بشارت راجہ کیخلاف استغاثہ کیس کی سماعت23 جنوری تک ملتوی

بشارت راجہ کیخلاف استغاثہ کیس کی سماعت23 جنوری تک ملتوی

لاہور(نامہ نگار)سابق وزیر قانون بشارت راجہ اور سابق سینیٹر پری گل آغا کے خلاف استغاثہ کیس کی سماعت سابق رکن اسمبلی سیمل راجہ اور ان کی والدہ رخسانہ وحید کے بیانات قلمبند کرنے کے بعدعدالت نے کیس کی مزیدسماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان کے روبرو سابق رکن پنجاب اسمبلی اپنی والدہ اور مدثر چودھری ایڈووکیٹ کے ہمرا عدالت میں پیش ہوئی، سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ نے بشارت راجہ اور انکی بیوی کے خلاف کینٹ کچہری میں استغاثہ دائر کر رکھا ہے ،عدالت نے آج سیمل راجہ کو والدہ سمیت طلب کیا تھا، عدالت کے روبرو سیمل راجہ کی والدہ نے موقف اختیار کیا کہ بشارت راجہ نے اپریل 2014 میں میری بیٹی سیمل سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی،داماد بشارت راجہ و اہل خانہ کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ اپنی سابقہ بیوی پری گل آغا کو بوجہ بدزبانی و نافرمانی طلاق ثلاثہ دے چکے ہیں،بشارت راجہ نے میری بیٹی کو بہروز کمال کی ہٹ دھرمی اور لالچ کی بھینٹ چڑھا کر اسکی زندگی برباد کی ہے،بیٹی اور داماد کے مابین مطلقہ عورت کے باعث اختلافات پیدا ہوئے،بشارت راجہ کے بھائی راجہ ناصر، بہنوں اور بھانجی سعدیہ سہیل نے بھی بشارت راجہ کے موقف کی تائید کی تھی ۔

مزید : علاقائی