افغانستان میں امن کی روشن امیدیں 

افغانستان میں امن کی روشن امیدیں 

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے چار دہائیوں سے30 لاکھ سے زیادہ افغانوں کو پناہ دی۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ افغان طالبان، خواتین اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔افغانستان امن عمل میں پاکستان کی مخلصانہ کوششیں ایک ایسے خطے کے قیام کے لئے ہیں، جو پرامن خوشحال اور معاشی شراکت دار ہو،ہم نے مسلسل عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے پرامن حل کے لئے کردار ادا کرے۔ہم نے دہشت گردی پر قابو پا کر وطن کی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا،دُنیا کی کوئی طاقت ایک متحد قوم کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی، دشمن قوتیں ہائبرڈ وار کے ذریعے ہمارے معاشرے اور ریاست کو کمزور کرنے کے در پے  ہیں،پاکستان آرمی ان تمام چیلنجوں سے آگاہ ہے اور نبرد آزما ہونے کے لئے تیار ہے، ٹیکنالوجی اور مخصوص صلاحیتوں پر توجہ دے کر وطن کے دفاع کو  یقینی بنائیں گے۔تمام تر مشکلات کے باوجود آج کا پاکستان اقوامِ عالم میں مضبوط اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ہے۔ہمارے محنتی جوان ہمارا فخر اور سرمایہ ہیں،زندگی کے تمام چیلنجوں میں ایمان، اتحاد اور نظم کے رہنما اصول آپ کے مشعل ِ راہ ہیں، روایتی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف رسپانس، ایمرجنسی صورتِ حال ہو یا قدرتی آفات، افواجِ پاکستان  ہمیشہ قوم کے اعتماد پر پورا اتریں، وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فورتھ پاکستان بٹالین کو پرچم عطا کرنے کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور جو توقعات وابستہ کی ہیں وہ تاریخی تناظر میں بالکل درست اور بجا ہیں،کیونکہ ماضی میں افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے بڑے بے دریغ طریقے سے استعمال ہوتی رہی ہے،پاکستان میں جب دہشت گردی کی وارداتوں کے خلاف پاک فوج کے افسر اور جوان اپنی جانوں پر کھیل کر اس پر قابو پانے کے لئے کوششیں کر رہے تھے تو سوات اور دوسرے مقامات سے جو دہشت گرد کسی نہ کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،انہوں نے نہ صرف افغانستان میں پناہ گاہیں بنا لیں اور ان میں نئے دہشت گردوں کو تربیت دی، بلکہ بعدازاں پاکستان میں دہشت گردی کی بہت سی وارداتوں کے ڈانڈے انہی افغان پناہ گاہوں سے ملتے رہے،جو مقامی آلہ کار دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے تھے،انہیں افغانستان سے جاری ہونے والی موبائل ٹیلی فون سموں کے ذریعے ہدایات ملتی تھیں، پاکستان نے متعدد بار ان وارداتوں میں افغان سرزمین اور وہاں سے دوسری سپورٹ ملنے کے شواہد افغان حکام کو پیش کئے،لیکن یہ سلسلہ بند نہ ہو سکا، اب پاکستان کو قوی امید ہے کہ جو نئی حکومت بنے گی وہ پاکستان کی اس دیرینہ شکایت کا ازالہ کر دے گی اور اپنے ہاں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے گی۔

دُنیا کے بہت سے ممالک بھی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت میں وہ قوتیں دوبارہ سر اٹھا سکتی ہیں،جو دہشت گردی کی عالمی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں، لیکن طالبان رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو گا اور اُن کی حکومت میں کوئی دہشت گرد گروہ پنپ نہیں سکے گا، البتہ جن ممالک کو افغانستان کی سرزمین پر ہزیمت ہوئی وہ ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ متحرک ہونے کی کوشش کریں اور اِس وقت ان ممالک کا جو سفارتی عملہ خوف اور دہشت کے عالم میں افغانستان سے بھاگ رہا ہے وہ حالات سازگار ہونے پر جب واپس آئے تو پرانی روش پر گامزن ہو جائے،لیکن طالبان سے امید ہے کہ وہ  یہ پرانا دور واپس نہیں آنے دیں گے اور نہ صرف اپنے وطن کے اندر امن قائم کریں گے، بلکہ ہمسایہ ممالک کو اِس امن کے فوائد میں حصہ دار بنائیں گے۔ پاکستان نے اگر چالیس سال تک افغان بھائیوں کی مہمان نوازی کی ہے اور تیس لاکھ افغان اب بھی اِس کی سرزمین پر ہیں تو فصل ِ بہار پر اِس کا بھی حق ہے، ہمسائیگی اور مہمان نوازی کا حق بھی اِسی طرح ادا ہو سکتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی روشن اور درخشاں خدمات کا جو تذکرہ کیا ہے اس پر پوری پاکستانی قوم کو فخر ہے اور فوج کے جوانوں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ آج پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں اِکا دُکا تک محدود ہو گئی ہیں،ورنہ ایک زمانہ ایسا بھی گذرا ہے جب ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واردات ہو جاتی تھی اور یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا، پاک آرمی نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر کے اِس دہشت گردی کا خاتمہ کیا،جو قوم کے اتحاد کی وجہ ہی سے ممکن ہوا،کیونکہ دہشت گردی میں عام بے گناہ شہری بھی بڑی تعداد میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اب افغانستان میں امن کے جو امکانات روشن ہوئے ہیں توقع ہے کہ اس کے خطے کے حالات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اور پورا خطہ امن کے فیوض و برکات سے مستفید ہو گا۔

افغانستان میں نئی حکومت تشکیلی دور سے گذر رہی ہے،نئی حکومت میں کون کون شامل ہو گا، اس بارے میں بھی مشاورت کا عمل جاری ہے، طالبان یہ یقین تو دِلا رہے ہیں کہ وہ حکومت سازی میں افغانستان کے تمام فریقوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کریں گے۔البتہ جس قسم کے مشورے پوری دنیا سے آ رہے ہیں ان سب پر پورا اترنا شاید عملاً ممکن نہ ہو،مشوروں کے اس سیلاب کی چھان پھٹک کر کے ہی طالبان کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔البتہ انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اُن کی ترجیح اسلامی شریعت ہے،جمہوریت کے بعض دلدادگان ایسے بھی ہیں جو اپنے ہاں تو ایسی جمہوریت کم کم ہی گوارا کرتے ہیں،لیکن انہیں افغانستان میں ”مثالی جمہوریت“ مطلوب ہے، جس سے افغانستان تاحال آشنا نہیں ہے، ایسے میں طالبان کا کام آسان نہیں ہے۔ البتہ مشورہ دینے والوں کو  طالبان نے اگر پلٹ کر  پوچھ لیا کہ اُن کے اپنے ہاں کتنی جمہوریت ہے، اور بیس سال تک وہ کہاں سوئے رہے تو شاید مشورے دینے والوں کو جواب دینا آسان نہ رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -