وزیر اعظم کی شریف برادران سے ملاقات ، نئے انتخابات ،فاٹا اصلاحات بل پر مشاورت ، شہباز شریف کو وزارت عظمی کا امیدوار بنانے کی توثیق

وزیر اعظم کی شریف برادران سے ملاقات ، نئے انتخابات ،فاٹا اصلاحات بل پر ...

لاہور/رائے ونڈ (مانیٹرنگ ڈیسک+نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جاتی امراء میں گزشتہ روز نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی اور الیکشن 2018ء کی تیاریوں اور فاٹا اصلاحات بل سمیت دیگر امور پر مشاورت کی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی لاہور پہنچے تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔ وفاقی وزراء انوشہ رحمان، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب اور رانا تنویر بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بذریعہ ہیلی کاپٹر لاہور سے نواز شریف کی رہائشگاہ جاتی امراء رائے ونڈ پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف اور دیگر رفقاء کے ہمراہ پارٹی صدر اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء نے فاٹا اصلاحات کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں شرکاء نے مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر حکومتی حلیفوں کے تحفظات دور کرنے اور پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے تیز کرنے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں، 2018ء انتخابات کا سال ہے لہٰذا عوام اور کارکنوں سے رابطے میں تیزی لائی جائے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ جمہور کی مضبوطی کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں تاہم، شفاف احتساب ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا، ٹارگٹڈ احتساب قوم کو کسی صورت قبول نہیں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے اور 2018کے انتخابات مسلم لیگ ن نواز شریف کی قیادت میں لڑیگی۔دریں اثنامسلم لیگ (ن) کے گزشتہ روز جاتی امراء میں ہو نے والے پارٹی اجلاس میں شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم لانے کے فیصلے کی توثیق کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی پارٹی قائد کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی ڈیلیور کیا ہے اور اس وقت پارٹی میں نواز شریف کے بعد اہل ترین رکن شہباز شریف ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت غیررسمی اجلاس ہوا جس میں سینئر رہنما ؤں نے شرکت کی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ روز جاتی امراء میں ہو نے والے پارٹی اجلاس میں شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم لانے کے فیصلے کی توثیق کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی پارٹی قائد کے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی ڈیلیور کیا ہے اور اس وقت پارٹی میں نواز شریف کے بعد اہل ترین رکن شہباز شریف ہیں اس دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام زندگی شہباز شریف نے کبھی مایوس نہیں کیا، شہباز شریف محنت اور کارکردگی سے اوپر آئے ہیں، سینے میں چھپے راز وقت پر سامنے لاؤں گا آئندہ انتخابات کے بعد وزارت عظمی کے لئے شہبازشریف سے بہتر کوئی میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے اور شہبازشریف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، ہمارا آپس میں پیار کا رشتہ ہے اور شہبازشریف نے میری رائے سے کبھی اختلاف بھی نہیں کیا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے بعد وزارت عظمی کے منصب کے لئے شہباز شریف سے بہتر کوئی امیدوار نہیں کیوں کہ انہیں انتظامی امور کا وسیع تجریہ ہے۔ نوازشریف سے جب پوچھا گیا کہ ایک دو لوگ آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ ایک دو نہیں صرف ایک ہی ہیں لیکن وہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف کسی ایشو پر اختلاف رائے رکھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، کبھی ایسا موقع بھی نہیں آیا کہ انہوں نے میری بات نہ مانی ہو۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار مجھے نا چاہتے ہوئے بھی ان کی بات ماننا پڑتی ہے اور والد کے انتقال کے بعد پرویز مشرف کی تعزیتی کال بھی شہباز شریف کے کہنے پر سننا پڑی۔نواز شریف نے کہا کہ جب انصاف کے پیمانے پسند اور نا پسند پر الگ الگ ہوجائیں تو معاشرے میں استحکام نہیں آتا، انہوں نے عمران خان کے حوالے سے بہت کچھ ہونے کے باوجود انہیں اہل قرار دے کر ایک نئی صورتحال پیدا کردی گئی ہے، مجھے محض اقامہ کی بنیاد پر نااہل کرکے گھر بھجوا دیا گیا تھا جس پر خاموش نہیں رہیں گے قوم کے سامنے دونوں مقدمات کے حوالے سے ہونے والے تضاد کو سامنے رکھوں گا۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی عدل کے قیام کے لیے تحریک اور انتخابی مہم ساتھ ساتھ لیکر چلیں گے، 70 سالہ خرابیاں دور کرنے کے لیے کسی کو تو کھڑا ہونا پڑے گا، ہمارا عوامی اور سیاسی کیس بہت مضبوط ہے اور عوام کھرے کھوٹے، سچ اور جھوٹ کے پہچان کا شعور رکھتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی پارٹی قائد کے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی ڈیلیور کیا ہے اور اس وقت پارٹی میں نواز شریف کے بعد اہل ترین رکن شہباز شریف ہیں۔رکن قومی اسمبلی رانا افضل کا کہنا تھا کہ اگر یہ کہا جائے کہ پارٹی میں کوئی ایک بھی ووٹ شہباز شریف کے خلاف نہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور پارٹی اپنے قائد کے اس فیصلہ کو تسلیم کرے گی، شہباز شریف انتہائی قابل انسان ہیں اور ملک کو ان کی ضرورت ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پارٹی میں مشورہ کرنے کی کمی ہے مشاورت وسیع کیا جائے اور شہباز شریف وزارت عظمی کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔ اجلاس میں شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم لانے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی میں شہباز شریف کے علاوہ وزارت عظمی کا کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک عدل میں سڑکوں پر احتجاج، لانگ مارچ یا دھرنے نہیں ہوں بلکہ یہ الیکشن 2018 کی مہم کا حصہ ہوگی اور لوگوں تک صرف آگاہی پہنچائی جائے گی تحریک عدل کیلئے تھنک ٹینک بنایا جا رہا ہے جس میں سیاسی رہنماؤں کے علاوہ وکلا بھی شامل ہوں گے یہ تھنک ٹینک تحریک عدل کے خدو خال طے کرے گا اور حکومت کے کام میں عدلیہ کی مداخلت روکنے کی تجاویز دے گا

ملاقات

مزید : صفحہ اول