قوت اور مذہب

قوت اور مذہب

شہزاد افضل خان

’’جن چیزوں نے انسانی فکر کو متاثر کیا، وہ دو (2) تھیں، قوت اور مذہب، قوت کا اثرمحدود تھا، مذہب کا لا محدود، قوت کے ذریعہ انسان کے جسم پر تسلط حاصل کیا جا سکتا تھا، لیکن اقلیم دل کی فتح ناممکن تھی۔ مذہب کی حکمرانی انسان کے ان بنیادی جذبات پر تھی جہاں اس کی فکر و نظر کے سانچے ڈھلتے تھے اور جہاں اس کی شخصیت تعمیر ہوتی تھی‘‘۔

’’کسی قوم یا شخص کی روح تاریخ تک پہنچنا ہو تو اس کے معتقدات مذہب کی تحقیق کرنی چاہئے‘‘۔

یہ قول گو ماضی کی طرف کنایہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذہب کو اس کے روایتی معنوں سے الگ رکھا جائے تو آج بھی سب سے بڑی طاقت مذہب ہے، حتی کہ وہ قومیں جو اپنے آپ کو مذہب کے حصار سے باہر دیکھتی ہیں۔ اس شدت کے ساتھ مذہب سے وابستہ ہیں ، کہ عام مستعمل معنوں میں مذہبی قومیں بھی مذہب کی اتنی پابند نہیں ہیں، قوت کا دبدبہ ہمیشہ رہا،حتیٰ کہ اس سے مذاہب کو بھی فائدہ پہنچا، لیکن مجرد قوت، یا مذہب کی پشت پناہ قوت، دونوں کا عمل دخل عارضی رہا۔ تاریخ انسانی کی جتنی کڑیاں کھل کر سامنے آئیں ہیں ۔ ان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ قوت نے بہت کچھ کیا، سلطنتیں فتح کیں۔ ممالک کو زیر کیا۔ پہاڑوں کی توانائی کو جھکا دیا۔ زمینوں کے سینہ میں دھنس گئی، سمندروں کو چیر ڈالا، ہواؤں کا رخ پھیرا، غرض کائنات کی تسخیر میں کسی طرح کمی نہ کی ، مگر انسانی روح، انسانی فکر اور انسانی ضمیر کو بدلنے پر کبھی قادر نہ ہو سکی۔

اسلام قوت اور مذہب دونوں سے مالا مال رہا،اب بھی مسلمانوں کے دامن کی ویرانی میں صدف کے یہ موتی باقی ہیں، مگر اسلام کے فیضان سے جو معنوی روح تیار ہوتی ہے۔ وہ عقائد صحیحہ کے تاراج ہونے سے ملوث ہو گئی۔ رہا طاقت کا نقشہ اور اس کے مظاہر تو وقت کی ہر کروٹ کے ساتھ یہ شیرازہ بکھیرتا رہا ہے۔ تاہم اس وقت بھی جن لوگوں کے ہاتھ میں مسلمان ملکوں کی عنان ہے، ان کی فتح مندیوں اور گرہ کشائیوں کا انحصار اِسی پر ہے، کہ مذہب ا ن کا پشت پناہ ہے اور وہ افراد معاشرہ کو اسلامیات کا واسطہ دیئے بغیر اِدھر اُدھر چل پھر نہیں سکتے۔ قوت کے تیار کیے ہوئے خاکوں کی دلچسپیاں ایک تاغیر میں ختم ہوجاتی ہیں، مگر جن تصویروں میں مذاہب نے رنگ بھرا وہ کبھی نہیں مرتی ہیں۔ پندرہ صدیوں سے ماہ صیام آتا ،لوگ سحری و افطاری کے ضابطے پورا کرتے ، عیدین آتی ہیں، لوگوں میں خوشیوں کا چشمہ پھوٹ بہتا ہے۔ پھر وہ کونسی طاقت ہے جو اقصائے عالم کی کروڑوں جنبیوں کو خانہ ہائے خدا میں جکھانے کے لئے لے جاتی ہے؟ یہاں کسی بیدزنی کی ضروت نہیں،کہ تم نے دو گانہ اداکرنے میں غفلت کی ہے۔ کسی تعزیر کا خدشہ نہیں کہ چوک گئے تو قید ہو جائے گی۔ کسی خوف کارشتہ نہیں کہ تساہل یا اعراض پر جرمانہ عائد ہو گا۔ صرف ایک لوہے ، ایک لگن ہے، ایک جذبہ ہے، ایک طلب ہے، خود بخود دل میں پیوست ہوتی چلی گئی ہے، جس طرح ایک ماں دودھ کی دھاریں اپنے بچے کے حلق میں اتارتی اور وہ ان سے پہلی غذا حاصل کرتا ہے۔ اِسی طرح مذہب خون میں منتقل ہوتا چلا جاتا اور اس کی طاقت یکسانی کے ساتھ اپنافیضان جاری رکھتی ہے۔ ہر سال عید آتی اور نکل جاتی ہے، لیکن صدیوں سے اس کی ملی روح جوں کی توں ہے، اس کا آنا خود اس امر کی دلیل ہے، کہ مذہب کے اثرات کتنے قوی ہیں۔ طاقت ہمیشہ ملی روح رہی ہے، جو مذہب سے پیدا ہوتی ہے،مذہب سے نشو حاصل کرتی اور مذہب کی طاقت سے جواں ہوتی ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے مدہب کی اس زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ (1)عقیدہ ، (2) فکر، (3)انکشاف، ان کا خیال تھا آج کے مسلمان جس کشمش میں سے گزر رہے ہیں، وہ عقیدہ کی منزل کا سفر ہے، جہاں صدیو ں کے اتار چڑھاؤ سے کچھ رسموں اور کچھ تقریبوں نے ایک روایتی سانچہ تیار کر لیا ہے۔ دوسری منزل میں مسلمانوں کے قدم شاذہی اٹھے ہیں۔ رہا تیسری منزل کا سوال تو وہ دوسری کی تکمیل سے کھلتی ہے اور یہ ایک ایسا مقام ہے، جہاں مذہب ذاتی حسن عمل سے سماجی نصب العین اور اجتماعی اخلاق کا آفتاب بن کرافق کائنات پر چمکتا ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 1