بھارت بھوٹان کیساتھ سرحد پر پوری طرح چوکس ہے،ڈوکلام میں موجودگی مستحکم کر لی ہے ، ڈائریکٹر جنرل مشرا

بھارت بھوٹان کیساتھ سرحد پر پوری طرح چوکس ہے،ڈوکلام میں موجودگی مستحکم کر لی ...

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی جریدہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت کی سب سے نئی پیرا ملٹری فورس ساشاسترہ سیما بال نے ڈوکلام بحران والی بھارت بھوٹان سرحدی چوکی کے ساتھ اپنی موجودگی مستحکم بنا دی ہے۔ڈائریکٹر جنرل راجنی کنٹ مشرا نے کہا کہ اس فورس کو مجموعی طورپر 734 سرحدی چوکیاں قائم کرنے کی اجاز ت ہے ۔خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان میں سے متعدد سرحدی چوکیاں قائم کی جا چکی ہیں۔اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے مشرا نے کہا کہ ایس بی کا ڈوکلام بحران کے بعد یا میں کوئی براہ راست کردار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری فورسز ٹرائی جنکشن کے عین نیچے تعینات ہیں تا ہم ہم بھارت بھوٹان سرحد پر چوکس ہیں اور ہم آئندہ مہینوں اور ہفتوں میں اس محاذ پر اپنی قوت میں بتدریج اضافہ کرتے جائیں گے۔

یہ فورس 1963ء سے بھارت ۔نیپال اور بھارت ۔بھوٹان سرحدوں کا دفاع کررہی ہے ، اس کی قریباً 70بٹالین ہیں ۔دریں اثنا ایس ایس بی کے انسپکٹر جنرل آپریشنز اے کے سنگھ نے کہا کہ ایسے علاقوں میں جہاں آبادی نہیں ہے کے علاوہ ایسے علاقوں میں جہاں سمگلنگ اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں لیزر باڑ تعمیر کئے جائیں گے، ایساایسے موقع پر کیا جارہا ہے جب نئی دہلی اور بیجنگ پروگرام کے مطابق سرحدی مذاکرات کرنے والے ہیں اور اس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول شریک ہوں گے، سقم کی سرحد کے قریب ڈوکلام پر بھارت چین سرحدی تنازع جون سے اگست تک جارہا ، سطح مرتفع ڈوکلام ، بھارت ، بھوٹان اور چین کے سہ طرفی سنگم کے قریب واقع ہے ،ٹھمپو اور بیجنگ دونوں اس علاقے کے دعویدار ہیں ، بیجنگ اور نئی دہلی دونوں کا کہنا ہے کہ دوسرے ملک کی فوجوں نے ان کے علاقے میں دراندازی کی ہے ،بھارتی فوج کے ڈوکلام میں ایک سڑک کی تعمیر سے چین کو روکنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، 29اگست کو بھارت نے اعلان کیا کہ وہ ڈوکلام سے اپنے فوجی واپس بلارہا ہے ۔

مزید : عالمی منظر