بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی 

بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی 
بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بھارت عرصہ دراز سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے،حکمرانوں نے کئی بار دھمکیاں بھی دیں کہ پاکستان کشمیر کے ایشو کو چھوڑ کر بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے،ورنہ پاکستان کو بلوچستان سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ بھارتی جاسوسوں کا نیٹ ورک افغانستان کے راستے بلوچستان میں بڑی آسانی سے کام کر رہا ہے جو گمراہ مقامی نوجوانوں پر مشتمل ہے چند علیحدگی پسند رہنما بھی بیرونی ممالک میں بیٹھ کر علیحدگی پسندی کو سپورٹ کر رہے ہیں ان کو بھی بھارتی امداد ملتی ہے بھارت ان کو رقوم کے علاوہ سیاسی پناہ بھی دیتا ہے بلوچستان اور بھارت کے درمیان بظاہر کوئی سرحدی رابطہ نہیں، وہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا رہا ہے لیکن اب لگتا  ہے کہ بھارت کے لئے ایسا کرنا مشکل ہو جائے گا  پاکستان کے اندر موجود چند سیاسی لوگ افغانستان کی خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے اور افغانستان کو تجارت کے لئے فری ٹریڈ جیسی سہولت دی ہے افغانستان تک ہر طرح کی زمینی اور سمندری تجارتی سہولتیں فراہم کرتا ہے، اگر حالات بہت زیادہ خراب نہ ہوں تو اس پالیسی پر عمل ہوتا رہتا ہے، اس کے باوجود 1975ء تک بھارت کی شہ پر افغانستان نام نہاد پشتونستان کا ڈھول بجاتا رہا  افغانستان پر روس کے حملے کے بعد یہ ڈھول بند ہوا۔ اب بھی کچھ عناصر اس مردہ جسم سے لپٹے ہوئے ہیں، لیکن یہ لوگ ان شاء اللہ ناکام رہیں گے، بھارت ہر طرح سے پاکستان کو کمزور کرنے اور بیرونی دنیا میں مختلف طریقوں سے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلوچستان میں آئے روز پیرا ملٹری فورس اور دوسری سرکاری ایجنسیوں کے خلاف دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے لاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں بھارتی ایجنسیوں نے دہشت گردی کی ایک واردات کی، اللہ تعالیٰ نے پاکستانی ذمہ داروں کو ہمت دی کہ انہوں نے چند دنوں میں اس کا سراغ لگا کر ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ یہ واقعہ بھی  ”را“ کے کرداروں سے ملتا ہے، پاکستان کشمیر کی حمایت میں ہر طرف سے دشمنوں کی خطرناک چالوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔”را“ کے  اعلیٰ تربیت یافتہ ایجنٹوں نے سابقہ ادوار میں بلوچستان کے ذریعے گوریلا جنگ کے لئے گمراہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر بلوچستان کو الگ کرنے کی کوشش کی تھی اللہ کا شکر ہے کہ بے شمار لوگوں نے ان کو ناکام کیا۔ اب بھی بھارت بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود  اسے اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہو رہی وادیئ کشمیر میں کشمیری 75 سالوں سے آزادی کی تحریک خود چلا رہے ہیں، ان کے اس حق کو اقوام عالم اور اقوام متحدہ تسلیم کر چکے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کی اکثریت کے جذبات اور حقوق کے برعکس کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے۔ 8 لاکھ مسلح فوج کشمیر میں تعینات ہے۔ ب بھارت نے لاکھوں بھارتی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا شروع کر دیاہے تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو ختم کیا جا سکے۔ ان بھارتیوں کو بھارتی حکومت بجلی، آٹا، دال، چاول گوشت سبزیاں تیل اور پٹرول سے لے کر گیس تک  سبسڈی دے رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی اس طرف راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،لیکن کشمیری عوام آزادی کے نعرے لگا کر قربانیاں دے رہے ہیں اور ان تمام مراعات کے باوجود کشمیری شہروں، دیہاتوں، میدانوں اور پہاڑیوں  میں بھارت سے نبرد آزما ہیں۔ 


کشمیر میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے جاتے ہیں اور کشمیری جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے یوم آزادی 14 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں بھی یوم آزادی منایا گیا۔ بھارتی حکومت کشمیریوں پر ظلم و ستم کر کے انہیں آزادی سے محروم رکھنے کی کوشش میں ہے بھارت ان شاء اللہ بلوچستان میں اپنے مذموم ارادوں میں ناکام ہوگا، بلوچستان میں کچھ لوگوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تھے،وہ اب مکمل کنٹرول میں ہیں اور سیاسی حکومت اپنے عوام کو ان کے جائز حقوق دینے میں کوشاں ہے۔ بھارت دنیا کے کسی ملک کے صحافی کو بھی مقبوضہ کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا، وہ کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر انسانیت سوز ظلم کر رہا ہے،لیکن کشمیری رہنما آزادی سے کم کسی مطالبے پر راضی نہیں ہو رہے۔ دنیا کی انصاف پسند حکومتوں اور تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروائے تاکہ کشمیری عوام اپنی مرضی سے حق خود ارادیت حاصل کریں۔ کشمیری عوام کو آزادی سے روکنا اب بھارتی  حکومت کے بس میں نہیں ہے، دیر ہو سکتی ہے، اب اندھیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی حکومت کشمیریوں کی جس طرح اخلاقی اور سیاسی مدد کر رہی ہے، اب اس سے آگے نکل کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کرنے اور دنیا کے ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھانے کی ضرورت ہے  اب ان شاء اللہ پاکستان میں بھارت مکمل طور پر ناکام ہوگا، اگر کوئی بھی بھارت کے ساتھ دوستی نبھانے کی کوشش کرے گا تو پاکستانی عوام اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -