میر سلیمان داؤد کی واپسی

میر سلیمان داؤد کی واپسی
میر سلیمان داؤد کی واپسی

  

اخبارات میں (12دسمبر2014ء کو) خبر چھپی کہ خان آف قلات میر سلیمان داؤد نے پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واپسی کیلئے آغا سلیمان داؤد نے پانچ شرائط پیش کی تھیں جنہیں اصولی طور پر مان لیا گیا ہے اور رواں سال یا اگلے سال کے اوائل میں بلوچستان کے قبائلی عمائدین کا ایک وفد انہیں لینے کے لئے لندن جائے گا ۔ یہ خبر درست ہے اور اس ذیل میں اضافے کے لئے ایک خبر راقم کے پاس بھی ہے وہ یہ ہے کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو 2 دسمبر2014ء کو ایک مراسلہ موصول ہوا جس میں حکومت سے سلیمان داؤد کے لئے 200ملین روپے یعنی مبلغ بیس کروڑ پاکستانی روپیہ کی درخواست کی گئی ہے نیز ایک بلٹ پروف گاڑی ہمراہ تیرہ دیگر گاڑیوں کی ڈیمانڈ بھی کی گئی ہے ۔ اور خان قلات کے تحفظ کے لئے لیویز کی سیکورٹی بھی طلب کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مراسلہ وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ چکا ہو۔ ممکن ہے کہ سلیمان داؤد کو بلوچستان آنے پر آمادگی کی کوششوں میں سیاسی و قبائلی رہنماؤں کی تگ و دو شامل ہو مگر مراسلہ کمانڈر سدرن کمان کے آفس سے گیا ہے لہٰذا اس پیشرفت میں افواج کا کردار نمایاں لگتا ہے ۔چونکہ پیش ازیں پاک آرمی کے زیر اہتمام 14اگست اور دیگر قومی ایام میں خان قلات کا بیٹاشریک ہوتا رہا ہے اور ان دنوں یہ بحث صحافتی و سیاسی حلقوں میں ہوتی رہی ہے کہ بیٹے کی ان تقریبات میں شرکت کے فیصلے میں والد کی مرضی شامل رہی ہے ۔ خان کے لئے خود ساختہ جلاوطنی کا کوئی جواز بھی نہ تھا۔ ان کا بیرون ملک جانا غیر ضروری تھا۔بہر حال اسے جذباتی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس میں حکمت شامل تھی جس وقت وہ برطانیہ گئے تب بلوچستان کی سیاست میں غم و غصہ اور حکومت کے خلاف نفرت تھی کیونکہ 26اگست2006ء کو نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کا سانحہ پیش آچکا تھا ۔

ستمبر2006ء میں قلات میں بلوچ سیاسی قبائلی زعماء و عمائدین کا ’’گرینڈ بلوچ جرگہ‘‘ منعقد ہوا تھاجس میں نواب ثناء اللہ زہری، نواب ذوالفقار علی مگسی، نواب محمد خان شاہوانی، نواب اسلم رئیسانی سمیت 85بلوچ سرداروں کے علاوہ 300 معتبرین نے شرکت کی۔چنانچہ خان نے پاکستان سے ریاست قلات کے الحاق کو عالمی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرلی۔ اس دوران وہ مختلف یورپی ممالک اور امریکی ایوان نمائندگان ، صحافیوں اور دیگر سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے رہے بلکہ خان ہی کا دعویٰ ہے کہ ان کی کوششوں اور دیگر دوستوں کی جدوجہد کی وجہ سے آج بلوچستان اور اس میں موجود جدوجہد آزادی امریکہ اور دیگر ممالک میں پہچانی جاتی ہے ۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس میں بلوچستان کی آزادی کیلئے قرارداد پیش کی گئی۔ یورپی یونین ، سویڈن، ناروے ، جرمنی اور دیگر ممالک کی پارلیمان اور اقوام متحدہ میں بلوچستان میں ریاستی ظلم و جبر کے خلاف قراردادیں آئیں۔ خان قلات کا کردار بلوچستان کی سیاست میں مؤثر اور قابل رشک نہیں رہا۔ قلات کے اندر صوبائی اسمبلی کے حلقے تک اس خاندان کے افراد سیاسی جماعتوں کے سہارے کے محتاج رہے ہیں ۔ دو ہزار کی دہائی میں آغا سلیمان داؤد نے ’’ ایلم اتحاد‘‘ بناکر خود کو گویا براہوی زبان تک محدود کردیا تھا۔

اگر بات قیا م پاکستان سے قبل ریاست قلات کی ،کی جائے تو اس میں خوانین واجبی حیثیت کے حامل تھے اور یہ ریاست انگریز کے دم خم سے قائم تھی ،جس کی بحالی کے لئے سلیمان داؤد برطانیہ مقیم ہوگئے۔ ریاست کے نظم و نسق کی باگ ڈور انگریز ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھی۔ پولیٹیکل ایجنٹ قلات اے جی جی کا نمائندہ تھا اور وزیراعظم قلات پولیٹیکل ایجنٹ کا نمائندہ تھا۔ خان قلات کو ، قلات سے مستونگ جانے کے لئے بھی انگریز سرکار سے اجازت لینا پڑتی تھی۔ خان قلات میر احمد یار خان(میر سلیمان داؤد کا دادا) انگریز دور میں سرکاری ملازم تھے۔ انہیں 1920ء میں اے جی جی بلوچستان کا پرسنل اسسٹنٹ بنایا گیا۔ ایک سال پنجاب رجمنٹ میں فوجی تربیت دی گئی۔ ژوب ملیشیاء فورٹ سنڈیمن میں چار سال مختلف عہدوں پر فائز رہا۔1929ء میں چاغی میں بطور ایڈجوٹینٹ مقرر ہوا۔ انگریز آرمی میں جاسوسی کے شعبہ میں بھی کام کیا۔ اس وابستگی میں میر احمد یار خان نے روس کی افغانستان اور انگریز عملداری کے بلوچ پشتون خطوں میں اثر و نفوذ کی رپورٹیں انگریز سرکار کو دیں۔ ان رپورٹس کو حکومت نے اہمیت بھی دی۔ والد ( میر اعظم جان) کی وفات کے بعد 1933ء میں احمد یار خان کو گدی نشین بنایا گیا اور ایک انگریز آفیسر’’ ایڈورڈ ویکنیلڈ‘‘ ان کا وزیراعظم بنایا گیا۔ گویا ریاست مکمل طور پر انگریز عملداری میں تھا اور خان کی حیثیت نمائشی تھی۔

ریاست کے اندر سردار اپنے قبائلی دائروں میں با اثر بنائے گئے تھے ، ان سرداروں کو انگریز سرکار وظیفے دیا کرتی تھی بدلے میں انگریز کی اطاعت و حکم بجاوری ہوتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد کافی پس و پیش کے بعد میر احمد یار خان نے پاکستان کے ساتھ ریاست قلات کے الحاق نامے پر دستخط 27مارچ1948ء کو کردیئے۔ اس سے قبل خان کانگریس کی اعلیٰ قیادت، انگریز حکام اور افغانستان سے رابطے قائم کرچکا تھا لیکن ہرطرف مایوسی ہوئی اور خان کے پاس پاکستان سے الحاق کے سواء کوئی چارہ نہ رہا۔ یہ اور بات ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد حکمرانوں کا سلوک خان کیا بلکہ بلوچستان کے ساتھ اچھا نہیں رہا اور پاکستان ،بلوچستان کے اندر علیحدگی کی سوچ اپنے رویے اور آئین و قانون کی بالادستی کے ذریعے ختم نہ کرسکا ۔ پاکستان کے اندر مزاحمت کی پہلی اینٹ خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے رکھی۔ عبدالکریم ریاست قلات کا کمانڈر ان چیف تھا۔ تقسیم کے وقت مکران کا گورنر تھا ۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا تو 17مئی1948ء کو شہزادہ عبدالکریم ایک لشکر تیار کرکے افغانستان فرار ہوا۔ بلوچستان کے جنوبی سرحد سے متصل افغانستان کے علاقے ’’سرلٹ‘‘ میں کیمپ قائم کیا۔ یاد رہے کہ اسی ’’سرلٹ‘‘ میں نواب خیر بخش مری کا بیٹا نوابزادہ بالاچ مری بھی مقیم تھا۔ اسی علاقے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔ غرض میر احمد یار خان ہی نے شہزادہ عبدالکریم کو باغی قرار دیا۔ وہ تین ماہ افغانستان میں رہے جب پاکستان آئے تو ساتھیوں سمیت گرفتا رکرلئے گئے ،دس سال قید کی سزا سنائی گئی ۔

شہزادہ عبدالکریم نے نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست بھی کی ۔ اچھی بات ہے کہ سلیمان داؤد بلوچستان آئے اگر وہ صوبے میں امن کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر قادر رہے تو اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے ۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ انہیں سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ آزادی کا دعویٰ لیکر بیرون ملک گئے تھے۔ چنانچہ علیحدگی پسندوں کی نظروں میں معتوب ہوں گے۔ گوریلا رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر تو اب بھی انہیں مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میر سلیمان داؤد بہت سارے راز بھی ہمراہ لائیں گے ،علیحدگی پسندوں سے اختلاف کی صورت میں پنڈورا باکس کھل سکتا ہے۔ بہرحال حکومت کو چاہیئے کہ وہ حیربیار مری، مہران مری ، براہمداغ بگٹی ، جاوید مینگل اور ڈاکٹر اللہ نذر سے بھی بات چیت کا آغاز کرے اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے ۔ براہمداغ بگٹی کے دادا نواب اکبر بگٹی نے کبھی بھی علیحدگی کی سوچ نہیں اپنائی حتیٰ کہ جب ان پر زندگی تنگ کردی گئی تب بھی نواب بگٹی نے ایسی کوئی بات نہ کہی بلکہ نواب نے ہمیشہ صوبائی خود مختاری پر اصرار کیا۔ ساتھ ڈیرہ بگٹی کی زیر زمین معدنیات پر اپنے اور قبائل کے حق پر کھڑے رہے۔ 2004ء میں بلوچستان پر بننے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے نواب نے اپنا (جمہوری وطن پارٹی) کا مؤقف کتابچے کی صورت میں پیش کیا جسے بگٹی ڈوسیر (Bugti Dossier) کا نام دیا گیا ۔ اس کتابچے میں ایک لفظ بھی پاکستان سے علیحدگی کا تاثر نہیں دیتا بلکہ18ویں آئینی ترمیم، نواب بگٹی کے مؤقف کے موافق نظر آتی ہے ۔

نواب کا مطالبہ تھا کہ’’1973ء کے آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں کہ صوبوں کے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات میں اس حد تک اضافہ ہو کہ ان کے عوام مطمئن ہوسکیں کیونکہ اس وقت فیڈریشن اور صوبوں کے مابین جو ناچاقی ، کشیدگی یا تنازعہ ہے اس کی بنیادی وجہ فیڈریشن کی غیر منطقی اور غیر متوازن ہیت ہے اس لئے پاکستان کا استحکام تنازعات کا مستقل حل اور عوام کی خوشحالی میں ہے لہٰذا 1973ء کے آئین مین دی گئی خود مختاری میں اضافہ کیا جائے ‘‘ ۔ گوادر پورٹ پر نواب بگٹی کو بھی تحفظات تھے ۔ باہر کی آبادی سے مقامی آبادی کو اقلیت میں بدل جانے کا خدشہ، انہیں دستاویزات کی فراہمی اور ووٹر لسٹوں میں اندراج پر اعتراض تھا ۔ نواب کہتے تھے کہ نئی فوجی چھاؤنیوں کامقصد مری بگٹی علاقوں میں گیس، تیل اور یورینیم کے وسیع ذخائر کو ہتھیانے کا منصوبہ ہے۔وہ آئینی حقوق اور بلوچستان پر مقامی باشندوں کے حق ملکیت اور وسائل کو بطور ان کی میراث تسلیم کرانا چاہتے تھے۔ اٹھارہویں ترمیم میں یہ امید پیدا ہوئی۔ اس ترمیم پر اپنی اصل شکل کے ساتھ عملدرآمد بلوچستان میں مفاہمت کی راہ ہموار ہونے میں مددگار ثابت ہوگا۔ میر سلیمان داؤد کا واپس وطن آنا مثبت اور حوصلہ افزاء اقدام ہے ،گو یا خان نے ریاست قلات کی مارچ 19 48 سے پہلے والی پوزیشن پر بحالی ،آزادی اور علحدگی کا نعرہ ترک کرکے پاکستان کو دل و جان سے تسلیم کر لیا ۔چنانچہ اب حکومت کو باقی رہنماؤں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خاطر عملیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ یہ ملک اور صوبہ مزید نقصان سے محفوظ ہو۔

مزید :

کالم -