ہرشخص کیلئے الگ معیار کیوں؟سپریم کورٹ کا قومی احتساب بیورو پر اظہار برہمی

ہرشخص کیلئے الگ معیار کیوں؟سپریم کورٹ کا قومی احتساب بیورو پر اظہار برہمی

اسلا م آبا د(آن لائن)سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو( نیب) کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب پک اینڈ چوز کرتا ہے، ہرشخص کیلئے الگ معیار طے کیا گیا ہے ، نیب کاخاص کیلئے الگ اورعام کے لیے الگ قانون ہے، یہ ریمارکس گزشتہ روز جسٹس اعجاز افضل خان نے نیب کے ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دیئے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے بلوچستان میں گندم کی20ہزار بوریوں میں خوردبردکے ملزم عبدالولی کاکڑ کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ضمانت 10ملین کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دی ۔کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، کیس کی سماعت کے دوران نیب کے وکیل چودھری فرید نے عدالت کو بتایاکہ ملزم اڑھائی سال تک ضمانت پرہے جبکہ جسٹس اعجازافضل خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دیکھاجائے تواختیارات کاغلط استعمال وزیر نے کیا ہے ، وزیرضمانت پرہے تواس ملزم کوبھی ضمانت ملنی چاہئے۔

سپریم کورٹ/اظہار برہمی

مزید : صفحہ اول