سینٹ فنکشنل کمیٹی نے خواجہ سراء تحفظ بل میں ترمیم کرکے اسے منظورکر لیا

سینٹ فنکشنل کمیٹی نے خواجہ سراء تحفظ بل میں ترمیم کرکے اسے منظورکر لیا

اسلام آباد، (آن لائن) انسانی حقوق کی سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے خواجہ سرا(تحفظ کے حقوق) بل 2017 میں مناسب ترامیم کرکے اس بل کو منظور کر لیا جو اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعے خواجہ سراء کو تحفظ اور یقینی بنانے کے لئے جو ترامیم کی ئی ہیں ان میں خواجہ سراء کی واضح تعریف کے ساتھ انہیں امداد فراہم کرنے کے لئے طبی اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ کمیٹی کا اجلاس سینٹرٹر نسرین جلیل کی صدارت میں ہوا۔ بل کے بڑے مقاصد میں خواجہ سراء کی تعریف اور وضاحت ، خواجہ سراکے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنا ، خواجہ سراء کو اس طر ح سے تسلیم کرنا اسے جنسی شناخت کا حق دینا، اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواجہ سرا ؤں کے خلاف کوئی فرق نہیں ہوگا. روزگار، بھرتی، فروغ، تعلیم اور دیگر متعلقہ مسائل سے متعلق معاملات میں ان افراد کے لئے فلاح و بہبود کے اقدامات فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا گیا ہے۔کمیٹی کے ارکان نے روزگار، تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں میں Transgender افراد کے لئے کوٹہ مختص کرنے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور صرف اس کی سفارش کی ہے کہ انہیں ان تمام محکموں میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برابر موقع ملے گا. کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ اسلامی نظریہ کونسل سے ان کی رائے اس سلسلے میں لے لی گئی ہے۔ جو اس بل کی سفارشات میں شامل کی گئی ہے۔ خاص طور پر میراث میں خواجہ سرائکی تعریف اور ان کے وراثت میں حصے کے بارے میں تفصیلی سفارشات بھی شامل ہیں۔ آئی آئی سی کی سفارش کے مطابق وراثت میں خواجہ سراکو ان کی ظاہری شکل کے مطابق مرد یا عورت کے برابر حصہ دیا جائے۔ سینیٹاجلاس میں سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہ، سینیٹر کریم احمد خواج، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹرمحسن خان لغاری، سینیٹر مفتی عبد الستار، سینیٹر فرحت اللہ بابر، سینیٹر کریم احمد خواجہ شامل تھے۔

مزید : صفحہ آخر