کوئی طاہر القادری کو خبر کرے

کوئی طاہر القادری کو خبر کرے
 کوئی طاہر القادری کو خبر کرے

  

کوئی طاہر القادری کو خبر کرے کہ تحریک عدل شروع ہو چکی، وہی تحریک عدل جس کی نفی کرنے کے لئے انہوں نے تحریک قصاص چلانے کا اعلان کیا ہے، یہ قصاص پاکستان عوامی تحریک کے ان معصوم کارکنوں کے لہو کا ہے جنہیں آج سے اڑھائی برس پہلے ماڈل ٹاون میں گولیاں مار دی گئی تھیں، یہ گولیاں مارنے کا حکم کس نے دیا تھا اس کے بارے کسی کو کچھ علم نہیں مگر بہت ساروں کویہ ضرور علم ہے کہ بیرون ملک مقیم اس سیاسی رہنما نے اپنے کارکنوں کو( قانونی یا غیر قانونی کی بحث میں پڑے بغیر) اپنے گھر کے باہر لگے ہوئے بیرئیرز بچانے کے لئے شہید ہوجانے کا حکم دیا تھا، غیر جانبدار ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ پہلے پولیس پر فائرنگ ہوئی تھی جو طاہر القادری کے گارڈ کی طرف سے کی گئی تھی، جب پولیس آگے بڑھی تھی تو اس پر پٹرول بموں،لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا گیا تھا، اس بارے حقائق جاننے کے لئے جو کمیشن قائم کیا گیا تھا اس کا طاہر القادری اور ان کے ساتھیوں نے بائیکاٹ کر دیا تھا، اس کمیشن کو پاکستان عوامی تحریک کے مرکز میں آنے کی اجازت دینے سے پہلے خون کے ہی نہیں گولیوں کے نشانات بھی مٹا دئیے گئے تھے۔ اگر طاہر القادری یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں عدل نہیں مل رہا تو انہیں بھی تحریک عدل شروع کرنی چاہئے، تحریک عدل کی مزاحمت اور نفی نہیں کرنی چاہئے۔

مجھے تو پہلے روز سے شک ہے کہ طاہر القادری عدل نہیں چاہتے، اگر وہ عدل چاہتے ہوتے تو ایک مجہول اور مفروضہ قسم کی ایف آئی آر درج نہ کرواتے جس میں ان کے نام بھی شامل کر دئیے گئے جو سانحے کے روز علاقے اور شہر تو کیا ملک میں بھی نہیں تھے ۔ ان کے اعلان میں کوئی نئی بات نہیں کہ وہ پہلے بھی اپنے سیاسی کزن کے متوازی لانگ مارچ کر چکے، ان کے اسلام آباد کے علاوہ لاہور میں بھی موسمی دھرنے ہو چکے، وہ ہر تخت کو تختہ کرنے کے بلند بانگ دعووں کے بعد کینیڈا واپس روانہ ہوگئے۔ اس مرتبہ سب سے مشکوک اعلان یہ ہے کہ وہ تحریک قصاص اس روز شروع کریں گے جس روز میاں نواز شریف اپنی تحریک عدل کا آغاز کریں گے جو ثابت کر رہا ہے کہ طاہر القادری تحریک قصاص کے ذریعے محض تحریک عدل ناکام بنانا چاہتے ہیں مگر کیا ایک ایسی جماعت جس کی اہلیت اسمبلی کی دو، چار نشستیں جیتنے کی بھی نہ ہو وہ ملک میں سب سے زیادہ وووٹروں کے اعتماد کی حامل سیاسی جماعت کی تحریک کی نفی کرسکتی ہے۔ اس وقت آصف زرداری اور عمران خان بھی طاہر القادری کے ہاتھوں بیعت کئے ہوئے ہیں مگر سیاست کے امتحان کا تلخ سوال یہ ہے کہ یہ اول الذکر دونوں صاحبان ، موخر الذکر قادری صاحب کو استعمال کرسکیں گے یا خود استعمال ہوجائیں گے۔

قمرزمان کائرہ تحریک عدل کے آغاز کے پر شدید برہم ہیں، وہ میاں نواز شریف کی طرف سے سکھا شاہی کے لفظ کے استعمال کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہ موقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ میاں نواز شریف کی طرف سے پاناما فیصلے پر تنقید کے بعد ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہئے اور میرے خیال میں اس سے پہلے مولوی خادم رضوی کو بھی اس ویڈیو کلپ کے ساتھ طلب کر لیا جانا چاہئے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا اوراس کے ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی کو بھی ضرور موقع دینا چاہئے کہ وہ پریس کانفرنسوں میں بار بار دہرائی گئی بات کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ قمرزمان کائرہ جب نواز شریف پر زور دیتے ہیں کہ وہ عدالتوں کے تمام فیصلوں کو تسلیم کریں تو کیا وہ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بیگم نصرف بھٹو کیس کے فیصلوں کوبھی تسلیم کرتے ہیں، کیا وہ مان لیتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کا فیصلہ بھی سو فیصد درست تھا اور اسی طرح جناب عمران خان کا معاملہ ہے جن کے خلاف متعدد مقدمات عدالتوں میں ہیں۔ موصوف کا معاملہ اس لئے دلچسپ ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو پیشیوں سے ہی گھبرا گئے تھے اوراپنے وکیل بابر اعوان پر کیمروں کی پروا کئے بغیر ہی برس پڑے تھے۔ وہ پاکستان کی عدالتوں کے شاکی رہے ہیں خاص طور پر ان کی جماعت نے اس وقت ایک انتہائی نفرت اور توہین آمیز سوشل میڈیا مہم چلائی تھی جب دھاندلی کے الزام پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات کے جائزہونے پرمہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ عدالتوں کے حق میں نکلنے کا بیان دینے والے عمران خان کو کیلیفورنیا کی اس عدالت کے فیصلے کو ضرور تسلیم کرلینا چاہئے جو پاکستان میں آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ کی صریح خلاف ورزی ثابت کرتا ہے۔ وہ میاں نواز شریف پر کسی کرپشن کے الزام کے ثابت ہوئے بغیر نااہل کر دئیے جانے پر تو خوشیاں مناتے ہیں مگر اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی انسائیڈر ٹریڈنگ تک کو جائزقرار دیتے ہیں۔ اسی طرح طاہر القادری سے سوال ہے کہ وہ جس طرح نجفی کمیشن کی رپورٹ کو صحیفہ ثابت کر رہے ہیں کیا اسی طرح ماضی میں لاہور ہائی کورٹ کے ہی ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو بھی تسلیم کرتے ہیں جس میں ان کی ذات کے بارے میں اہم انکشافات کئے گئے ہیں۔

عدالتوں نے معاشروں کو مہذب اور ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ عدالتیں عوامی حاکمیت کی محافظ اورریاست کے استحکام کی ضامن ہوتی ہیں۔ہماری عدالتیں ماضی میںآمریتوں کو جواز اور آمرو ں کوآئین میں ترمیم تک کے اختیار دیتی رہی ہیں۔ہمیں اپنی عدالتوں کو مضبوط بنانے کی از حد ضرورت ہے اور عدالتیں اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہیں جب وہ نہ صر ف انصاف کر رہی ہوں بلکہ عوامی اعتماد بھی جیت رہی ہوں۔ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو چاہتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے ماتحت عدالتوں میں نظیر کے طور پر پیش کئے جائیں، انہیں دنیا بھر کے اعلیٰ عدالتی فورموں پر سراہا جائے نہ کہ دوسرے ممالک سے یہ خبریں آئیں کہ وہاں کے چیف جسٹس کو پاکستان کے پاناما کیس کا حوالہ دینے پر ہی ساکھ اور عہدے دونوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ہماری عدالتوں کے فیصلے دنیا بھر میں قانون کی تعلیم دینے والے اعلیٰ اداروں میں تعلیم اور تربیت کے نصاب کے طو ر پرشامل ہوں نہ کہ بہت سارے فیصلے اس لئے پڑھائے جائیں کہ دیکھواس طرح کے فیصلے نہیں کرنے۔ پاکستان ایک اعلیٰ پائے کے وکیل کی قیادت میں بنا تھا لہذا یہاں قانون اور انصاف کی نشوونما کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ ضروری ہے نہ کہ نقائص سے بھرے روایتی پنچائتی سسٹم کو آئیڈیل قرار دیا جاتا رہے۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور میں عدلیہ کو خودمختاری ملی مگر وہ عدلیہ میں اصلاحات میں مکمل ناکام رہے۔ ہماری ماتحت عدالتوں میں کام کرنے کے ماحول اور معیار دونوں کا فقدان ہے۔ ہماری کچہریوں میں�آج بھی دیواروں میں جڑی اینٹیں تک رشوت مانگتی ہیں، ان دیواروں کے اندر جاتے ہی پیشہ ور گواہوں کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ کیا یہ ستم نہیں کہ عدلیہ کے لئے نکلنے کا اعلان کرنے والی ایک سیاسی جماعت کے ترجمان ہی وہ صاحب ہیں جو ماضی میں اپنے ایک بزرگ کے ٹاوٹ کے طور پر معروف تھے، یہ بزرگ عدلیہ میں اعلیٰ عہدے پر تھے اور یہ فیصلے کروانے کے لئے صحافیوں ، وکیلوں اور سائلین سب میں مشہور تھے۔

ایک وقت تھا جب منصف کی بحالی کے لئے تحریک چلی تھی اور کامیاب رہی تھی اور اب یہ انصاف کی بحالی کی تحریک نے جنم لے لیا ہے۔ مجھے محترم طاہر القادری سے کہنا ہے کہ نقارہ بچ چکالہذا وہ بھی اپنا زور بازو آزما لیں۔ ہر تحریک کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس میں لانگ مارچ اور دھرنے ہوں، کولتا ر سے بنی سڑکیں ہی نہیں بلکہ قومی ترقی کے راستے بھی بند کئے جائیں، کفن پہنے اور قبریں کھودی جائیں، امپائر کو آوازیں دی جائیں اور حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دی جائیں، کچھ تحریکیں ایسے بھی چلتی ہیں کہ وہ بیانیہ اور رائے عامہ تشکیل دیتی ہیں، وہ پہلے سوچ اورپھر نظام کی صورت سب کچھ بدل کے رکھ دیتی ہیں۔یہ ہماری قومی تاریخ کی ایک ایسی منفرد تحریک ہے جس کے آغاز کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی اسے ناکام بنانے کیلئے ان کٹھ پتلیوں نے رقص شروع کر دیا ہے جو پہلے ہی سیاست، ریاست اور جمہوریت کو ایک آسیب کی صورت چمٹی ہوئی ہیں۔

مزید : رائے /کالم