افغانستان: بش اور بائیڈن کی بے بسی

افغانستان: بش اور بائیڈن کی بے بسی

  

"ہمیں بہت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ آزادی اور خوف کے مابین اب جنگ ہے۔ انسانی آزادی کا انحصار اب ہم پر ہے۔ ہماری قوم اور یہ نسل،اپنے عوام اور اپنے مستقبل سے تشدد کے اندھیرے کوہٹا دے گی۔ ہم دنیا کو اس مقصد کے لیے اپنے  جذبے اور کوششوں سے متحرک کریں گے۔ ہم نہیں تھکیں گے، ہم ہمت نہیں ہاریں گے، ہم ناکام نہیں ہوں گے۔ (تالیاں)۔" جارج ڈبلیو بش نے 20 ستمبر 2001 کو کانگریس کے مشترکہ سیشن اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ یہ تقریر  کے  اختتامی حصے سے انتخاب ہے۔11ستمبرکو امریکہ میں 4ہوائی جہا ز ہائی جیک ہوئے۔ دوجہاز ایک سو دس منزلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیو یارک کی بالائی منزلوں سے ٹکرائے ایک پنٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا ایک گرا لیا گیا یہی افغانستان پر حملے کی بنیاد بنی اور ”وار آن ٹیرر“ کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف  جنگ کو جارج ڈبلیو بش نے صلیبی جنگ قرار دیا۔ پھر ان الفاظ کو زبان کی لغزش قرار دیا۔ لیکن تاریخ  شاید اسے لغزش تسلیم نہ کرے۔2001 میں افغانستان پر حملہ، 2003 میں عراق پر حملہ، 2011ء میں لیبیا میں مداخلت اور حملہ، شام میں مداخلت اور حملے۔ اس کے علاوہ پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے۔ 2013ء میں مالی میں اسلامی تنظیموں کے خلاف کارروائی۔ فلپائن میں اسلامی تنظیموں کے خلاف کارروائی۔ آنے والا وقت حقیقت سے پردہ اٹھا دے گا۔ ایسی صورت میں شاید مؤرخ کو افغانستان میں فاتح طالبان کے لئے صلاح الدین ایوبی سے بہتر تشبیہ نہ مل سکے۔

نیویارک میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملے میں 2800 کے لگ بھگ افراد مارے گئے۔ جبکہ امریکہ نے بدلے میں دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی اس میں افغانستان، عراق اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ یاد رہے کہ نائن الیون کے سانحے کے بعد ”نائن الیون ٹرتھ موومنٹ“ بھی سامنے آئی،جس کا مطالبہ تھا کہ شفاف تحقیقات کی جائیں۔نائن الیون کے سانحے کے خفیہ گوشوں کو سامنے لایا جائے۔ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ اس تحریک نے میڈیا پر پیش کئے جانے والے امریکی مؤقف پر مضبوط اعتراضات کئے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی طالبان کے کابل قبضے کے بعد 16 اگست 2021 کی تقریر سے اقتباس دیکھئے۔"جو دلیل دیتے ہیں کہ ہمیں افغانستان میں قیام کرنا چاہئے، میں ان سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کتنی امریکی بیٹیوں اور بیٹوں کی نسلیں افغانستان کی خانہ جنگی میں جھونکیں گے جبکہ افغان فوجیں خود لڑنے کو تیار نہیں؟ کتنے مزید امریکیوں کی جانیں درکار ہیں؟ ارلنگٹن کے قومی قبرستان میں کتبوں کی کتنی ان گنت قطاریں آپ مزید چاہتے ہیں؟ میں ان غلطیوں کو نہیں دہراؤں گا جو ہم نے ماضی میں کیں؟ ایسے جھگڑے میں قیام اورلڑائی کی غلطی جو امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں تھا۔ غیر ملک میں خانہ جنگی کودگنا کرنے کی غلطی، امریکی افواج کی لامحدود شرکت سے ایک ملک کی تعمیرنو کی غلطی۔ یہ غلطیاں ہم دوبارہ نہیں کر سکتے کیونکہ دنیا میں ہمارے اہم مفادات ہیں جنہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔" امریکی صدرجو بائیڈن کے مطابق امریکہ نے افغان جنگ پر قریبا ایک ٹریلین امریکی ڈالرخرچ کئے۔ (ایک ٹریلین، ایک ہزار بلین کے برابر ہے۔) جبکہ غیر رسمی اندازے  کے مطابق یہ رقم دو ٹریلین امریکی ڈالرسے زائدہے۔

غیر ملکی ریڈیو چینل نے ملا عمر سے ستمبر2001ء میں انٹرویو کیا تھا۔انٹرویو کے آخر میں سوال کیا گیا کہ اگر آپ اپنی پوری طاقت سے امریکہ کے خلاف لڑیں۔ کیا طالبان کے لئے ایسا کرنا ممکن ہے؟کیا امریکہ آپ کو شکست نہیں دے گا؟آپ کے لوگ زیادہ تکلیف کا سامنا کریں گے۔ ملا عمر نے جواب دیا:" مجھے پورا یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ از راہ کرم آپ یہ نوٹ کرلیں۔اللہ پر بھروسے سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اگر آدمی اللہ پر توکل کرتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے گا۔ اس پر مہربانی فرمائے گا اور کامیابی اسی کی ہوگی۔" 15 اگست 2021 کو دنیا نے ملا عمر کے اس بھروسے کو کامیابی کی صورت میں ڈھلتے دیکھا۔ 

ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کابل میں واقع صدارتی محل کا منظر ہے۔ کرسی پر بیٹھے نوجوان نے بندوق میز پر رکھی ہے۔ پشت پر اسلحہ بردار جوان کھڑے ہیں۔کالی واسکٹ پہنے، سیاہ دستار سر پر سجائے، اس گھنی داڑھی والے نے سورہ النصر کی تلاوت کی:"جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔۔۔" طالبان نے کابل پر قبضہ کے ساتھ ہی افغانستان کی حکمرانی  پر اپنا مکمل اختیار حاصل کرلیا۔ اس قبضے کے دوران نہ دکانیں لٹیں نہ عزتیں۔لاقانونیت کی شکل دیکھنے کو  نہ ملی۔ طالبان کے سابقہ سربراہ  ملا محمدعمر کے صاحبزادے ملا یعقوب نے حالیہ آڈیو پیغام میں حریت پسندوں کو ہدایات دی ہیں کہ انھیں اپنے زیر قبضہ کابل سمیت تمام علاقوں میں کسی بھی شہری کے گھر میں داخل ہونے اور اْن سے کوئی چیز لینے کی اجازت نہیں ہے۔ طالبان کی جانب سے افغانستان کے تمام سرکاری اہلکاروں اور حکومتی عہدیداروں کے لیے بھی 'عام معافی' کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاریخ نے فتح مکہ پر  دشمنی کرنے والوں کے لئے معافی کا اعلان سنا تھا۔  اب افغانستان میں مدارس کے تعلیم یافتہ سے معافی کا اعلان سنا۔ مؤرخ امریکہ کی سپیس اور ملٹری ٹیکنالوجی رقم کرے گا۔ تو ساتھ ابو غریب، گوانتا نامو بے اور بگرام کے عقوبت خانے بھی رقم کرے گا۔ مؤرخ طالبان کی بے سروسامانی ذکر کرے گا۔توساتھ ان کی  جانب سے عام معافی کا اعلان بھی ذکر کرے گا۔ 

چین نے امریکہ کو کابل ایئر پورٹ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے عراق اور شام کے بعد اب افغانستان میں بھی تباہی مچا کر رکھ دی ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے منگل کو بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کی فوج جہاں جاتی ہے، بیشک وہ عراق ہو، شام یا افغانستان، وہ اپنے پیچھے بد امنی، تفریق اور تباہ شدہ گھر چھوڑ کر جاتی ہے۔ امریکہ کی طاقت تعمیر نہیں تباہی ہے۔

اس جنگ میں ایک جانب کالجوں کے تعلیم یافتہ تھے، دوسری جانب مدارس کے فیض یافتہ تھے۔ایک جانب مادی وسائل پر بھروسہ تھا،دوسری جانب مالک کائنات پر بھروسہ تھا۔ایک جانب نیویارک، واشنگٹن اور ہالی وڈ تھے، دوسری جانب قندھار، قندوز اور کنڑتھے۔ ایک جانب ایساف،ناٹو اور اکاون ممالک کا گٹھ جوڑ تھا،دوسری جانب طالبان اور طلبہ کی جماعت تھی۔ایک جانب وسائل کا انبار تھا، دوسری جانب مسائل کے پہاڑ تھے۔اس منظرنامے کو دیکھ کر دْنیا کی اکثریت امریکہ اور اتحادیوں کی ہمنوا تھی۔ طالبان کے لئے آواز بلند کرنے والے ہوش و خرد سے عاری ہونے کا طعنہ پاتے تھے۔لوگوں نے طالبان سے رخ موڑ لیا تھا اور طالبان نے رخ مالک کائنات کی  جانب موڑ لیا۔ پھر بیس برس  بعد وہ حیران کن منظر دنیا بھر کی میڈیا سکرین پر دیکھا گیاکہ ٹیکنالوجی،اسلحہ، یونیورسٹیاں، ترقی، فلک بوس عمارتیں اور افواج ہار گئیں۔ ایمان، بے سرو سامانی، کچے گھر، مدارس، قدامت پسندی اور طالبان جیت گئے۔ مالک کائنات کا فرمان ہے:”آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے“ ……(آل عمران:آیت26)

مزید :

رائے -کالم -