حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب 83بیلسٹک میزائل داغے : عرب اتحاد

حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب 83بیلسٹک میزائل داغے : عرب اتحاد

ریاض(آن لائن)یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے اب تک سعودی عرب کی جانب تراسی میزائل داغے ہیں۔اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی بن صالح المالکی نے شاہ سلمان ائیر بیس پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ اتحادی فورسز نے یمن میں میزائل داغنے کی جگہوں کو فضائی حملوں میں تباہ کردیا ہے سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کی جگہ کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کا اس وقت ملک کے 85 فی صد علاقوں پر کنٹرول ہے۔ نظامتِ بیحان کو حوثیوں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے۔یمن میں حالیہ فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں حوثی ملیشیا کے گیارہ ہزار سے زیادہ جنگجو مارے جا چکے ہیں۔نیوز کانفرنس کے دوران یمن کے شمالی شہر صعدہ میں میزائل تیار کرنے والی فیکٹریوں پر بمباری اور اس شہر میں حوثیوں کے فوجی ہیڈ کوارٹرز پر فضائی حملوں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔کرنل ترکی المالکی نے مزید بتایا کہ صنعاء کو حوثی ملیشیا سے آزاد کرانے کے لیے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔انھوں نے یمنی عوام پر زوردیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کے خلاف انقلاب کی تکمیل کے لیے آگے بڑھیں۔انھوں نے واضح کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب کی جانب بیلسٹک میزائل کے حملے کے باوجود عرب اتحاد یمنی عوام کو امدادی سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایندھن سے لدے بحری جہازوں کو تیس روز تک یمن کی بندرگاہوں میں داخلے اور وہاں لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جائے گی۔اس موقع پر یمن میں متعیّن سعودی سفیر محمد الجابر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ ملک میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے ایک جامع منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت یمن کی بندر گاہوں کی صلاحیت بڑھائی جائے گی اور سعودی عرب کی یمن کے ساتھ واقع سرحد ی گذرگاہوں کے ذریعے بھی انسانی امداد مستحقین تک پہنچائی جائے گی او ر اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔سعودی سفیر نے کہا کہ اتحادی فورسز کی قیادت سے رابطے کے ذریعے ایک محفوظ راہ داری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آیندہ دنوں میں اقوام متحدہ اور علاقائی امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی تفصیل کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

مزید : عالمی منظر