نیا سال اور عالمی سیاست کے اُتار چڑھاؤ

نیا سال اور عالمی سیاست کے اُتار چڑھاؤ
 نیا سال اور عالمی سیاست کے اُتار چڑھاؤ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

2015ء رخصت ہوا چاہتا ہے ۔اس سال کی سب سے اہم خبر ایران کے ایٹمی پروگرام پر طے پا جانے والا معاہدہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد ایران اپنی پوری توجہ علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے پر دیتا ہے یا عالمی سیاست کے بہاؤ کے ساتھ صرف علاقائی مفادات کے تحفظ کی بجائے عالمی سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے اور ادا کرنے پر اپنی حکمت عملی ترتیب دیتا ہے؟۔۔۔دوسری بڑی خبر ترکی کی جانب سے روس کا لڑاکا طیارہ گرائے جانے کی ہے ،لیکن اس دوسری خبر نے پہلی خبر کے مدو جزر کو دھندلا دیا ہے۔ اب مشرق وسطیٰ کے حالات روس کی مداخلت اور اقدامات کے تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔ مغرب کا خیال تھا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ ایران کی مداخلت محدود کردے گا ۔

روس نے اسے بھانپتے ہوئے داعش کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دے دیا ،لیکن اس کا اصل مقصد بشار الاسد کی حکومت کو بچانا اور مخالفین کو دبانا ہے،اب مشرق وسطیٰ اس پس منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی مختلف تھی ،لیکن اب یہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی کش مکش اور طاقت کے توازن کا شکار ہوتا نظر آتا ہے۔ روس نے داعش کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ،اور اب فوج بھی بھیجی جا رہی ہے۔ سوال اُٹھتا ہے کہ جب نیٹو اور اس کے اتحادی وہاں کارروائیوں میں مصروف ہیں تو روس کی مداخلت، فضائی حملے اور اب فوج کی آمدکو کس نظر سے دیکھا جائے؟۔۔۔ خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ شام میں نیٹواور روس کی افواج کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہیں اور کسی بھی وقت تصادم کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ روس، شام کے صدر اور حکومت کو بچانے کے لئے آخری حدوں تک جانے کے لئے تیار ہے ،جبکہ نیٹو اور عرب علاقائی اتحاد باغیوں کی ہر طریقے پر مدد کر رہا ہے۔

*۔۔۔جس طرح یو کرائن اور کریمیا کی طرح یورپ کی فضا بدلی تھی، اس انداز میں روس کی مداخلت سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلح تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن پیرس میں ہونے والے افسوسناک واقعہ نے روس کی ترجیحات بدل دی ہیں اور وہ مجبور ہو گیاہے کہ اپنی توجہ اس حکومت کو بچانے کی بجائے داعش کے خاتمہ کی طرف توجہ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنیوا میں ہونے والا معاہدہ، جس کے تحت 18 ماہ کی مدت میں شام میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کا معاہدہ بھی ایک مثبت قدم ہے، مختلف آراء، تجزیوں اور تجاویز کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ

*۔۔۔(روس اور چین)۔۔۔ جس طرح روس دنیا میں اپنی ساکھ بچانے کے لئے پڑوس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں مداخلت پر مجبور ہوا، اِسی طرح چین کو بھی Pacific میں امریکہ کا سیاسی، معاشی اور دفاعی دباؤ کم کرنے کے لئے اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑے گا۔

*۔۔۔( افغانستان، پاکستان، بھارت) ۔۔۔افغانستان میں سیاسی استحکام پیدا نہ ہونے اور افغانستان کی طرف سے پاکستان خصوصاً افواج کونشانہ بنانے کی وجہ سے پاکستان کے لئے ضروری ہو جائے گا کہ اسلحہ کی موجودگی، ناکافی سمجھتے ہوئے استعمال کو بھی ضروری سمجھے، جس سے افغانستان میں شام اور جنوبی و وسط ایشیا جیسی صورت حال پیدا ہو جائے۔ اگر متحارب فریقین میں امن قائم کرنے کی کوشش ناکام ہوتی ہے اور بھارت اپنے قدم مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو داعش سے سامنا ہوگا نتیجہ؟ ظاہر ہے۔۔۔حکومت کواپنے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے خارجی مداخلت بڑھے گی، القاعدہ اور داعش کے علاوہ دیگر نان سٹیٹ عوامل مزید سر گرم عمل ہوں گے۔

حال ہی میں میاں نوازشریف کے دورۂ امریکہ کے دوران پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کی بات بھی ہوئی۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے، دور مار میزائل جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں کئی حلقوں میں تشویش کا باعث ہیں، جبکہ افغانستان کی صورت حال کو صرف ایک ’’بہانے‘‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

* ۔۔۔(امریکہ اورنیٹو ) نائن الیون کے بعد سے ہی امریکہ کی حفاظتی پالیسی، حکمت عملی اور ذرائع القاعدہ اور اب داعش کی سرگرمیوں کو روکنے یا ختم کرنے پر مرکوز رہی ہے، اس کے اتحادی عراق اور افغانستان اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے میں بالکل ناکام رہے ہیں مصر میں روس کے جہاز کے گرائے جانے کا واقعہ، پیرس میں حملے، دوبارہ ان ملکوں میں افواج کی موجودگی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں، جبکہ امریکہ کے آئندہ انتخابات میں یہ مسئلہ شدت سے زیر بحث آئے گا۔

*۔۔۔(مشرق وسطیٰ میں تبدیلیاں) ۔۔۔ اسلامی دنیا میں بڑی عجیب صورت حال جنم لے رہی ہے۔ سنی ریاستیں امریکہ اور نیٹوکے قریب ہیں اور مزید ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف علاقائی، شیعہ ریاستیں ایران، عراق اور شام روس کی مدد لینے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے روس ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتارہا ہے۔ دوسری طرف روس اور چین جنوبی اور وسطی ایشیائی مسلم ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں، خصوصاً پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات مضبوط تر کر رہا ہے۔بھارت کا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہے ،بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دونوں کا جھکاؤ ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ افغانستان میں صورت حال انتہائی کشیدہ، سنگین اور غیر یقینی ہے، حال ہی میں قندوز کے بعد قندہار پر داعش اور القاعدہ کی یلغار اس کا ثبوت ہے۔

*۔۔۔(امریکہ کے صدارتی انتخابات، سیاست ، ایک اور جنگ)۔۔۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ شام میں روس کی جارحانہ مداخلت نے امریکی حکومت کی مشرق وسطیٰ اور داعش کے خلاف حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔ امریکی حکمت عملی کا اس کے اتحادی بھی اور مخالف بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں ،خاص طور پر اگلے مہینوں میں ہم امریکہ کو مشرق وسطیٰ Pacific Region میں جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تاکہ اس کے اتحادیوں کو امریکی پالیسی میں کمزوری کا احساس نہ ہو۔ دوسری طرف اس کے سنی اتحادی شام کے مسئلے پر امریکہ سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً ایران کے ساتھ ایٹمی مسئلے پر سمجھوتہ طے پا جانے اور اس کے پیرس کے سانحہ کے بعد روس اور فرانس میں قربت ان کی پریشانی کو اور بڑھا رہی ہے۔

*۔۔۔پھر امریکی حکمت عملی، سیاست، معاشی صورت حال پر بھی سوالات ہیں کہ کیا ان حالات میں امریکہ ایک اور جنگ کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟ نائن الیون کے بعد عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت پر بحث جاری رہی کہ کیا یہ درست فیصلہ ہے؟ صحیح حکمت عملی اور اخراجات پر بھی بحث جاری رہی۔ 2007ء کے معاشی بحران نے صدر اوباما کو مجبور کیا کہ افغانستان اور عراق سے فوج نکال لی جائے، کیونکہ اخراجات میں کمی کرنا ضروری تھا، لیکن حالات نے ان دونوں فیصلوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیااور فیصلہ بدلنا پڑا ہے۔

*۔۔۔آئی ایس آئی ایس کے خلاف کھلی جنگ پر امریکہ میں کوئی بات سننے پر تیار نہیں اور داعش کے مسئلے پر ہی روس، شام امریکہ کی مشترکہ حکمت عملی کیونکہ علاقائی اتحادی افغانستان اور عراق اس کے اہل ثابت نہیں ہوئے کہ اس خطرے کا مقابلہ تو دور کی بات، سامنا ہی کر سکیں، ترکی میں روس کے جہاز کا گرایا جانا اور پیرس میں حملے کے واقعات یقیناً امریکی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ داعش کی وجہ سے امریکہ اورنیٹو افواج کی علاقے میں دوبارہ موجودگی ضروری ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ میں صورت حال بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ یورپ میں شام اور عراق سے مہاجرین کی آمد بھی ا یک حفاظتی اور معاشی مسئلہ بن گیا ہے۔

*۔۔۔(روس چین اور جنوبی ایشیا)۔۔۔عالمی امور میں روس کا اُبھرتا کردار اور اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستان روس کے ساتھ قریبی فوجی تعاون بڑھا رہا ہے۔ افغانستان میں چین کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں قندوز اور پھر قندھار پر طالبان کی چڑھائی کی وجہ سے وسط ایشیائی ریاستوں، چین اور روس کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھیں،اس کے ساتھ ساتھ پشاور کے قریب بڈھ بیر کے فوجی کیمپ پر طالبان کا حملہ متقاضی ہے کہ پاکستان افغانستان کے سیاسی استحکام کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لئے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کرے۔ پاکستان کے لئے یہ ویسی ہی صورت حال ہے، جیسی سعودی عرب کے لئے یمن اور ترکی کے لئے شام۔ ان حالات میں طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال بھی ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اپنی سرحدوں پر حملے کے خطرے کے پیش نظر (Pre emptive strike) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، یعنی سرحدوں کے اندر آنے والے خطرے کو سرحدوں کے باہر ہی روک لیا جائے۔ سعودی عرب اور ترکی کی طرح پاکستان کو بھی القاعدہ اور داعش کے ساتھ ساتھ اندرونی (داخلی) دہشت گردوں سے، جن کو باہر سے امداد ملتی ہے، نمٹنا پڑ رہا ہے جو پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں، خصوصاً جب سیاسی قیادت نے اپنا مستقبل پاکستان سے باہر محفوظ کیا ہوا ہے ،روس بھی یورپ کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے یو کرائن میں مداخلت پر مجبور ہوا، جبکہ شام سے صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہونے کا مطلب روس کے لئے مشرق وسطیٰ میں پیر رکھنے کے برابر ہوگا۔۔۔کیا یہی طرز عمل اور سوچ چین کوبھی اختیار کرنا ہو گی، کیونکہ امریکہ (Pacific Region) میں اپنی موجودگی اور طاقت کا اظہار فوجی اور معاشی طورپر بھی کر رہا ہے، لیکن کیا چین بھی طاقت کا اظہار اس انداز میں کرے گا، جس طرح روس نے شام میں کیا؟ (Million dollar Question) اگر ایسا ہوا تو Pacific کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اگلی (Hot spot) ہوں گی۔

*۔۔۔اکیسویں صدی کے دوران چین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان بہت سے معاملات پر قریبی تعاون قائم اور برقرار رہا ہے، چین اوریو اے ای کے درمیان 1984ء سے سفارتی معاہدہ ہونے کے بعد باہمی تعلقات اور تجارتی قربت بڑھی ہے، مستقبل کے لئے بہت سے معاہدوں پر مذاکرات جاری رہے ہیں۔

*۔۔۔امریکہ، پاکستان تعلقات، افغانستان، بھارت)۔۔۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مد و جزر کا شکار رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں امریکہ چین تعلقات ۔۔۔ امریکہ اور بھارت کے مابین سیکیورٹی ا ور معاشی معاملات پر قریبی تعاون اہم عوامل ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ، پاکستان تعلقات کی نوعیت پر اثر انداز ہوں گے۔ بھارت اور افغانستان کے تعلقات اور افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ، پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرحد سے ہونے والے حملے اور سازشیں، ان سب میں بھارت شریک کار ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک وقت آ جائے کہ طاقت کے اظہار کے ساتھ طاقت کا استعمال بھی ضروری ہو جائے، یہ سب عوامل مل کر افغانستان کو جنوبی اور وسط ایشیا کا شام بنا سکتے ہیں، خصوصاً جب داعش افغانستان میں اپنے قدم مضبوط کر رہی ہے۔

*۔۔۔افغانستان میں عدم استحکام اور کشیدگی عروج پر ہے۔ مذاکرات اور جنگ اکٹھے ایک مختصر عرصے تک تو ساتھ چل سکتے ہیں، ہمیشہ کے لئے نہیں۔۔۔ نائن الیون کے بعد سے القاعدہ کو دنیا بھر میں بے اثر کر دیا گیا، لیکن افغانستان میں طالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا، کہ اس کے باوجود کہ امریکی اورنیٹو افواج کی ایک لمبے عرصہ تک موجودگی سے ایسی تنظیموں کی سرگرمیاں مقامی مدد، جبکہ ہمدردی ا ور پناہ مہیا ہوئے بغیر جاری نہیں رہ سکتی ہیں۔ مغرب اور بھارت کی طرف سے یہ الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔ میاں نوازشریف کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی مذاکرات کا یہ ایک اہم نکتہ رہا۔ پاکستان کی طرف سے کشمیر میں مداخلت اور سرحدی خلاف ورزی اور بھارت کی فوج کی طرف سے Cold start doctrine کی بات کی گئی۔ جس کے بعد جنرل راحیل شریف کا دورۂ امریکہ اہم تھا، جس میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسٹرٹیجک اثاثوں اور دور مار میزائلوں کی بات بھی کی گئی۔ حقانی نیٹ ورک کی بات بھی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ سے ضرب عضب میں ان کو بھی نشانہ بنایا جائے۔

*۔۔۔بدلتا ہوا مشرق وسطیٰ، مختلف اقوام کے درمیان سیکیورٹی ا ور معاشی بلاک Sco- Brics اور Gcc (سنی مسلمان ممالک) شام میں داعش کے ساتھ ساتھ صدر اسد کے خلاف متفقہ محاذ، لیکن اسلامی دنیا میں ایک منفرد تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے، سنی ممالک یا سنی عرب ممالک کہنا زیادہ مناسب ہوگا، جو امریکہ اور نیٹوکے قریب ہیں ۔روس کے تعلقات شام ،عراق اور ایران کی شیعہ حکومتوں سے روز بروز گہرے ہو رہے ہیں، دوسری طرف چین اور روس جنوب اور وسط ایشیا کے ساتھ ساتھ Pacific کے مسلمان ممالک کے قریب پاکستان بھی روس اور چین کے زیادہ قریب ہو رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کی دوستی، افغانستان کا غیر یقینی مستقبل۔ یہ سب جاننے اور سمجھنے کے لئے پچھلی دو صدیوں کی تاریخ کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔

*۔۔۔سعودی عرب نے یمن میں پاکستان سے فوج بھیجنے کی بات کی تھی، بحرین اور سعودی عرب میں تو ایسا ہوا، لیکن یمن میں ایران کے حامیحوثیقبائل کے خلاف پاکستان کی فوج استعمال نہیں ہوئی۔ خدشہ ہے پھر کہتا ہوں خدشہ ہے کہ خدا نہ کرے اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی ، دیگر مسلمان ممالک اس کا حصہ بنتے گئے اور ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے تو ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کی طرح ایک بار پھر امت اسلامیہ کا شیرازہ بکھرتا نظر آتا ہے اللہ نہ کرے۔

مزید : کالم