باہمی کاروباری مواقع سے تاجربرادری فائدہ اٹھائے: ازبک سفیر

باہمی کاروباری مواقع سے تاجربرادری فائدہ اٹھائے: ازبک سفیر

اسلام آباد (این این آئی)ازبکستان کے انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اینڈ ریجنل سٹیڈیز کے ڈائریکٹر ولادیمیر نورو نے پاکستان میں تعینات ازبکستان کے سفیر فرقات اے صیدیقو کے ہمراہ اسلام آباد چیمبرکا دورہ کیا اور تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان اپنی جغرافیائی قربت سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے دوطرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بہتر کرنے پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستا ن کے سنٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹیجک سٹیڈیز کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) خالد عامر جعفری بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔ولادیمیر نورو نے کہا کہ ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سالانہ تجارت 520ملین ڈالر تک ہے اور دونوں ممالک نے اس کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے لیکن پاکستان کے ساتھ ازبکستان کی تجارت صرف 24ملین ڈالر تک ہے حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے عمدہ مواقع پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان ترجیحی بنیادوں پر دوطرفہ تجارت کو بہتر کرنے کی کوشش کریں جس سے دونوں کے عوام کیلئے زیادہ فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان ٹیکسٹائل، زراعت، توانائی، آٹوموبائل، ٹیریکٹروں کی پیداوار، فارماسوٹیکلزاور کمیکلز سمیت متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان نے 7فری اکنامک زون قائم کئے ہوئے ہیں اور حکومت نے بیرونی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات فراہم کی ہوئی ہیں لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سرمایہ کار ازبکستان میں مشترکہ کاروباری شراکتوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس کے ساتھ مضبوط تعاون کے قیام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کا فروغ ان کیلئے فائدہ مند نتائج کا باعث ہو گا کیونکہ پاکستان ازبکستان کے ذریعے مرکزی ایشیاء، یورپ اور روس کی مارکیٹوں تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے جبکہ ازبکستان پاکستان کے ذریعے جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر مارکیٹوں تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ تعاون کے تمام ممکنہ مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان اور ازبکستان اپنے نجی شعبوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوڈ پراڈیکٹس، ٹیکسٹائل، ادویات، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان سمیت متعدد مصنوعات ازبکستان کو برآمد کر سکتا ہے جبکہ ازبکستان پاکستان کو تیل و گیس، معدینات اور دیگر مصنوعات برآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آٹوموبائل اور صنعتی مصنوعات کی پیداوارکے ساتھ ساتھ زراعت، توانائی اور دیگر شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ٹرائی لیٹرل ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں جس سے تجارت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوں گی اور تینوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے سرمایہ کار سی پیک منصوبے میں جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ، نائب صدر نثار مرزا اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان و ازبکستان کے درمیان مضبوط تجارتی و اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید : کامرس