کوئٹہ چرچ سانحہ۔۔۔! اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں گرجاگھروں پر حملے اور اسلامی روایات!

کوئٹہ چرچ سانحہ۔۔۔! اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں گرجاگھروں پر حملے اور اسلامی ...

رانا شفیق پسروری

گزشتہ اتوار کے روز، کوئٹہ کے ایک گرجا گھر پر حملہ ہوا ہے کرسمس کی تقریب کے دوران میں مسیحی بھائیوں پر حملہ نہایت افسوس ناک بھی ہے اور قابل مذمت بھی۔ یہ حملہ صرف چرچ پر نہیں ہوا، اسلام، پاکستان اور مسلم روایات پر بھی ہوا ہے۔ ہر درد دل رکھنے والا اس اندوہناک واقعہ پر غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ یہ اسلامی روایات و تعلیمات پر ’’بم باری‘‘ ہے۔

اسلام رنگ و نسل اور علاقائی و طبقاتی تقسیم در تقسیم کے خاتمے کا دین ہے۔ اخوت و محبت، باہمی رواداری اور باہمی ہمدردی کا مستحسن دین نظام ہے۔ اس فطرتی دین میں اختلاف الوان و تباین لسان کی وجہ سے کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، بلکہ نیکی و احسان کی بنا پر عظمت اور رفعت ملتی ہے۔ اس میں ساری خلق و کائنات، خالق کا ایک کنبہ قرار پاتا ہے۔ اس لیے سب کو بہر حال ہر ایک کا ہر دم خیال رکھنا ہوتا ہے اور یوں انسان کہلوانے کا حق دار وہ ٹھہرتا ہے جو ’’انس سراپا‘‘ ہو۔ جس کے دل میں دوسروں کے لیے اخلاص و الفت ہو کہ ’’خالق نے پیدا کیا انسان کو درد دل کے واسطے۔‘‘

دین اسلام میں انسان کی زندگی نہایت قیمتی قرار دی گئی ہے۔ ایک انسان کا قتل گویا پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کی زندگی پوری انسانیت کی زندگی ہے۔‘‘

دوسروں کی خبر گیری، مسکینوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کا خیال رکھنا، دکھیوں کے دکھ بانٹنا (قرآنی حکم کے مطابق دین ہے اور اس طرف توجہ نہ دینے والا دین کو جھٹلانے والا بن جاتا ہے۔

ہمسایہ کو خوشی میں شامل کرنا اس کو تکلیف سے بچانا اور اس کو تسکین پہنچانا اور اس کو اپنی ٓسائش مٰں ساجھی بنانا یوں لازم کر دیا گیا ہے کہ کوئی نظریہ اور مذہب آڑے نہیں آ پاتا۔

رسول رحمت تو ہیں ہی ’’رحمت العالمین‘‘ کہ کائنات کا کوئی طبقہ و دائرہ آپ کے حیطۂ رحمت سے باہر ہو ہی نہیں سکتا۔ آپؐ کی بخشی ہوئی لطافتیں تو عام ہیں، اتنی عام کہ مسلموں اور غیر مسلموں ، یگانوں اور بیگانوں سبھی کو یکساں طور پر نہال کر چھوڑتی ہیں۔ آپؐ تو ان کے لیے بے قرار و مضطرب رہا کرتے تھے جن کا وتیرہ ہی آپؐ کو ایذا پہنچانا تھا۔ ساری ساری رات دنیا کے رہنے والوں (تمام) کے لیے دعائیں مانگتے اور گڑگڑا کر روتے ہوئے گزار دیتے تھے۔

مکہ والوں نے تھوڑا تو نہیں ستایا تھا کیا ستم تھا جو روانہ رکھا مگر’’رحمت جہاناں‘‘ نے غلبہ و فتح کے باوجود ان پر بھی ’’لاتثریب علیکم الیوم‘‘ کا تسکین بھرا بادل برسا دیا تھا۔ مجھے جس سوہنے نبیؐ سے تعلق خاطر کا دعویٰ ہے۔ اس پیارے نے تو واضح الفاظ میں کہا تھا: ’’جس نے کسی معاہد و ذمی‘‘ (غیر مسلم اقلیتی) پر ظلم کیا، اس کو ستایا، اس کی کوئی چیز اس کی دلی مرضی کے بغیر لی(وہ جان لے کہ) قیامت کے روز میں اس ذمی کا وکیل ہوں گا۔‘‘

یہ اسی کی تربیت کا اثر تھا کہ صحابہ کرامؓ مشکلات کے باوجود ’’ذمیوں‘‘ (غیر مسلم اقلیتی لوگوں) کے اموال و اسباب کی طرف نگاہ تک اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے، ’’ابو عبدالرحمنؓ کہتے ہیں، میں حضرت سعدؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، رات ہوئی تو قریب میں ایک ’’ذمی‘‘ کا گھر تھا، پتہ کیا، مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھا۔ حضرت سعدؓ نے مجھے کہا: ’’اگر تم ، کل قیامت کے روز، ایمان کی حالت میں اپنے رب سے ملنا چاہتے ہو تو اس (غیر مسلم) کی کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا۔‘‘ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: ’’چنانچہ ہم نے ساری رات بھوک کی حالت میں اس ’’ذمی‘‘ کی دیوار کے سائے میں گزار دی۔‘‘

اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کو ’’ذمی‘‘ کہا ہی اس لیے جاتا ہے کہ ’’اس کی جان و مال، عزت اور شہری حقوق کی کامل حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنے دین و طریق کے ساتھ مسلمانوںؓ کی کفالت اور ذمہ میں آ جاتا ہے اور کیوں نہ آئے کہ رسول رحمت ﷺ نے خود فرمایا تھا، ’’تم پر کوئی گرفت نہیں، مذہب کے معاملے میں بھی تم آزاد ہو، ہماری ذمہ داری ہو، اللہ اور رسولؐ تمہاری ہر طرح کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔‘‘

سنن ابوداؤد کی روایت ہے، آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی ’’ذمی‘‘ کو ستایا تو (جان لے) میں قیامت کے روز اس ذمی کی طرف سے اسی سے جھگڑوں گا اور پھر میں ہی غالب ہوں گا۔‘‘

اہل نجران سے معاہدے میں فرمایا: ’’ہم ذمہ دار ہیں، تمہارے اور تمہارے ہمسایہ و حلیفوں کے وطن اور بیرون وطن تمہارے اموال و نفوس کے تحفظ کے (اہل نجران کے) مذہب اور قرابت داروں کی عزت و وقار پر تحفظ فراہم کریں گے۔ پادریوں، گوشہ نشینوں اور دیگر مذہبی رہنماؤں کی عزت و احترام کا خیال رکھیں گے، قبل از اسلام کے قتل پر مواخذہ نہ ہو گا۔ نہ ہی کسی فرد کو کسی دوسرے کی وجہ سے پکڑا جائے گا اور عدالتوں میں (بغیر تمیز کے) مکمل انصاف ملے گا۔‘‘

حضرت عمرؓ پر اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے حملہ کیا تھا۔ آپؓ جان کنی کے عالم میں تھے، پھر بھی فرمایا: ’’میری، اپنے بعد کے خلیفہ کے لیے وصیت ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے معاہد (غیر مسلموں) سے بھلائی ہی بھلائی کریں، ان سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کریں، ان کے لیے لڑنا پڑے تو ہچکچائیں نہیں اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالیں۔‘‘

تاریخ میں ایک ایسا واقعہ بھی ہے کہ جو اسلامی ریاست میں، غیر مسلموں کے حقوق کی اعلیٰ ترین مثال پیش کرتا ہے، کہ حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے پاس زرہ گروی رکھی۔ قرض کی ادائیگی کے بعد زرہ مانگی تو اس نے کہا یہ تو میری ہے۔ حضرت علیؓ امیر المومنین تھے، مگر سختی نہیں کی، معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں پہنچا۔ حضرت علیؓ سے گواہ طلب کئے گئے، انہوں نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ اور غلام کے نام دئیے، مگر قاضی نے ان قریبیوں کی گواہی قبول نہ کرتے ہوئے امیر المومین کے مقابل غیر مسلم کے حق میں فیصلہ کر دیا اور امیر المومینین نے اس فیصلے کو برضا و رغبت قبول کر لیا۔ یہ رویہ دیکھ کر وہ غیر مسلم اسلام کی آفاقیت کے دائرے میں آ گیا اور حضرت علیؓ سے مل کر مسلمان ہو گیا۔

اموی حکمران ولید بن عبدالمالک نے جامع مسجد دمشق کو وسیع کرنے کی خاطر ارد گرد کے مکانات خرید کئے، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا گرجا بھی تھا وہ بھی شامل کر لیا۔ محدود عیسائی گھرانے چپکے بیٹھے رہے۔ مگر جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ خلیفہ بنے تو انہوں نے شکوہ کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اسی وقت حکم دیا کہ جامع مسجد دمشق کا وہ حصہ جو گرجا والی جگہ پر ہے گرا دیا جائے اور سرکاری خرچے پر وہاں گرجا تعمیر کر دیا جائے۔ (غور کیجئے، اس وقت اسلامی ریاست پوری دنیا میں ایک ہی تھی اور دمشق دارالحکومت تھا۔ جامع مسجد کی حیثیت مرکزی تھی، پھر بھی امیر المومنین نے گرجا کے ’’حق ذمہ‘‘ کا خیال رکھا) مسلمانوں میں اس حکم سے اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مگر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے احکامات جاری کر دئیے۔ چنانچہ مسلم زعماء عیسائی لوگوں سے ملے، انہیں وافر مال اور جگہ دے کر راضی کیا اور انہی کو امیر المومینین کے پاس بھیج کر جامع مسجد کو ٹوٹنے سے بچا سکے۔

پاکستان میں موجود سارے شہری (خواہ کسی دین کے حامل ہوں) یکساں شہری حقوق رکھتے ہیں۔ ان کو تحفظ دینا ہر مسلم پاکستانی کی ذمہ داری ہے اور ان پر بھی لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلی و روحانی معاملات کا احساس کریں، کسی طور پر اسلامی شعائر بالخصوص عظیم ترین و مقدس ترین مقامات اور ہستیوں کی عظمت و حرمت کا (دونوں ہی طبقات) یکساں خیال رکھیں۔ اک دوسرے کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنے ہی میں امن و سکون بھی ہے اور یہی ’’باہمی روا داری‘‘ کا مظہر ہے۔

کوئٹہ کے گرجا گھر پر حملے پر تمام پاکستانی قوم (خواہ مسلم خواہ عیسائی و دیگر غیر مسلم) غم و غصے کی کیفیت میں آ گئی، جن لوگوں نے گرجا گھروں پر حملہ کیا وہ وہی دہشت گرد ہیں جو آئے روز مسجدوں اور دیگر مقدس و معبد مقامات پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ پوری پاکستانی قوم کے دشمن ہیں۔

پاکستان کی حکومت، ذمہ داران اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس سانحہ اور دہشت گردانہ حملہ پر اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے اور مسیحی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہوئے اس حملے کو پاکستانیت پر حملہ قرار دیا ہے اسلام کسی بھی انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلام ہر لحاظ سے اپنی ریاستی اقلیت کو مکمل تحفظ اور اس کے ساتھ مہربانی ہی کا حکم دیتا ہے ایسے میں جو اس طرح کے دہشت گردانہ حملے کرتا اور قتل و غارت کا مرتکب ہوتاہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ نہ صرف انسانیت کا بڑا دشمن ہے بلکہ وہ صرف دہشت گرد اور قاتل ہے اور کچھ نہیں۔

مزید : ایڈیشن 1