پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی

پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی
پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی

  

اک ہنگامہ سا برپا ہے، تمام تر توجہ خواتین کے ساتھ بے حرمتی والے حادثات کی طرف ہو گئی یا پھر افغانستان میں طالبان کی کامیابی اور مابعد اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ ہوا کہ عام توجہ ملک کے دوسرے امور کی طرف سے ہٹ گئی اور سیاسی سرگرمیاں بھی نظر انداز ہوئیں، حالانکہ یہ نہ تو ختم ہوئیں اور نہ ہی کہیں زیرزمین چلی گئی تھیں۔ 

جہاں تک سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے خبروں کا تعلق ہے تو وہ بھی افغان مسئلہ ہی سے زیادہ متعلق ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے گو اپنے موقف کا اعادہ کیا اور حکومت کی تین سالہ کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہبازشریف نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور ان کیمرہ اجلاس میں اراکین کو اعتماد میں لیا جائے، وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، اس لئے بھی انہوں نے اجلاس کی بات کی ہے۔ قومی اسمبلی میں دوسری اور سینیٹ میں اول حیثیت کی حامل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی افغانستان کے مسئلہ پر محتاط رویہ اختیار کرنے اور طالبان سے رابطے کا مشورہ دے کر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی تجویز دی اور پھر خود اطمینان سے براستہ دبئی واشنگٹن روانہ ہو گئے۔روانگی سے قبل انہوں نے اپنی جماعت کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا اس میں افغان مسئلہ کے علاوہ ملکی صورت حال اور کورونا کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ اس اجلاس ہی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں اجلاس کا مطالبہ سامنے آیا اور انہوں نے خود ہی انکشاف کیا کہ وہ پھر واشنگٹن جا رہے ہیں اور پھر چیخیں نکلیں گی، تاہم یہ چیخوں والی ان کی خواہش یوں پوری نہ ہوئی کہ انہی دنوں افغانستان میں حیرت انگیز طور پر طالبان کا کابل سمیت پورے ملک پر قبضہ ہوا اور ساتھ ہی عشرہ  محرم چل رہا تھا، اس خبر کو ان کے اپنے جماعتی قد کے مطابق بھی جگہ نہ مل سکی۔ وہ اب واشنگٹن میں ہیں تو بھی خبر نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کے گزشتہ دورے کو بڑی اہمیت دی گئی اور سرکاری ترجمانوں نے طنزیہ گفتگو بھی کی، تاہم شاید سابقہ تجربے ہی کی بنیاد پر وہ اس بار خاموش ہیں، میں نے پہلے بھی گزارش کی اور اب پھر عرض کر دیتا ہوں کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جو وہاں ایک یونیورسٹی اور تھنک ٹینک سے منسلک ہیں۔ بلاول کے لئے لابنگ کر رہے ہیں اور ان کے لئے لیکچرز کی گنجائش بنوا رہے ہیں گزشتہ دورے میں بلاول نے پرنسٹن یونیورسٹی کی دعوت پر لیکچر دیا تھا، اس بار دعوت کہاں سے حاصل کی گئی کوئی بتا نہیں رہا جہاں تک حسین حقانی کا تعلق ہے تو وہ اپنی اہمیت کی خود ہی شخصیت ہیں کہ جماعت اسلامی سے اٹھان لے کر مسلم لیگ سے تعلق بنایا، پھر یہی حسین حقانی محترمہ کے دور وزارت عظمیٰ میں ان کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات بنے، جبکہ آصف علی زرداری کے دور صدارت میں امریکہ میں سفیر تعینات ہوئے انہی کے حوالے سے مبینہ قابل اعتراض چٹھی کا تنازعہ سامنے آیا اور سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا، یہ عدالت سے اجازت لے کر امریکہ گئے اور پھر واپس نہیں آئے وہ کیس کہاں ہے؟ یہ معلوم نہیں شاید عدالت عظمیٰ کے دفتر میں تاریخ پیشی کا منتظر ہے۔ یہی محترم حسین حقانی اب بلاول بھٹو کے میزبان ہیں۔

بلاول بھٹو تو چیخوں کا ذکر کرکے گئے ہیں، لیکن افغانستان میں امریکی ہزیمت نے صورت حال کو بڑی حد تک تبدیل بھی کر دیا اور دنیا بھر میں امریکہ کو خفت اٹھانا پڑی ہے۔ دنیا کی واحد سپرپاور کی 20سالہ سرمایہ کاری ہی ضائع نہیں ہوئی بلکہ امریکی اور نیٹو افواج کے فوجیوں کی اموات بھی اسی کے حساب میں درج ہوئی ہیں، اب دنیا بھر میں یہی سب زیر بحث اور زیر غور ہے۔ عالمی سطح پر ابھی بلاول کی گنجائش نہیں اسی لئے غیر ملکی حتیٰ کہ امریکی میڈیا نے بھی توجہ نہیں دی، وہ خود بوجوہ خاموش ہیں کہ یہ حکمت عملی حسین حقانی کی ہو گی۔ افغانستان میں سبکی کے باوجود امریکہ کی زیر زمین کارکردگی اور معاشی عالمی اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ طالبان نے یہ غرور بھی خاک میں ملا دیا، اس کے باوجود لوگ اب بھی امریکہ کی ریشہ دوانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی میں تو اب یہ بھی زیر بحث ہے کہ امریکہ ہی کی وجہ سے اور امریکیوں کی ریشہ دوانیوں کے سبب بانی پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو موت سے ہمکنار ہوئے۔ ان سمیت کرنل قذافی اور شاہ فیصل کا انجام بھی بخیر نہ ہوا، اس لئے امریکہ سے پیپلزپارٹی کو ویسی ہی توقعات کیوں؟ جیسی اب آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ سے لگا رکھی ہیں۔ سنجیدہ فکر حلقوں اور جیالوں کا تو موقف ہے کہ بلاول کو خود اپنے اعلان کے مطابق پارٹی کی تنظیم کی طرف توجہ دینا چاہیے کہ عوامی حمائت کے بغیرکوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا اور یہ عوامی حمائت کارکنوں کی ہی محنت کا ثمر ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عوام ہی کو بیدار کیا اور کارکنوں کی کثیر تعداد تیار کی تھی جو آج قبر میں پیر لٹکا کر بھی ”زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے“ کی گردان کرتے ہیں۔ بلاول یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان سے نوجوان نسل نے توقع وابستہ کر لی  ہے۔ خصوصاً جماعت کے پرانے جیالے اور ان کی اولاد ان کی عوامی سیاست کی منتظر ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وسطی پنجاب اگر خالی پڑا ہے تو جنوبی پنجاب بھی متاثر ہوتا ہے۔اگر یہ امور نہ سنبھالے گئے تو سندھ بھی متاثر ہو سکتا ہے، ایک جیالے کا کہنا ہے کہ یہ کون سا مشکل کام تھا کہ وسطی پنجاب کی صوبائی تنظیم کا اعلان کر دیاجاتا، لاہور کو پھر سے متحرک کرنے کے لئے صدر تبدیل ہو جاتا تو کارکنوں کو بھی حوصلہ ہو جاتا اور یوں پنجاب میں بھی حرکت ہوتی۔ ایک پرانے جیالے اور نقاد انجینئر نے تو واضح طور پر کہا ہے کہ حبیب جالب کی بات یاد رکھیں جنہوں نے محترمہ کو امریکہ جانے سے منع کیا تھا۔یہ صاحب تو آصف علی زرداری کی طرف سے مفاہمت مفاہمت کے فلسفے پر بھی بہت تنقید کر رہے ہیں،جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما اورکارکن تنظیم سازی میں تاخیر سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یوں بھی میرے اپنے خیال میں قومی اسمبلی میں عرصہ سے پیپلزپارٹی کا کردار نظر نہیں آ رہا، حالانکہ بلاول کے لئے یہ ایک بڑا اور اہم پلیٹ فارم ہے۔ بلاول بھٹو کو عوام اور کارکنوں پر اعتماد کرنا ہوگا، وگرنہ؟؟؟؟؟

مزید :

رائے -کالم -