خیبر،جمرود کے ڈاکخانہ ملازمین کی من مانیاں،عوام رل گئے 

خیبر،جمرود کے ڈاکخانہ ملازمین کی من مانیاں،عوام رل گئے 

  

جمرود(نمائندہ خصوصی)جمرود ڈاکخانہ ملازمین مقامی لوگوں کے قیمتی خطوط اورپارسل واپس کرکے عوام اور حکومت کو کرو ڑوں روپوں کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے مین بازارمیں واقع ڈاکخانہ کے ملازمین ڈاکخانے کے اندر بیٹھ کر صرف مفت میں تنخواہیں وصول کرتے ہیں یہ نہ ڈاک کو تقسیم کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کوئی اطلاع دیتے ہیں کہ ان کے خطوط یا پارسل آئے ہیں حالانکہ بہت سے لوگوں کے خطوط اور پارسل پر ان کے موبائل نمبر لکھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ دنوں کے بعد لوگوں کے اہم اور قیمتی خطوط اور پارسل اسی جگہ کو واپس بھیجتے ہیں جہاں سے آئے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو بلکہ سرکاری خزانے کو بھی سخت مالی نقصان پہنچ رہا ہیں جبکہ انہوں نے کئی سٹوڈنٹس کے امتحانی رول نمبرز اور لوگوں کے ملازمت کے انٹرویو لیٹرز بھی بغیر کسی وجہ کے واپس کئے ہیں جس کے نتیجے میں سٹوڈنٹس کے تعلیمی سال اور دیگر لوگوں کی نوکریاں ضائع ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے سعید زمان آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ جمرود کے ڈاک خانہ سٹاف نے ان کے تین چیکس جو اسلام آباد سے ان کے دفتر والوں نے اسی ڈاک خانے پر بھیجے تھے انہوں نے بغیر کسی وجہ کے اسلام آباد واپس بھیجے ہیں جن کا ثبوت میرے پاس موجود ہے حالانکہ اس پرمیرا موبائل نمبر بھی تھا اور پتہ بھی بالکل صحیح لکھا ہوا تھا اور باوجود اس کے کہ مجھے ڈاک خانے کے چند ملازمین جانتے بھی ہے،انہوں نے اعلیٰ سرکاری حکام سے اپیل کی ہے کہ جمرود ڈاکخانہ ملازمین کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کرے کیونکہ یہ لوگ اور بھی کئی غیرقانونی کام کرتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -