افغانستان کے ”ماڈریٹ طالبان“

افغانستان کے ”ماڈریٹ طالبان“
افغانستان کے ”ماڈریٹ طالبان“

  

مال روڈ پر بیٹھا ہوا ایک محنت کش عبدالجبار باجوڑی افغانستان میں طالبان کی کامیابی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ حقداروں کو ان کا حق مل گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ وہی طالبان ہیں جو باجوڑی صاحب کے گمان میں ہیں یا پھر امریکہ نے پرانے طالبان پر کام کرکے انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنالیا ہے؟ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا، فی الحال تو ہم بھی عبدالجبار باجوڑی کے ہمنوا ہیں۔

کمال تو یہ ہوا کہ نعرہ تو پاکستان میں لگا تھا مگر ’تبدیلی‘ افغانستان میں آگئی اور اس قدر تبدیلی آگئی ہے کہ اب طالبان پہچانے سے بھی نہیں پہچانے جاتے ہیں۔ طالبان کا نیا روپ سب کو حیران کئے ہوئے ہے۔ کسی کو یقین ہی نہیں آتا کہ طالبان اس قدر ماڈرن اپروچ بھی رکھ سکتے ہیں۔سچ پوچھئے تو افغانستان اس وقت ایک بے جوڑ صورت حال کا شکار نظر آرہا ہے۔ وہاں طالبان آتو گئے ہیں مگر ان کے طور اطوار ان طالبان سے نہیں ملتے جن کو ایک زمانہ جانتا ہے۔ اسی طرح اس مرتبہ خو د افغان شہری ان طالبان سے اسی طور ڈرے ہوئے ہیں جتنے 2001میں امریکی اور اہل یورپ ان سے خوفزدہ تھے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ طالبان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوگیا ہے یا افغانوں کا خوف اپ ڈیٹ ہوگیا ہے؟

طالبان کو اگر مقامی لوگوں کی سپورٹ نہیں ہے تو پھر کس کی سپورٹ حاصل ہے کہ وہ کابل پر قابض ہو گئے ہیں۔ ایک قیاس یہ کیا جا سکتا ہے کہ طالبان کو کابل کے لوگوں کی بھلے سپورٹ ہو نہ ہو، دور افتادہ صوبوں کے عوام کی حمائت ضرور حاصل ہوگی کیونکہ جس طرح کابل کے لوگ اپنا خوف بیان کر رہے ہیں (یایوں کہئے کہ بیان کرنے کی اداکاری کر رہے ہیں) اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کابل شہر افغانستان میں ایک چھوٹا سا امریکہ بن چکا ہے جہاں قدم قدم پر انگریزی بولنے والے، گرین کارڈ ہولڈر اور یورپی ممالک کا تواتر سے وزٹ کرنے والے لوگ رہتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورت حال اس افغانستان کی بھی ہے جہاں طالبان بار بار کہہ رہے ہیں ہم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم کسی کو کچھ نہیں کہیں گے بلکہ عام معافی کا اعلان کرتے ہیں، کسی کے گھر میں بھی نہیں گھسیں گے مگر کابل کے رہائشی،بالخصوص انگریزی فر فر بولنے والی خواتین ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ انہیں طالبان سے ڈرنے کی ضرورت ہے بلکہ ان کی باتیں سن کر تو لگتا ہے کہ پوری دنیا کو طالبان سے ڈرنا چاہئے۔20برس کا عرصہ بہت  ہوتا ہے۔ اس دوران ایک نسل جوان ہو کر ملکی نظم و نسق سنبھالنے کے قابل ہو جاتی ہے، افغانستان میں ایسا ہی ہوا ہے۔ وہاں امریکیوں نے نوجوان نسل کی ایک نئی کھیپ تیار کرلی ہے جو قدامت پسند افغانستان میں امریکی سوچ کی حامل ہے اور اب جبکہ طالبان لگ بھگ پورے افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں، یہ نوجوان نسل ایک متبادل بیانیہ پیش کر رہی ہے جسے یورپ اور امریکہ والے سمجھ رہے ہیں اور جو بات یورپ اور امریکہ والے سمجھ لیں اس کو سمجھنا ہمارے ہاں کے لبرل طبقوں کی مجبوری بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان بدل چکا ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا طالبان بدل گئے ہیں؟اس کا جواب بھی آنے والا وقت ہی دے گا، فی الحال تو ہم عبدالجبار باجوڑی کے ہمنوا ہیں۔

10مئی 2018کو انگریزی جریدے The Pulseمیں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی تھی جس کا پس منظر اس وقت اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل سفیر عبداللہ المعلمی کا وہ اخباری بیان تھا جس میں انہوں نے عالمی سٹیج پر مسئلہ افغانستان پراپنے ملک کے مصالحتی کردار کا تذکرہ کیا تھا۔ اس خبر کے مطابق جون 2017سے سعودی ولی عہد کے طور پر متمکن ہونے والے محمد بن سلمان کے زیر کمان سعودی عرب میں انتہا پسند طالبان کے مقابلے میں معتدل مزاج طالبان کی جہاں سرپرستی کی وہیں پر ایران، قطر اور پاکستان کو طالبان کے مختلف گروپوں کی حمائت سے بھی باز رکھا۔ خبر کے مطابق سعودی عرب نے سفارتی دباؤ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو تنہا کیا۔ ایک طرف ایران پر طالبان کی فوجی سپورٹ کا الزام لگا کر اسے ایسا کرنے سے منع کیا تو دوسری جانب قطر پر دباؤ ڈالا کہ وہ دوحہ میں قائم طالبان کا دفتر بند کرے۔اسی طرح پاکستان پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ وہ طالبان کی حمائت سے باز رہے۔ خبر کے مطابق اس دوران پاکستان نے ایک ہزار فوجی سعودی شاہی خاندان کی حفاظت کے لئے بھی روانہ کئے لیکن سعودی عرب اپنے موقف پر ڈٹا رہا جس کے لئے اسے واشنگٹن کی حمائت حاصل تھی۔ خبر کے مطابق سعودی عرب بالآخر معتدل مزاج طالبان کو مسئلے کے سیاسی حل کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ 

اب جب کہ معتدل مزاج یا ماڈریٹ طالبان کابل پر غلبہ پا چکے ہیں، محققین کا خیال ہے کہ اب بھی پورے معاملے پر سعودی عرب کی پوری طرح گرفت ہے اور جس طرح ولی عہد محمد بن سلمان اپنے ملک میں اصلاحات کے نام پر شہریوں، خاص طور پر خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کی سعی کر رہے ہیں بالکل ایسا ہی ایک ماڈل افغانستان میں بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک اچھی کاوش ہے تاہم اگر تنہا رہ جانے والے انتہا پسند طالبان نے دوبارہ سے کہیں سے حمائت حاصل کرلی تو افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اس خطے کی ترقی اور امن پر بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ابھی دوربینیں ایک طرف رکھ کر آنکھیں موند کر اور پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھنے کا وقت نہیں آیا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -