ملکی سلامتی کیلئے بلوچستان میں 3250این جی اوز پر پابندی لگانا خوش آئندہے، عبدالطیف

ملکی سلامتی کیلئے بلوچستان میں 3250این جی اوز پر پابندی لگانا خوش آئندہے، ...

لاہور(پ ر)مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے حوالے سے بلوچستان میں 3250این جی اوز پر پابندی لگانا خوش آئندہے اس سے غیر ملکی مداخلت کا سدباب کرنے میں کچھ مدد ملے گی اور ان پر ملکی مداخلت کا راستہ بھی تنگ ہوگا اس قسم کے اقدامات ملک بھر میں ہونے چاہئیں اور ان پر عمل درآمد بھی ،مرکزی دفتر سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فنڈ نگ پر چلنے والی این جی اوز نے ہمارے کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

اور انہی این جی اوز میں سے ایک’’ پلڈاٹ ‘‘نے عقیدہ ختم نبوت والے مسئلے میں اہم کردارا دا کیاا اور ملک میں نقصان، اضطراب اور کشیدگی کا باعث بنی۔

انہوں نے مزید کہا سنیٹر حافظ حمد اللہ نے 6دسمبر2017ء کو ایک خط کے ذریعے چیئرمین سینیٹ آف پاکستان رضاربانی کی توجہ سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی طرف دلوائی جس میں توہین مذہب کے قانون اور اس کی سزا کے قانون میں ترمیم لانے میں بحث ہورہی ہے ۔ سنیٹر حافظ حمداللہ نے چیئرمین سینیٹ کو باور کرایا ہے کہ ’’ اگر اس قانون میں یااس کی سزا میں کسی بھی نوعیت کا ردوبدل یا نظر ثانی اس بہانے سے کہ اس کا استعمال غلط ہورہا ہے یا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے کی کوشش کی جائے گی جوکہ ہورہی ہے اس سے ایک تو اسلام اور ایمان کی اساس متاثر ہوگی اور دوسری طرف پاکستان کی 21کروڑ غیور عوام اس قسم کے منفی اقدام کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے جس سے ملک کی نظریاتی اساس پر آنچ آئے کیونکہ جس طرح ملک کا استحکام ہماری ترجیح ہے اسی طرح آئین وقانون کے مطابق نظریہ ریاست کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے جس کا ہم نے حلف اٹھایا ہے یہی دوقومی نظریہ کا تقاضا ہے ‘‘۔اس پر عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ ابھی تک ختم نبوت والے حلف نامے کو حذف کرنے اور پھر بحال کرنے کے اثرات باقی ہیں قوم تذبذب کا شکار ہے اور قادیانی اقتدار کی راہداریوں میں واضح طور پر نظر آرہے ہیں ایسے میں حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ آئین میں طے شدہ مسائل اور ان پر ہونے والی قانون سازی کو حیلے بہانے کسی طرح بھی نہ چھیڑے اور بیرونی دباؤ اور بیرونی این جی اوز کی مداخلت کو مسترد کرنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ انہوں نے دینی اورسیاسی جماعتوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ آئین کی اسلامی دفعات خصوصاً قانون تحفظ نامو رسالتؐ اور قانون تحفظ ختم نبوت کے دفاع وتحفظ اور دستور پاکستان کی بالا دستی کے لئے آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ قانون توہین رسالت پر اقوام متحدہ کے ایجنڈے کی روشنی میں پھر ایک خطرناک وار ہونے جارہا ہے جس کو فوری طور پر سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ حلف نامے والے مسئلے پر منفی کردار ادا کرنے والی قوتیں ابھی تک متحرک ہیں ان چھپے کرداروں کومزید ایجنڈے پر کام کرنے کے مواقع دیئے جارہے ہیں اور کوئی انتہائی خطرناک کھیل کھیلا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیدی عہدوں اور رولنگ کلاس سے پاکستان دشمنوں اور قادیانیوں سے پاک کیا جائے تاکہ ملک اسلام کا گہوارہ اور امن کا مرکز بن سکے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4