نماز۔۔۔ فرض عبادت!

نماز۔۔۔ فرض عبادت!

مولانا لیاقت علی باجوہ

قارئین کرام! نبی کریمؐ کے سفر معراج کے موقع پر اللہ ذوالجلال نے امت محمدیہ کے لیے جو تحفہ عنایت فرمایا وہ نماز ہے۔ لہٰذا اس گرانمایہ تحفہ کی قدر کرتے ہوئے ہمیں اس کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

بعض لوگ نفلی نمازیں بڑے زور وشور سے پڑہتے ہیں لیکن فرضی نماز میں بہت زیادہ کوتاہی کرتے ہیں۔ 27 رجب کی رات کو نوافل وعبادت کے لیے ساری رات جاگتے ہیں کہ یہ رات معراج کی رات ہے اور اس رات کو آپؐ معراج کے سفر پر تشریف لے گئے تھے۔ حالانکہ اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ لوگ ساری رات نفلی عبادت تو کرتے ہیں (جس عبادت کے کرنے کا شریعت میں کوئی واجبی حکم نہیں ہے) لیکن فجر کی فرض نماز میں کوتاہی کرتے ہیں۔ سفر معراج کا سب سے اہم تحفہ تو نماز ہی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ اسلام کی پانچ بنیادیں ہیں:

-1اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں۔

-2نماز قائم کرنا

-3زکوٰۃ ادا کرنا

-4حج کرنا

-5رمضان کے روزے رکھنا۔ (بخاری‘ کتاب الایمان: 8)

نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ [بین الرجل وبین الکفر ترک الصلاۃ] ’’بے شک بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔‘‘ (مسلم: 72‘ ابوداود‘ ترمذی‘ ابن ماجہ)

آج اکثر لوگ سفر معراج کے تحفہ کو بھول جاتے اور اسلام کے بنیادی رکن کے تارک ہو جاتے ہیں۔ نبی کریمؐ کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہمارے اور منافقین کے درمیان عہد نماز ہے جس نے اس کو چھوڑ دیا گویا اس نے کفر کیا۔ (ترمذی: 2621‘ نسائی‘ ابن ماجہ‘ مسند احمد)

نبی کریمؐ نے سیدنا معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ’’انہیں اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ صرف اللہ معبود برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں۔ پس اگر وہ اس بات کو تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ (بخاری)

آپؐ ہر نئے مسلمان ہونے والے شخص کو سب سے پہلے نماز سکھانے کااہتمام کرتے۔ (مسند بزار: 338)

نماز کی جتنی شدید تاکید ہے ہم لوگ اتنا ہی زیادہ سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ میں حکم دوں کہ ایندھن فراہم کیا جائے۔ پھر میں نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم دوں پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو جماعت کرائے اور میں ایسے لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (بخاری: 644)

ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے کتنے ہی لوگ نظر آئیں گے جو تحفۂ معراج سے بہت دور ہیں‘ بعض تو صرف جمعہ پڑھتے ہیں‘ بعض صرف رمضان المبارک میں ہی نظر آتے ہیں اور بعض عید کی نماز ہی پڑھتے ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جن کی قسمت میں عید کی نماز بھی نہیں ہوتی۔

نبی کریمؐ نے غزوۂ خندق کے موقع پر مشرکین کے بارے میں کہا تھا کہ اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے‘ انہوں نے ہم کو صلوٰۃ وسطیٰ (عصر) نہیں پڑھنے دی (یہ آپ ؐ نے اس وقت فرمایا) جب سورج غروب ہو چکا تھا اور عصر کی نماز قضا ہو گئی تھی۔‘‘ (بخاری: 2931)

نبی کریمؐ کا فرمان ہے: [من ترک العصر متعمدا احبط اللہ عملہ] ’’جو شخص جان بوجھ کر نماز عصر ترک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے دوسرے اعمال بھی برباد کر دے گا۔‘‘ (مسند احمد: 22536)

نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ ’’قیامت کے دن بندے کا سب سے پہلے جس عمل کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر نماز درست نکلی تو دوسرے اعمال بھی صحیح ٹھہریں گے‘ اگر نماز فاسد ٹھہری تو دوسرے اعمال بھی فاسد ٹھہریں گے۔‘‘ (صحیح الترغیب للالبانی: 373)

سیدنا ابودرداءؓ فرماتے ہیں کہ میرے خلیل ؐ نے مجھے وصیت فرمائی کہ ’’اللہ کے ساتھ ذرا بھی شرک نہ کرنا اگرچہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں یا تجھے جلا دیا جائے اور فرض نماز کو جانتے بوجھتے ترک نہ کرنا۔ جس شخص نے فرض نماز کو جان بوجھ کر ترک کیا اس سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا۔‘‘ (مسند احمد: 4034‘ طبرانی‘ ابن ماجہ)

سیدنا سمرہ بن جندبؓ کی مشہور حدیث جس میں آپؐ کو خواب میں کئی مشاہدات دکھائے گئے ان میں ایک شخص جس کو آپ ؐ نے دیکھا کہ اس کا سر پتھر سے پھوڑا جا رہا تھا‘ وہ شخص جو قرآن کو یاد کرتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ کر فرض نماز بھی ادا نہیں کرتا اور سو جاتا ہے۔‘‘ (بخاری) سجدہ کے نشان والی جگہ کو جہنم کی آگ بھی نہیں جلائے گی۔ (بخاری: 806)

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسولؐ ترک نماز کے علاوہ کسی دوسرے عمل کے ترک کرنے کو کفر نہیں گردانتے تھے۔ (ترمذی: 2622)

نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ ’’پہاڑ کی چوٹی پر بکریوں کے اس چرواہے پر اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں جو نماز کے لیے اذان دیتا ہے اور پھر نماز ادا کرتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یوں فرماتے ہیں: میرے اس بندے کو دیکھو کہ اذان پڑھ کر نماز ادا کر رہا ہے اور مجھ سے ڈر رہا ہے۔ میں نے بھی اپنے بندے کے گناہ معاف کر دیئے اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔‘‘ (ابوداود: 1203)

قارئین! تحفۂ معراج ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ جنت عطا کر دیتا ہے اور تحفہ نماز کو ادا نہ کرنے سے اللہ تعالیٰ جہنم میں پھینک دیتا ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ جنت چاہیے یا جہنم؟!

۔۔۔۔۔۔bnb۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 1