30فیصد کیمرے کام نہیں کر رہے۔ یوں اس منصوبے کے ایک تہائی حصے کی نگرانی نہیں ہو رہی، وزیراعلیٰ نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اورصوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کو ذمہ داری سونپی کہ وہ سب کیمرے جلد از جلد درست کرائیں، لاہور سیف سٹی پروگرام کا اصل منصوبہ 20ہزار کیمروں کی تنصیب کا تھا اور ان سے مجموعی طور پر پورے ضلع کی کوریج مقصود تھی، تاہم شہباز شریف کی سابقہ حکومت کے دور میں لاہور شہر کی کوریج پہلے ہوئی اور 8ہزار کیمرے نصب ہو سکے تھے، ان سے شہر کی دیکھ بھال اچھی ہو رہی تھی حتیٰ کہ جہاں جرائم کے حوالے سے اس جدید سہولت سے استفادہ کیا گیا، وہاں کئی گمشدہ بچے اور افراد ڈھونڈ کر لواحقین کو ملائے گئے۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس نے بھی سہولت حاصل کر لی اور ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیوں پر ای چالان کا نظام بھی نافذ ہو گیا، سیف سٹی پروگرام کے کنٹرول روم کا نہ صرف وزیراعلیٰ بلکہ وزیراعظم اور متعدد وزرا اور اعلیٰ حکام نے کئی بار دورہ بھی کیا اور اس منصوبے کی افادیت اور کارکنوں کے کام کی تعریف کی، تاہم کسی بھی موقع پر یہ نہ بتایا گیا کہ پورے کیمرے کام نہیں کر رہے۔ یہ انکشاف اب ہوا، جب خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے حادثات پر میڈیا میں شور مچ گیا، کسی بھی منصوبے کی افادیت اس کے درست کام سے ہوتی ہے، ایسا احساس ہوا کہ جب منصوبے بنائے جاتے ہیں تو بعداز دیکھ بھال کا نظام وضع نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے بتدریج کارکردگی میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اب یہ معلوم ہو چکا ہے تو لازم ہے کہ نہ صرف گریٹر اقبال پارک اور سیف سٹی والے کیمرے جلد از جلد درست کرائے جائیں، بلکہ جہاں جہاں بھی یہ نظام لگایا جا چکا ان کی بھی پڑتال کر لی جائے اور اب یہ لازمی قرار دیا جائے کہ ہر منصوبہ کی فزیبلٹی کے ساتھ بعد از تکمیل دیکھ بھال بھی شامل ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -