زبان ہی جنت یا جہنم میں لے جانے کا سبب ہے

زبان ہی جنت یا جہنم میں لے جانے کا سبب ہے

یسریٰ انصاری

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نواز ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ زبان قلوب واذہان کی ترجمان ہے جیسی انسانوں کی سوچ ہوگی ویسا ہی زبان بولے گی۔ زبان کا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب ہے اور غلط استعمال وعید عذاب ہے ۔یہ انسانی جسم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن اس کے کرشمے بہت بڑے بڑے ہیں اس کی خوبیاں بھی بہت ہیں اور خامیاں بھی بہت۔ اس کے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت برباد کر سکتا ہے اور چاہے تو اپنی آخرت کے لئے نیکیاں بھی جمع کر سکتا ہے۔ اگر ایک انسان کافر سے مسلمان ہوتا ہے تو اسی زبان کی بدولت ہوتا ہے زبان سے کلمہ شہادت پڑھتا ہے اس کلمے سے پہلے جہنمی تھا تواب جنتی بن گیا۔ اس کے برعکس اگر اس زبان کا ناجائز استعمال ہو تو پھر یہی زبان انسا ن کو جہنم میں کھینچ کر لے جاتی ہے اسی وجہ سے کثرت کلام سے بھی منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا :

’’ایک شخص اپنی زبان سے اللہ تعالی کی رضا مندی اور خوشنودی والے کلمات ادا کر تا ہے حالانکہ اس کے نزدیک ان کلمات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالی (اس کی بے خبری میں ہی) اس شخص کے درجات بلند فرماتا ہے دیتا ہے اور ایک شخص اللہ کو ناراض کرنے والے کلمات ادا کر تا ہے حالانکہ اس کے نزدیک اس کی کو ئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ (اس کی بے خبری میں ہی) اس کو جہنم میں گرا دیتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری)

اس حدیث سے جومر کزی بات سمجھ میں آئی وہ یہ کہ انسان کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے ایسے ہی بلاوجہ فضول میں بولتے رہنے سے ایک انسان کی شخصیت متاثر ہوتی ہے عقل مند انسان کی یہ صفت ہوتی ہے کے وہ ہمیشہ سو چ کر بولتا ہے جبکہ بیوقوف بول کر سوچتا ہے ۔زبان کی حفاظت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولے۔ کوشش کر ے کم سے کم بولے اور بامقصد بولے۔ جہاں اس کو معلوم ہوکہ اس جگہ پر میری بات کی قدر نہیں ہے تو وہاں خاموشی اختیار کئے رکھے، کیونکہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آ سکتے، لہٰذا احتیاط افسوس سے بہتر ہے کے اصول کو ہر جگہ مد نظر رکھیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے مُنہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ہمار ے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :انسان مُنہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا، مگر اس کے پاس (ہمارا) نگہبان موجود ہے (ق18) اس قرآنی آ یت کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عمر رواں میں سرزد ہو نے والے دیگر تمام گناہوں کی طرح زبان کے گناہ بھی نامہ اعمال میں محفوظ ہیں۔

پیارے پیغمبر حضرت محمد کا فرمان ہے :

جو شخص مجھے دوچیزوں کی ضمانت دے دے تو مَیں حضرت محمدؐ اُس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک زبان اور دوسری شرم گا ہ۔

غور کیجئے !یہ پیارے رسولؐ کی ضمانت و خوش خبری ہے۔ اب ذرا سوچئے کے ہماری محفلیں، اجتماعات، گلی محلوں میں دوستوں کی میٹنگیں، بازاروں میں عامہ الناس اور بالخصوص خواتین باہمی گفتگو کیسے کرتی ہیں؟

کیا ہماری باتوں کا اکثر حصہ ایک دوسر ے کی غیبت ،جھوٹ ، چغلی، فضول گوئی اورگالی گلوچ پر مشتمل نہیں ہوتا ؟ہماری نئی نسل کی زبانوں پر موجود گالیاں ہمیں نظر نہیں آتیں؟ ماں باپ اپنے بچوں کے مُنہ سے گالیاں سُن کر بدمزہ نہیں ہوتے؟ نبی کریم ؐ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا !تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول ؐ بہتر جانتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:

’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں ایسی باتوں کا ذکر کرنا کہ جس کو وہ ناپسند کرتا ہے (یہ) غیبت ہے‘‘۔ عرض کیا گیا ہے! اگر وہ میرے بھائی مَیں موجود ہو تو۔۔۔؟ فرمایا:اگر تم ایسی با ت کرو جواس میں موجود ہے تو یہ غبیت ہے اور اگر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ۔

غیبت اور آفات لسانی کے متعلق اللہ تعالی کافر مان ہے اے ایمان والو !کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے وہ اس سے بہتر ہو۔ نہ ہی عورتیں دوسری عورتیں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والیوں سے بہتر ہو ں اور آ پس میں عیب جوئی نہ کرو اور نہ کسی کو الٹے ناموں سے پکارو اور (یاد رکھو کہ ) یہ ایمان کے بعد فسق (گنا ہ کا کا م ) ہے اور جو ان گناہوں سے تو بہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں۔ (الحجرات)

جھوٹ ایک ایسی مہلک ترین بیماری ہے جو انسان کا کچھ نہیں چھوڑتی۔ نبی کریم ؐ معراج پر گئے تو آ پ نے وہاں دیکھا کہ جھوٹ بولنے والے شخص کی باچھوں کو قینچی کے ساتھ چیرا جا رہا ہے۔ انسان جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو پھر اُس کو چھپانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے مگر نتیجہ پھر بھی ذلت اور رسوائی ندامت و شرمندگی کی صورت میں سا منے آتا ہے۔

نبی کریم ؐ کی ایک حدیث شریف میں ہے۔ انسان جھوٹ بولتا ہے اور ہمیشہ جھوٹ بولنے کی تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بھی جھوٹا لکھ دیا جاتاہے اور آدمی سچ بولتا ہے اور ہمیشہ سچ کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی سچا لکھ دیا جاتا ہے۔

عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بدبو سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔ (ترمذی) اس حدیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کس قدر خبیث اور بدبودار فعل ہے ۔ اگر ہم اپنے گردوپیش میں نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ چیز بکثرت نظر آ ئے گی کہ جھوٹ کو گنا ہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ ہماری سیاست جھوٹ کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ خود سیاست دان اس چیز کا اعتراف کرتے ہیں۔ کاروبار میں جھوٹ کا سہارا لیاجاتا ہے۔ لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے ظاہر ہے جب یہ چیزیں ہوں گی تو برکتیں خودبخود اُٹھ جائیں گی۔ پھر ہم کہتے ہیں ہماری دُعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

دُعائیں کیسے قبول ہوں ؟جب کھانا حرام کا، لباس حرام کا، کاروبار سود کی بنیاد پر، بات بات میں جھوٹ ایک دوسرے کی چغلیاں، غیبتیں، فراڈ دھوکا دہی ۔گالیاں بلا وجہ لعن طعن،یہی وہ جھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن کی ہماری نظر میں کوئی حیثیت نہیں مگر ایک وقت آ ئے گا یہ گناہ پہاڑ بن جائیں گے اور ان تمام گناہو ں کا سبب ایک چھوٹی سی زبان ہے۔

انسان اگر اس کو قابو میں رکھے تو بہت ساری پریشانیو ں اور بیرونی مصیبتوں سے نکل آ ئے گا۔

سیدنا حضرت عمرؓ ایک دن حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی زبان کو پکڑ کر کھینچ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا !اللہ آپ کی مغفرت فرمائے کیا بات ہے؟

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کر تے ہیں جو اللہ کے رسول ؐ فرمایا: صبح کے وقت ابن آدم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس کی منت کرتے ہیں کہ تو ہمارے بار ے میں اللہ سے ڈر جاء ہمارا تعلق وابستگی تجھ سے ہی ہے تو اگر سارا دن سیدھی رہی تو ہم سیدھے ہیں اور تو اگر ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب ٹیڑھے ہو جائیں گے (تر مذی)

کہتے ہیں کہ زبان کا نشتر (لوہے کے) نیزے سے زیادہ گہرا زخم کرتا ہے،لہٰذا بہترین مسلمان بننے کے لئے اپنی زبان پر کنڑول اور دوسر ے مسلمانوں کی عزت نفس کا خیال بہت ضروری ہے۔ اِدھر اُدھر کی فضول باتوں سے بہتر ہے کہ اپنی زبان کو سلام کرنے کا عادی بنائیں اِس سے دوست بڑھتے ہیں اور دشمن کم ہوتے ہیں ۔ آدمی جب زبان کو ذکر الٰہی سے تر رکھے گا تو اس کو فضولیات کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ زبان اور آنکھ کاروزہ پورا سال رکھنے کا حکم آیا ہے ۔ زبان کا روزہ یہی ہے کہ زبان صرف اور صرف نیک اور جائز باتوں کے لئے حرکت میں آ ئے۔ رسو ل کریم ؐ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (بخاری مسلم )

مگر آ ج صورت حال بالکل اس کے مخالف ہے ۔ ہمارا پڑوسی ہمارے شر سے محفوظ نہیں ہے، کوئی اگر زیادتی کر جائے تو برداشت کا مادہ نہیں ہے۔ انسانیت کا خون اس قدر سستا کہ قتل عام معمول بن چکا ہے۔ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے ۔ان تمام معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل صرف اسی ایک چیز کے اندر ہے کہ ہم اپنے آ پ کو مکمل اسلام کے مطابق ڈھال لیں اور اپنی زبان کا ہمیشہ درست استعمال کریں کیوں کہ یہ زبان ہی انسان کے جنت اور جہنم میں جا نے کا سبب ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 1