ملتان، ماتحت عدالتیں جوڈیشل کمپلیکس سے دوبارہ پرانی کچہری منتقل کی جائیں: سپریم کورٹ کا حکم

ملتان، ماتحت عدالتیں جوڈیشل کمپلیکس سے دوبارہ پرانی کچہری منتقل کی جائیں: ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے ملتان کی ماتحت عدالتوں کوجوڈیشل کمپلیکس سے دوبارہ پرانی کچہری منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔چیف جسٹس نے اس سلسلے میں جوڈیشل کمپلیکس کی تکمیل سے متعلق غلط بیانی اور رپورٹ پیش کرنے کا رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے قرار دیا کہ ملتان کے معاملے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے غلط رپورٹ پیش کی، چیف جسٹس نے سید خورشید انور رضوی کی سرزنش کرتے ہوئے ملتان کی ماتحت عدالتوں کو 10روز میں پرانی کچہری میں منتقل کرنے اور 3ماہ میں نئے جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات مکمل کرنے کاحکم دے دیا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ، مسٹر جسٹس عمر عطا ء بندیال، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات کی عدم فراہمی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی تو رجسٹرار ہائیکورٹ خورشید انور رضوی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے معاملے کی وضاحت کرنے کی اجازت چاہی تو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ آپ کو اتنی ہی اجازت ملے گی جتنی عدالت اجازت دینا چاہے گی ، ہم وضاحتیں سننے کے لئے نہیں بیٹھے ، پہلے یہ بتائیں کہ آپ کو اتنی عجلت میں ملتان کی عدالتیں نئے جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی، چیف جسٹس نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سید خورشید انور رضوی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے رات کو مجھے غلط رپورٹ دی کہ ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کو تمام سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں، سیشن جج ملتان نے بھی غلط بیانی نے کام لیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے جوڈیشل کمپلیکس کے اوپر سے گزرنے والی تاروں کی کپیسٹی کا اندازہ لگوایا ہے ؟ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ نہیں ، جس پر چیف جسٹس برہم ہوئے اور ریمارکس دیئے کہ کیوں ؟ آپ کی آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا؟ نئے جوڈیشل کمپلیکس میں کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، مجھے اپنے کانوائے کے ساتھ وہاں پہنچنے میں 20 منٹ لگے تو عام وکلاء اور سائلین کا کیا حال ہو گا، کھیتوں میں جاکر جوڈیشل کمپلیکس بنا دیا ہے ،جہاں پر وکلا ء کے لئے نہ کینٹین ہے نہ بار روم اور نہ وکلا ء اور سائلین کے بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ ہے، فاضل عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا قصور نہیں ،رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ خورشید انور رضوی نے ملتان جوڈیشل کمپلیکس کے معاملہ پر غلط رپورٹ پیش کی، سیشن جج ملتان نے بھی غلط بیانی کی ہے، چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملتان کے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں کہیں پودے نہیں لگے، بارش ہوجائے تو وکلا ء کے بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں، میں حیران ہوں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، تین رکنی بنچ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملتان کی نئے جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کی گئی تمام عدالتیں تعطیلات کے دوران 10روز میں واپس پرانی بلڈنگ میں منتقل کی جائیں، عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملتان کے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں 3ماہ کے اندر سہولیات کے فقدان کو مکمل کیا جائے اور ملتان کچہری میں حال ہی میں منتقل کی گئی خصوصی عدالتیں ملتان کے نئے جوڈیشل کمپلیکس میں منتقل کی جائیں۔

مزید : صفحہ آخر