مٹہ،ملاکنڈ ڈویژن کے سرکاری کالجوں کے پروفیسرز اور لیکچرز سڑکوں پر

مٹہ،ملاکنڈ ڈویژن کے سرکاری کالجوں کے پروفیسرز اور لیکچرز سڑکوں پر

  

 مٹہ ( رحیم خان) خبیر پختونخوا ملاکنڈ ڈویژن کے سرکاری کالجوں کے پروفیسرز اور لیکچرز سڑکوں پر نکل گئے صوبائی حکومت کے بی او جی اور سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنے کی حکومتی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت حکومت اپنا فیصلہ واپس لیں ورنہ یہ احتجاج پشاور تک جاری رہیگی وزیر اعلی اور صوبائی حکومت غریب عوام کے بچوں کو سرکاری تعلیم سے محروم نہ کریں جوغریب والدین اج سرکاری کالجوں میں بچوں کی بہت کم فیس ایک سمسٹر کی ادا نہیں کر سکتے وہ کل ہزاروں روپے کہاں سے لاکر اپنے بچوں پر تعلیم حاصل کرینگے عوام سڑکوں پر نکلے اور صوبائی حکومت کو اس تاریخی ظلم کرنے سے پہلے انکے ہاتھ روکیں ملاکنڈ ڈویژن کے تاریخی تعلیمی ادارہ جہانزیب کالج کو پرائیوٹ کرنا خود وزیر اعلیٰ محمود خان کیلئے لمحہ فکر ہے کہ انہوں نے پورے صوبے میں غریب عوام کی بچوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی کوشش اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں ہم اسطرح کھبی بھی نہیں ہونے دینگے احتجاجی مظاہرہ سے مقررین کا خطاب تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز خیبر پختونخوا پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن ملاکنڈ ڈویژن کے تمام سرکاری کالجوں کے پروفیسرز اور لیکچرز نے مٹہ میں سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کیا مٹہ بازار میں ایک احتجاجی ریلی جو گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ سے شروع ہوکر مٹہ پریس کلب تک ہوئی  جس کی بعدمٹہ پریس کلب کے سامنے ایک  احتجاجی مظاہرہ ہوا مظاہرے سے صوبائی صدر جمشید خان صوبائی نائب صدور گوہر خان احسان اللہ ڈویژنل صدر سوات عبدالرشید جنرل سیکرٹری ملاکنڈ ظفریاب جنرل سیکرٹری فیض محمد اور دیگر مقررین نے خطاب کی اس موقع پر شرکاء نے بی او جی اور سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنے کی حکومتی فیصلے کی خلاف شدید نعرہ بازی کی مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی تمام سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنے کی ایک ناکام اور غریب عوام دشمن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جو عوام کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ جو غریب خاندان اج اپنے بچوں کیلئے فی سمسٹر تین ہزار روپے نہیں دے سکتے وہ یہ تمام سرکاری کالجز پرائیوئٹ ہوکر پھر تیس ہزار اور چالیس ہزار روپے کہاں سے لائینگے انہوں نے کہا کہ سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنا اصل میں غریب عوام کی بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ اگر غریب لوگوں سے تعلیم حاصل کرنے کا حق چھین لیا گیا تو یہ نوجوان کیا کرینگے یہ لوگ ضرور ان کاموں کو کرنے پر مجبور ہونگے جومعاشر ے کیلئے اس وقت ناسور تصور کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کیلئے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اپنے گھر کی وہ تاریخی تعلیمی ادارہ پرائیوئٹ اور فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس ادارے نے پورے ملک کیلئے بہت قیمتی لوگ پیدا کئے ہے اور پورے ملک میں تعلیم کی میدان میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت پر جہانزیب کالج سمیت صوبے دیگر سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنے نہیں ہونے دینگے اور وہ شدید الفاظ میں بی اوجی کے مذمت اور مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری کالجوں کو پرائیوئٹ کرنے کی اپنا فیصلہ واپس لیں اوران لوگوں کو مذید احتجاج کرنے پر مجبور نہ کریں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا تو ہم پورے صوبے کیساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سامنے دھرنا دینے سے بھی دریغ نہیں کرینگے یادر ہے کہ احتجاجی مظاہرے میں پورے ملاکنڈ ڈویژن کے سرکاری کالجوں کے پروفیسروں اورلیکچروں نے شرکت کی اس سے پہلے شرکاء نے مٹہ بازار میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی جبکہ گورنمنٹ افضل خان لالا پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ میں بھی اس سلسلے میں ایک کنونشن بھی ہوا جس سے مقررین نے خطاب کی 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -