القدس فلسطین کا ، پوری دنیا کا ٹرمپ کیخلاف فیصلہ

القدس فلسطین کا ، پوری دنیا کا ٹرمپ کیخلاف فیصلہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک+ایجنسیاں) مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کا امریکی فیصلہ مسترد کردیا ،۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی فیصلے کے خلاف یمن اور ترکی کی مشترکہ قرارداد پر ووٹنگ ہو ئی جس میں128 ممالک نے قرارداد کی حمایت اور امریکہ اور اسرائیل سمیت 9 ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ 35 ممالک نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔تفصیلات کے مطابق القدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں یمن اور ترکی جانب سے امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی گئی، اس قرارداد پر ہنگامی اجلاس میں ووٹنگ کرائی گئی جس میں اقوام متحدہ کے128رکن ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت9ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی، اس ہنگامی اجلاس میں35ممالک نے شرکت نہیں کی۔ جن نو ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے ان میں امریکہ، اسرائیل، گوئٹے مالا، ہونڈراس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو شامل ہیں۔اس رائے شماری میں حصہ 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا جن میں کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ایران، پاکستان اور امریکہ کے اہم اتحادی مسلم ممالک شامل ہیں۔ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ فلسطین کے لوگوں کی آخری امید ہے ٹرمپ کا فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے، امریکہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا برائے فروخت نہیں ، فلسطینی عوام کی قانونی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ سیکیورٹی کونسل میں قراردادکوویٹوکرناامریکا کی بڑی غلطی تھی، اس طرح کے رویے سے قیام امن کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ فلسطینیوں کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی حصہ ہے اور پاکستان فلسطینیوں کیساتھ کھڑا ہے، پاکستانی حکومت اور عوام فلسطینی عوام کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں بھوکے افراد کو خوراک اورکپڑے دیتے ہیں ، امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈز دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ1995ء کے قانون کے تحت کیا گیا ہے اور امریکی مفادات کے تحت کیا گیا ہے، اس فیصلے سے قیام امن کے پالیسیوں کو خطرہ پیدا نہیں ہوگا، دنیا کے کئی ممالک امریکی مداخلت ہی کی بدولت اپنے مسائل حل کرتے ہیں اور اس قرارداد کے ذریعے امریکہ کی توہین کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری بھی امریکہ کو اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امریکاکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ، ٹرمپ کے فیصلے کے بعدامریکاثالث کی حیثیت کھوچکاہے۔ امریکی فیصلے سے قبل سلامتی کونسل میں امریکا نے قراردادویٹو کردی تھی جبکہ سلامتی کونسل کے15میں سے 14ارکان نے قراردادکی حمایت کی تھی۔جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب کا کہناتھا کہ اسرائیل نہتے فلسطنیوں کو خون میں نہلارہا ہے جبکہ ان مظالم میں امریکہ اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے، امریکہ نے اس سے قبل40مرتبہ اسرائیل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ فلسطین تمام مسلمانوں اور امن پسند لوگوں کے دل و دماغ میں بستے ہیں۔ ایران اس مشکل وقت میں فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی مندوب کا کہنا تھا کہ یہودیوں کی مقدس کتاب بائبل میں القدس کا تذکرہ600سے زائد مرتبہ آیا ہے، یروشلم اسرائیلی تاریخ کا حصہ ہے۔جنیوا کی قرارداد اور اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد ہمیں یروشلم کے مطالبے سے پیچھے نہیں کر سکتی،آپ لوگ اندھے ہیں اور فلسطینیوں کی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ تمام لوگ فلسطینیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسرائیل پر حملے اور دیگر معاملات پر اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔عرب ممالک نے کئی مرتبہ اسرائیل کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی شہریوں پر میزائیل حملے ہوئے، ہماری گلیوں کو خون میں نہلایا گیا مگر اقوام متحدہ اس موقعے پر خاموش رہا۔جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی ہے وہ دہشت گردوں کے سپانسر ہیں۔ یمن القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے مگر اقوام متحدہ اس کے حوالے سے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ آج کی قرارداد تاریخ میں ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وینزیویلا کے صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کا دو ملکی حل نکالنا ہوگا اور اسرائیلی فورسز کو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں تک محدود کرنا ہوگا ، ہم فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حل پیش کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ کہ القدس کو فلسطین کا دارلحکومت قرار دیا جائے۔

مزید : صفحہ اول