سودے بازی کرتے تو ختم نبوت قانون بحال ہوتا نہ وزیرکا استعفا ملتا،تحریک لبیک

سودے بازی کرتے تو ختم نبوت قانون بحال ہوتا نہ وزیرکا استعفا ملتا،تحریک لبیک

پنڈی بھٹیاں(خصوصی رپورٹ ) ہم بِک جانے والے ہوتے تو ختم نبوت دھرنا فیض آباد کے موقع پر غیبی و روحانی امداد نازل نہ ہوتی اور نہ ہی اسم محمدؐ آسمان پر لکھا جاتا۔ سودے بازی کرتے تو آپریشن، شہادتیں، وفاقی وزیر قانون کا استعفا نہ ہوتا اور نہ ہی سیون بی اور سیون سی ختم نبوت سے متعلقہ شقیں بحال ہوتیں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے شہید ختم نبوت ابوسفیان کے گھر فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت مارچ و دھرنے میں جانے سے قبل ہم دونوں نے مسجد میں دعا کی تھی کہ اگر ذاتی مفاد یا دنیاوی مقصد کیلئے نکلے ہوں تو یا اللہ ہمیں راستے میں ہی موت دے دینا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک اور حکومت پاکستان وحکومت پنجاب کے درمیان معاہدوں پر مکمل عمل درآمد تک قوم مطمئن نہیں ہوگی۔ تحریک لبیک یارسول اللہ نے ختم نبوت وناموس رسالتؐ پر حملہ ناکام بنایا تو دین دشمن قوتوں، انکے آلہ کاروں اور مخالفین نے تہمتوں کا سلسلہ شروع کردیا غلامان رسول افواہوں اور ناجائز تہمتوں کی بجائے اپنے عظیم دینی مشن کی طرف توجہ دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حلوے بند نہیں ہوسکتے لیکن دین تخت پر آیا تو شراب بند ہوجائیگی۔ دھرنا کسی شخصیت کی فنڈنگ یا کہنے پر نہیں ہوا پھر بھی کوئی الزام تراشی کرتا ہے تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔ اس موقع پر ختم نبوت دھرنا کے دوران پنڈی بھٹیاں احتجاج میں شہید ہونے والے ابوسفیان کے گھر فاتحہ خوانی کی گئی، تحریک لبیک یارسول اللہ کی طرف سے پانچ لاکھ عطیہ پیش اور ماہانہ دس ہزار خدمت کا اعلان کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر