سیاسی جماعتیں باہمی لڑائی چھوڑ کر غیرملکی دباؤسے نمٹنے کیلئے مل بیٹھیں:افتخار ملک

سیاسی جماعتیں باہمی لڑائی چھوڑ کر غیرملکی دباؤسے نمٹنے کیلئے مل ...

لاہور(کامرس رپورٹر)سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر اور160پاک امریکہ بزنس کونسل کے بانی چیئر مین افتخار علی ملک نے تمام مرکزی سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے لئے اپنی سیاسی لڑائی کو ایک طرف رکھ کر امریکی وبھارتی سفارتی دباؤ سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے لئے مل بیٹھیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ اور بھارتی جارحانہ پالیسیوں کو مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان پر امریکی دباؤ کو کچلنے کے لئے متفقہ نقطہ نظر اپنانا چاہئے۔

اور غیر ملکی قوتوں کو واضع پیغام دینا چاہیئے کہ تمام اندرونی اور بیرونی سکیورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پورا پاکستان متحد اور ایک پیج پر ہے، بین الاقوامی برادری کو باور کرانا ضروری ہے کہ پاکستان کسی دہشت گرد گروہ کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانیہ کو مسترد کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ ٹرمپ کا موقف خطے میں اسٹریٹجک استحکام اور پائیدار امن کے مقاصد کے حصول کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اس لئے امریکہ پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دینے کی بجائے اس کی معیشت کی بحالی کے لئے ضروری مدد فراہم کرے تاکہ ہم دہشت گردی کے خلاف زیادہ مؤثر طریقے سے لڑ سکیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ امریکہ اور پاکستان 2013 کے تجارت اور سرمایہ کاری پر مشترکہ ایکشن پلان پر تعاون کو بڑھایا جائے کیونکہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ، پاکستان کا سب سے بڑا باہمی تجارتی پارٹنر اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا اہم ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ باہمی تجارتی حجم کو بڑھایا جائے جو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 5 ارب ڈالر کی سطح پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کو تسلیم کرے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم شراکت کے باعث پاکستان نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کو لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑا اور یہاں دہشت گردی شروع ہوئی جس کے مجموعی اثرات نے معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں اور ترقی کی شرح پر منفی اثرات مرتب کئے۔ اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کے نتیجہ میں پاکستان دنیا بھر کے برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور یوں پاکستان کی مصنوعات نے اپنے حریفوں کے مقابلے میں آہستہ آہستہ عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ کھو دیا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ پناہ گزینوں کے غلط بیانیہ پر اعتماد کرنے کی بجائے امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ مخلصانہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس