شناختی کارڈ سے مذہب کے خانے کے خاتمے کی تجویز؟

شناختی کارڈ سے مذہب کے خانے کے خاتمے کی تجویز؟
 شناختی کارڈ سے مذہب کے خانے کے خاتمے کی تجویز؟

  

ختم نبوت کے حلف نامے کی شق کے خاتمے کی سازش کے ذریعے لگائی جانے والی آگ ابھی سلگ رہی ہے، ملک کے طول و عرض میں انتشار، خلفشار، دنگا فساد، فرقہ واریت کی جو آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی منصوبہ ساز کون تھے ان کی مراد کہاں تک پوری ہوئی ؟اس پر بحث مقصود نہیں ہے، حکومت اور ایجنسیوں کے ساتھ پاک فوج کے مثبت کردار علمائے کرام کی سمجھ داری سے کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے ابھی تک شرارتیں جاری ہیں الحمد للہ اب جبکہ پوری قوم طاغوتی قوتوں کی سازشوں سے آگاہ ہو چکی ہے ہر دم بیدار ہے اور16دسمبر کو پشاور کے شہید بچوں کو سلام پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف یکسو ہے۔کرسمس کے موقع پر کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ، ہر مکتبہ فکر بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا عزم کر رہا ہے اِن حالات میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ سے مذہبی خانے کے خاتمے کی تجویز سمجھ سے بالا تر ہے ۔جب ملک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، چاروں اطراف دشمن نے جال پھیلا رکھا ہے،دہشت گردی بھی ہو رہی ہے ۔ اِن حالات میں مذہب کے خانے کے خاتمے کا پنڈورا بکس کھولنا کہاں کی عقل مندی ہو گی؟ اس پر حکومتی ذمہ داران کو ضرور سوچنا ہو گا۔

خبر یہ ہے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نپٹنے کے لئے نیا قومی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے ،جس میں جہاداور جنگ کے اعلان کا اختیار ریاست کے پاس ہو گا،کوئی فرد یاگروپ عوام میں سے کسی کو غیر مسلم قرار نہیں دے سکے گا کسی پر کافر یا مرتد ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کر سکے گا، پاکستان میں کسی نجی ملیشیا، مسلح جتھے کی اجازت نہیں ہو گی، اقلیتوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہو گی، قومی ہم آہنگی کے لئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سمیت سرکاری دستاویزات میں سے مذہبی شناخت ختم کی جا رہی ہے۔ تمام تجاویز وزیراعظم کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوں گی۔ معلوم ہوا ہے کہ نیکٹا کی طرف سے قومی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے ان نکات میں اہم نقطہ بنیاد پرستی روکنے کے لئے طویل مدت حکمتِ عملی تجویز کی گئی ہے اس مسودہ میں مفاہمت کی شرائط میں ریاست کی خود مختاری تسلیم کرنا ضروری ہو گا۔

ایک دوسرے کے نظریات کا احترام لازمی ہو گا، ہر طرح کی نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی ہو گی، کسی قسم کی منافرت پر مبنی لٹریچر اور تقریر پر پابندی ہو گی، پاکستان کو جدید، ترقی پسند پُرامن ملک کے طور پر پوری دُنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے عقیدے، فرقے،ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر تشدد کرنے پر پابندی ہو گی،کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی ہو گی۔عسکریت پسند تنظیموں ان کے عہدیداروں، سہولت کاروں اور کارکنوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا سکے گی، پاکستان کے تمام شہری آئین اور ملکی مفاد کے تحفظ کے پابند ہوں گے، دہشت گردی سے نپٹنے والے اداروں، سول آرمڈ فورسز اور کریمنل جسٹس انسٹیٹیوٹس کی کارکردگی اور صلاحیت میں اضافہ کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی اور سرمایہ لگایا جائے گا۔

حضرت محمدﷺ اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی سخت ممانعت ہو گی،خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، ریاست توہین رساست کے مقدمات سے سختی سے قوانین کے مطابق نپٹنے گی۔ توہین رسالت کے مقدمات کے لئے خصوصی لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے، مقدمات کے انداج کے لئے خصوصی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں سمیت ارکان اسمبلی اور اچھی ساکھ والے مذہبی رہنما اور اقلیتی نمائندے شامل ہوں گے، مقدمات کے اندراج کے لئے کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی، اِن حالات میں مار پیٹ اور ماورائے عدالت قتل کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی،اس طرح کے قتل اور اُکسانے والوں کے خلاف سخت کارروائی تجویز کی گئی ہے، نئے مسودہ میں تعلیمی اداروں کے نصاب کو ازسر نومرتب کرنے سمیت خیرات جمع کرنے والے اداروں کی مانیٹرنگ ، مساجد، خانقاہوں، در گاہوں، گرجا گھروں، صوفی کلچر، خطے کے ورثے کے تحفظ کے لئے نئی قانون سازی کرنے کی تجویز زیر غور ہے اسی سلسلے میں قومی آہنگی کے لئے پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور دوسری سرکاری دستاویزات کے اجراء میں مذہبی شناخت ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، نئے ایجنڈے میں کالعدم تنظیموں کے سکول چلانے پر پابندی بھی تجویز کی گئی ہے۔ سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی مدارس فوری ختم کرنے کا بھی کہا گیا ہے، ہر صوبے میں سکول اور مدارس کی مانیٹرنگ کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جا رہی ہے۔ قومی بیانیہ میں پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا کے حوالے سے قواعد اور ضوابط طے کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے،مذہبی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے بھی اتھارٹی کے قیام کی تجویز ہے۔

قومی بیانیہ بڑا انقلابی دھماکہ ہوگا، بیشتر نکات وہ ہیں جو اس سے پہلے نیشنل ایکشن پلان میں پیش کئے جا چکے ہیں، مساجد کے سپیکر سمیت کالعدم تنظیموں پر پابندی اور80فیصد دیگر نکات پر اتفاق کیا گیا تھا، عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ اِس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ختم نبوت کے لئے دیئے گئے فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے لئے ہونے والے معاہدے کے بعد وطنِ عزیز بالعموم اور ریاست بالخصوص اِس بات کی متحمل ہے فرقہ واریت کا الاؤ جو پک رہا ہے ۔ بریلوی مکتبہ فکر کی ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ملک بھر کے پیر صاحبان اور مشائخ عظام کا اتحاد مستقبل کی نئی تحریک کا مژدہ سنا رہا ہے۔اِن حالات میں جب پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف تحریک جاری ہے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سے مذہب کے خانے کے خاتمے کا فیصلہ پاکستانی قوم برداشت کرے گی یا تشدد اور فرقہ واریت کی نئی لہر اورنئی تحریک کا موجب بنے گی۔ نیکٹا سمیت تمام قومی، عسکری اداروں کو سر جوڑ کر سوچنا ہو گا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے مذہبی خانے کا خاتمہ طاغوتی قوتوں کی نئی سازش تو نہیں ، یہودی لابی کا نیا وار تو نہیں، سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کوئی بھی جذباتی فیصلہ وطنِ عزیز کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔آرمی چیف کی سینیٹ کو ان کیمرہ بریفنگ کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پراپیگنڈہ درست عمل نہیں ہے۔ حساس اداروں اور پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال کرنا سب کا فرض ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی تسلی ہوگئی کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں جمہوریت کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ ٹکراؤ کی سیاست سے ہے،اس سے بچنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم