برکاتِ مدینہ طیبہ

برکاتِ مدینہ طیبہ

حافظ اسعد عبید الازھری

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لا کر رسول اللہ ؐ کی خدمت میں پیش کرتے، آپؐ اس کو قبول فرما کر اس طرح دعا فرماتے: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں اور پیداوار میں برکت دے، اور ہمارے شہر مدینہ میں برکت دے، اور ہمارے صاع میں اور مد میں برکت دے، الٰہی! ابراہیم علیہ السلام تیرے خاص بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں تجھ سے مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید، پھر آپؐ کسی چھوٹے بچے کو بلاتے اور نیا پھل اس کو دے دیتے۔‘‘(صحیح مسلم)

پھلوں اور پیداوار میں برکت کا مطلب تو ظاہر ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار ہواور فصل بھر پور ہو اور شہر مدینہ میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ خوب آباد ہو اور اس کے رہنے والوں پر اللہ کا فضل ہو اور صاع اور مد پیمانے ہیں۔ اس زمانہ میں غلہ وغیرہ کی خرید و فروخت ان پیمانوں ہی سے ہوتی تھی، ان میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ ایک صاع ایک مد جتنے آدمیوں یا جتنے دنوں کے لیے کافی ہوتی تھی اس سے زیادہ دنوں کے لیے کافی ہو۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی بچے کو مکہ کی غیر آباد اور بے آب و گیاہ و ادی میں بسا کر اللہ سے ان کے لیے کی تھی۔ ’’اے اللہ! تو اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے، اور ان کی ضرورت کا رزق اور پھل وغیرہ پہنچا، اور یہاں ان کے لیے امن اور سلامتی مقدر فرما۔‘‘

رسول اللہؐ بطور نظیر اس ابراہیمی دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے مدینے کے لیے وہی دعا، بلکہ مزید اضافے کے ساتھ کرتے تھے۔ اس دعا کا یہ ثمرہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے جن ایمان والوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ سے بھی محبت ہے اور اس محبوبیت میں تو اس کا حصہ مکہ سے یقیناًزیادہ ہے۔

رسول اللہؐ نے اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ ، اس کا نبی اور اس کا خلیل کہا ہے اور اپنے کو صرف بندہ اور نبی کہا، حبیب ہونے کا ذکر نہیں کیا، یہ تواضع اور کسر نفسی آپؐ کا مستقل مزاج تھا۔

بالکل نیا اور درخت کا پہلا پھل چھوٹے بچے کو بلا کر دینے میں یہ سبق ہے کہ ایسے مواقع پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہیے، اس کے علاوہ نیا پھل اور کمسن بچے کی مناسبت بھی ظاہر ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مدینہ اپنے فاسد اور خراب عناصر کو اس طرح باہر نہ پھینک دے گا جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔ (صحیح مسلم)

یعنی قیامت آنے سے پہلے مدینہ کی آبادی کو ایسے خراب عناصر سے پاک صاف کر دیا جائے گا جو عقائد وا فکار اور اعمال و اخلاق کے لحاظ سے گندے ہوں گے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

صحیحین ہی کی بعض دوسری حدیثوں میں مدینہ طیبہ کی برکات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مقدس و مبارک شہروں کے لیے کی تھی۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو اس کی کوشش کر سکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کی کوشش کرے اور مدینہ میں مرے۔ میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے۔ (اور وہاں دفن ہوں گے)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

ظاہر ہے کہ یہ بات کہ موت فلاں جگہ آئے، کسی کے اختیار میں نہیں ہے تاہم بندہ اس کی آرزو اور دعا کر سکتا ہے اورکسی درجہ میں اس کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ جس جگہ مرنا چاہے وہیں جا کر پڑ جائے، اگر قضاء وقدر کا فیصلہ خلاف نہیں ہے تو موت وہیں آئے گی، بہرحال حدیث کا مدعا یہی ہے کہ جو شخص یہ سعادت حاصل کرنا چاہے وہ اس کے لیے اپنے امکان کی حد تک کوشش کرے، اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ بھی مدد کرتا ہے۔

یحییٰ بن سعید ؒ انصاری تابعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قبرستان میں تشریف فرما تھے اور کسی میت کی قبر کھودی جا رہی تھی، ایک صاحب نے قبر میں جھانک کر دیکھا اور اس کی زبان سے نکلا کہ مسلمان کے لیے یہ اچھی آرامگاہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری زبان سے نہایت ہی بری بات نکلی۔ (کہ ایک مسلمان کو مدینہ میں موت اور قبر نصیب ہوئی اور تم کہتے ہو کہ مسلمان کے لیے یہ آرام گاہ اچھی نہیں)۔ ان صاحب نے بطور معذرت عرض کیا: حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) میرا مطلب یہ نہیں تھا (کہ مدینہ میں موت اور قبر اچھی نہیں) بلکہ میرا مقصد راہِ خدا میں شہادت سے تھا (یعنی میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ مرنے والے بھائی اگر بستر پر مرنے اور قبر میں دفن ہونے کی بجائے جہاد کے کسی میدان میں شہید ہوتے اور ان کی لاش وہاں خا ک و خون میں تڑپتی تو اس قبر میں دفن ہونے سے زیادہ اچھا ہوتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہِ خدا میں شہید ہونے والوں کے برابر تو نہیں (یعنی شہادت کا مقام تو بے شک بہت بلند ہے لیکن مدینہ میں مرنا اور اس کی خاک میں دفن ہونا بھی بڑی سعادت ہے) روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اپنی قبر کا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔ یہ بات آپؐ نے تین (3) دفعہ ارشاد فرمائی۔(موطا امام مالک)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ شہادت فی سبیل اللہ کی فضیلت و عظمت بے شک مسلم ہے اور بستر پر مرنا اور میدان جہاد میں اللہ تعالیٰ کے لیے سرکٹنا برابر نہیں، لیکن مدینہ میں مرنا اور یہاں دفن ہونا بھی بڑی خوش قسمتی ہے، جس کی خود مجھے چاہت اور آرزو ہے۔

امام بخاریؒ نے اپنی جامع صحیح بخاری میں کتاب الحج کے بالکل آخر میں مدینہ طیبہ کے فضائل کے سلسلہ کی حدیثیں ذکر کرنے کے بعد اس بیان کا خاتمہ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ کی اس مشہور دعا پر کیا ہے کہ:

ترجمہ: ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت بھی دے اور اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک شہر میں مرنا اور دفن ہونا بھی نصیب فرما۔‘‘

اس دعا کا واقعہ ابن سعد نے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت کیا ہے کہ عوف بن مالک اشجعیؓ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عمرؓ شہید کر دیئے گئے ہیں انہوں نے یہ خواب حضرت عمرؓ سے بیان کیا حضرت عمرؓ نے بڑی حسرت سے کہا:

ترجمہ:’’مجھے شہادت فی سبیل اللہ کیسے نصیب ہو سکتی ہے جب کہ میں جزیرۃ العرب کے درمیان مقیم ہوں ( اور وہ سب دارالاسلام بن چکا ہے) اور میں خود جہاد نہیں کرتا اور اللہ کے بندے ہر وقت میرے آس پاس رہتے ہیں۔‘‘

پھر خود ہی کہا:

ترجمہ:’’مجھے شہادت کیوں نصیب نہیں ہو سکتی اگر اللہ چاہے تو انہی حالات میں مجھے شہادت سے نواز دے گا۔‘‘

اس کے بعد وہ دعا کی جو اوپر درج کی گئی ہے۔

آپؓ کی زبان سے یہ دعا سن کر آپؓ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے کہا: ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ راہِ خدا میں شہید بھی ہوں اور موت مدینہ میں بھی ہو؟‘‘ آپؓ نے فرمایا: ’’اللہ چاہے گا تو یہ دونوں باتیں ہو جائیں گی۔‘‘

اس سلسلے کی روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ کی اس دعا کو سن کر سب کو تعجب ہوا تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ دونوں باتیں کس طرح ہو سکتی ہیں؟ جب ابولؤلؤ نے مسجد نبویؐ کی محراب میں آپ ؓ کو زخمی کیا، تب سب نے سمجھا کہ دعا کی قبولیت اسی طرح مقدر تھی۔

بے شک جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس چیز کو واقع کر کے دکھاتا ہے جس کے امکان میں بھی انسانی عقلیں شبہ کریں۔

مزید : ایڈیشن 1