پاکستان مستحکم افغانستان کا حقیقی خواہشمند ہے، برطانوی آرمی چیف

 پاکستان مستحکم افغانستان کا حقیقی خواہشمند ہے، برطانوی آرمی چیف

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سر نکولس کارٹر نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان کا حقیقی خواہش مند ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انٹرویو کے دوران برطانوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سرنک کارٹر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ پاکستان پرامن اورمستحکم افغانستان کا حقیقی خواہش مند ہے۔میزبان صحافی کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ الزامات لگائے جاتے ہیں کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت دہشتگردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں موجود ہیں جس پر سرنک کارٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چیلجز کا سامنا کیا۔ پاکستان میں تین دہائیوں کے دوران 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ان میں سے کیسے پتہ چلے گا یہ دہشتگرد ہے، پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بہت حقیقی ہے، وہ ایک مستحکم اور معتدل افغانستان چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی افواج اس وقت افغانستان میں طالبان کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہیں۔ برطانوی فوجی کابل ایئر پورٹ کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں اور شہر کے وسطی حصے کو پرسکون رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہہ رہے جو ملک سے نکلنا چاہتے ہیں۔ وہ اس وقت معقول انداز میں پیش آرہے ہیں۔اس سے قبل امریکا نے بھی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور فریقین کے درمیان تصفیے کے لیے پاکستان اور چین ہماری مدد کریں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تمام پڑوس ممالک افغانستان میں استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بائیڈن انتظامیہ امن کے لیے افغانستان کے تمام پڑوسیوں سے رابطے میں ہے اور ہم نے افغانستان کے تمام پڑوسیوں بالخصوص پاکستان اور چین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیاسی تصفیے کی تیاری میں ہماری مدد کریں۔ یہ سب کے مفاد میں ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ چاہے پاکستان ہو یا چین ہو یا پھر وہ ممالک ہوں جن کا افغانستان میں کوئی نہ کوئی کردار رہا ہے، ہم نے ان سب کے ساتھ تعمیری گفتگو جاری رکھی ہے حالانکہ جب چین کی بات آتی ہے تو ظاہر ہے کہ ہمارے مفادات بہت کم ہوتے ہیں۔

 برطانوی آرمی چیف

مزید :

صفحہ اول -